خبریں/تبصرے

آٹے کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف آج ”پونچھ بند“ ہو گا، گرفتاریاں شروع

راولاکوٹ (حارث قدیر) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں آٹا کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تحریک کے سلسلہ میں آج پونچھ ڈویژن بھر میں پہیہ جام، شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اسلام آباد سے پونچھ ڈویژن کو ملانے والے تمام راستوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ’پونچھ بند‘کی کال دی گئی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ نے احتجاج سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اناؤنسمنٹ کرنے والے کارکنوں کی گرفتاریوں اور گاڑیاں ضبط کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اس سلسلہ میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایڈیٹر عزم التمش تصدق کو تین ساتھیوں سمیت راولاکوٹ شہر سے گرفتار کیا گیا اور رات گئے رہا کیا گیا۔ ضلع باغ سے سائرس خلیل، عابدشاہین، الیاس کشمیری، عاشر شجاع، تیمور خان اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام 13 جنوری کو پونچھ ڈویژن بھر کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں اور شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے اس کے علاوہ پونچھ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی تمام مرکزی شاہراہوں کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام اس احتجاج کی آل آزادکشمیر انجمن تاجران، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت سیاسی و سماجی تنظیموں اور جماعتوں نے حمایت کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے آٹے کی قیمتوں میں دو الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 500 روپے فی من اضافہ کر لیا تھا جس کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز دسمبر سے ہی کر لیا گیا تھا۔ حکومت نے عوامی احتجاج کے بعد آٹے کی قیمتوں میں 200 روپے فی من کمی کرنے کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی آٹے کی ایلوکیشن 50 فیصد کم کرنے کے علاوہ کشمیری شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد آٹا فراہم کئے جانے کی پابندی عائد کر دی گئی۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتی فیصلوں کے بعد 13 جنوری کو مکمل ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کر دیا تھا۔ آج پورے پونچھ ڈویژن میں احتجاجی مظاہرے، جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کیلئے پونچھ ڈویژن بھر کی پولیس کے علاوہ دیگر اضلاع سے دس پلٹون ریزرو اور رینجرز پولیس کو بھی طلب کر لیا ہے۔