تاریخ

میں اور منٹو

ٹونی عثمان

منٹو کے نام سے میں انہیں پڑھنے سے پہلے ہی واقف تھا۔ گھر میں پروگریسو ماحول تھا اور اپنے بڑے بھائیوں سے اکثر گورکی، ٹالسٹائی، منٹو اور مارکس کے تعلق کچھ سننے کوملتا رہتا تھا۔ انتہائی کم عمری میں میں نے منٹو کی تحریریں پڑھیں ضرور مگر میں منٹو کا مداح نہ بن سکا۔ وقت گزرتا گیا اور میں 1984ءمیں اوسلو سے بمبئی آشاچندرا سے اداکاری سیکھنے چلا گیا۔ اداکاری کی تربیت کے بعد واپس ناروے پہنچ کر تقریباً 3 سال جدوجہد کرنے کے بعد ٹی وی اورتھیٹر پرکام ملنا شروع ہو گیا۔ ساتھ ہی کہانی کی اہمیت اور کہانی کادرست زاویہ سمجھنے کا شعوربھی پیدا ہوا لہٰذا میں نے منٹو کو دوبارہ دریافت کرناشروع کیا۔ افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ نے مجھ پر بہت گہرا اثر کیا اور میں نے اسے تھیٹر کی شکل میں نارویجن زبان میں پیش کرنے کی ٹھان لی۔

تحقیقی کام کے لیے منٹو کی بہت ساری تحریریں پڑھیں اور منٹو کی زندگی کے متعلق بھی جانکاری حاصل کی۔ منٹو کی تحریروں میں بمبئی، دہلی اور لاہور کا ذکر ملتا ہے لہٰذا ان تینوں شہروں کے دورے کئے۔ دہلی سے پی آئی اے کی فلائٹ سے جب لاہور جا رہا تھا تو جہاز میں قتیل شفائی سے ملاقات ہوئی جو دہلی میں ایک مشاعرہ میں اپنا کلام سنانے کے بعد لاہور جا رہے تھے۔

لاہور میں میں واہگہ بارڈر بھی دیکھنا چاہتا تھا اورمنٹو کی قبر بھی۔ ایک دن مصنف قمر یورش، مارکسسٹ رہنما فاروق طارق اور میں ایک رکشہ لے کر میانی صاحب قبرستان پہنچے۔ اب منٹو کی قبر ڈھونڈنے کا ایک مشکل مرحلہ شروع ہوا۔ ایک ماشکی سے جب پوچھا تو پتہ چلا کہ اسے منٹو کے بارے کچھ معلوم نہیں مگر اُس نے دوتین مشہور بدمعاشوں کی قبروں کاہمیں بتا دیا۔ خیر کافی تلاش کے بعد ہم منٹو کی قبر تک پہنچ ہی گئے۔ اردو کے عظیم افسانہ نگار کی قبر کو اتنی مشکل سے ڈھونڈنے کایہ واقعہ میں نے 2011ءمیں ایک کھیل میں شامل کیا۔

میں نے جب قبر پر لگا کتبہ پڑھا تو مجھے بہت الجھن ہوئی کیونکہ یہ وہ کتبہ نہیں تھا جسے منٹو نے خود اپنی موت سے 6 مہینے پہلے لکھا تھا۔ دور درشن پر میں نے ادیب خوشونت سنگھ کا انٹرویو دیکھا تھاجس میں انہوں نے منٹو کے اپنے لکھے ہوئے کتبے کابتایا تھا اور مجھے کتبہ کی عبارت یاد تھی اس لیے میں فوراً سمجھ گیا تھا کہ یہ وہ کتبہ نہیں۔

ناروے واپس آ کر ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کو اسٹیج پر پیش کرنے کے سلسلے میں منصوبہ بندی کے کام کو متحرک کر دیا۔ ناروے میں اس طرح کا کام پہلی دفعہ ہونے جا رہا تھا اس لیے میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے مختلف زاویوں سے دیکھنااور پرکھنا چاہتا تھا لہٰذا میں نے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا نارویجن زبان میں ترجمہ کر کے دوتین نارویجن دوستوں کوپڑھنے کے لیے دیا۔

جب اُن سے مثبت رد عمل ملا تو میں نے تھیٹر کے معروف ہدایت کار پھول ائیورلاند کو پڑھنے کے لیے دیا۔ انہوں نے پڑھنے کے بعد افسانہ کے متعلق بہت مثبت رائے دی اور کہا کہ منٹو کا انداز روس کے ا دیب چیخوف جیسا ہے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ وہ ایسی عالمی معیار کی کہانی پر مبنی ڈرامہ کی ہدایات دینا پسند کریں گے۔ پھول کی باتوں سے میرا اس معاملے میں یقین پختہ ہو گیا کہ یہ کہانی محض برصغیر کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ یہ ایک کثیرالثقافتی عالمی کہانی ہے۔

1954ءمیں اردو میں لکھی گئی محض سات صفوں پرمشتمل یہ کہانی 1998ءمیں سات کرداروں پر مشتمل ڈیڑھ گھنٹہ کے دورانیہ کے نارویجن زبان کے ڈرامہ میں کونورٹ (Convert) ہو گئی۔ یہ اس کہانی کا عالمی پن دکھاتا ہے۔ انسانوں کی نفسیات اور شناخت کی اہمیت کے متعلق یہ ایک بہترین دستاویز ہے اور تہہ دار ہونے کی وجہ سے آپ کو ہر سطر میں ایک نئی کہانی اور نیاکردار مل جاتاہے۔

مثال کے طورپر منٹو نے لکھا ہے ”بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں“۔ اس سے متاثر ہو کر ہم نے ”اکبر علی“ کے نام سے ایک اہم کردار تخلیق کیا جسے میرے اداکار دوست نعیم اعظم نے بڑی خوبی سے نبھایا۔ ایک قاتل ہونے کے باوجود اکبر علی کے دِل میں کچھ انسانیت باقی ہوتی ہے اور وہ بشن سنگھ کا پکا دوست بن جاتا ہے۔ اس کامشن ہے کہ موقع ملتے ہی وہ بشن سنگھ کوساتھ لے کر پاگل خانے سے بھاگ جائے۔

کہانی کاتہہ دار ہونے کا ایک اور نتیجہ وکیلوں کی طرز کا کالاکوٹ پہننے اور ہر وقت ریڈیو سننے والے کردار ”اقبال“ کی صورت میں نکلا۔ منٹو نے لکھا ”ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے بالکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتاتھا۔“ منٹو تھوڑا آگے لکھتے ہیں ”لاہور کا ایک نوجوان ہندووکیل تھا جومحبت میں ناکام ہو کر پاگل ہوگیا تھا“۔ ہم نے ریڈیوانجینئر اور ہندو وکیل کو ایک ہی کردار ”اقبال“ میں سمو دیا۔

یہ کردار دوسرے پاگلوں کو ہندوستان کی تقسیم کانقشہ بنانے والے انگریز ریڈکلف کے متعلق بتاتا اور کے ایل سہگل کا گانا ”جب دِل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے“ گنگناتا رہتا۔ یہ کردار میرے بہت ہی پیارے دوست ،عظیم فنکار داﺅد مرزا (مرحوم) نے ادا کیا اور شائقین اور ناقدین سے خوب داد حاصل کی۔

منٹو نے مرکزی کردار بشن سنگھ کے ذریعے شناخت کے موضوع کو جس نفسیاتی گہرائی سے چھیڑا ہے وہ تارکین وطن کو خاص طورپر اپیل کرتا ہے۔ بشن سنگھ اپنی شناخت کھو جانے سے پریشان ہے کیونکہ اس کی شناخت نہ پاکستانی ہے اور نہ ہندوستانی بلکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک شہری کی ہے۔

’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، شناخت اور تارکین وطن

تارکین وطن کو اکثر شناخت کے موضوع کا سامنا رہتا ہے اس لیے یہ کردار جوکہ میں نے نبھایا تھا تارکین وطن کی توجہ کا مرکز بنا۔ منٹو نے بشن سنگھ کے متعلق لکھا ہے ”دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سویا۔ ”لیٹا بھی نہیں تھا“ لہٰذا میں سارے ڈرامے میں اسٹیج پر لگے لاہور پاگل خانہ کے سیٹ پرایک ہی جگہ کھڑا رہتا ہوں۔

یوں نفسیاتی کشمکش سے بھرپور یہ کردار ادا کرتے وقت میری نفسیاتی مشقت تو ہو رہی تھی مگر جسمانی مشقت بھی بہت ہوئی اورمیری ٹانگیں سوجھ گئیں۔ ہم نے پاکستان اور بھارت کے سفارتخانوں کو مدعو کیا تھا۔ ان دنوں پاکستان کے سفیر معروف ادیب عطا الحق قاسمی تھے، انہوں نے دعوت نامے کاجواب تک نہ دیا۔

بھارت کے سفیر اُس وقت ملک سے باہرتھے مگر انہوں نے سفارتی آداب کاخیال رکھتے ہوئے سفارتخانہ کے دو نمائندے ڈرامہ دیکھنے کے لئے بھیجے۔ اس کھیل کو نارویجن شائقین نے بھی پسند کیا اور پاکستان و بھارت سے تعلق رکھنے والے شائقین نے بھی پسند کیا۔ بائیں بازو کے معروف روزنامہ ”کھلاسے کھامپن“ [طبقاتی جدوجہد] نے اس کھیل بارے اپنے ریویو میں لکھا: ”ناروے کے لوگوں کو اپناذہنی افق وسیع کرنے کے لئے اس قسم کے کھیل ضرور دیکھنے چاہئیں۔“

’مزدور جدوجہد‘ کا منٹو نمبر

یہ کامیاب آرٹسٹک تجربہ مجھے منٹو کے مزید قریب لے آیا۔ جنوری 2005ءمیں منٹو کی پچاسویں برسی تھی۔ اس سلسلے میں ہفتہ روزہ ’مزدورجدوجہد‘ کے منٹو نمبر کی تیاری کے لئے میں نے لاہور میں ایک مہینہ قیام کیا اور منٹو کے متعلق مزید تحقیق کی۔

ایک دِن میں نے اپنے دوست صحافی وقار گیلانی (دی نیوز) کےساتھ منٹو کی سب سے بڑی بیٹی نگہت پٹیل سے منٹو کے گھرلکشمی مینشن میں ملاقات کی۔ میں نے اُن سے منٹو کی قبر پر لگے کتبے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ قبرپر وہ کتبہ نہیں جومنٹو نے خود لکھا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ انکی پھوپھی یعنی منٹو کی ہمشیرہ مذہبی تھیں، انہوں نے وہ کتبہ وہاں نہیں لگوایا تھا۔ میرے پوچھنے پرانہوں نے بتایاکہ انہیں منٹو کے وہ افسانے زیادہ پسند ہیں جن پر مقدمے چلے تھے۔ تحقیق کے سلسلے میں ایک دن میں اور مزدور جدوجہد کے مدیر رضوان عطا منٹو کی سالی ذکیہ حامد جلال سے ملنے اُن کے گھر ماڈل ٹاﺅن پہنچے۔ انہوں نے بتایاکہ منٹو جب بمبئی سے پاکستان آئے تو وہ بہت اَپ سیٹ تھے کیونکہ وہ ناانصافی، استحصال اور منافقت کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔

منٹو نمبر کا کام مکمل کرنے کے بعد میں ناروے واپس آ گیا۔ پھر ایک دِن میری زندگی میں ایک افسوس ناک حادثہ ہوا جس نے مجھے اتنا جھنجھوڑا کہ میں ایک سال تک ماہر نفسیات کے پاس تھیراپی کے لیے جاتا رہا۔ انہی دِنوں میں پاکستان بھی گیا اور لاہور میں معروف ماہر نفسیات میکس بابری سے بھی تھیراپی کروائی۔ ساتھ ہی میں منٹو کوبڑے شوق سے پڑھے جا رہا تھا اور ان کی تحریریں میرے لیے تھیراپی کا کام کر رہی تھیں۔ یوں میرے لئے یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ منٹو نہ صرف ایک عالمی ادیب ہیں بلکہ وہ معاشرے کی نفسیات کوسمجھنے میں راہنمائی بھی کرتے ہیں۔

منٹو نے دسمبر 1951ءسے لے کر اپریل 1954ءتک کے عرصہ میں چچا سام کے نام 9 خطوط لکھے۔ میں نے اپنی تھیراپی کو مزیدمتحرک کرنے کے لئے ان خطوط، افسانہ ’ٹھنڈا گوشت ‘اور ریڈیائی ڈرامہ’ خود کشی‘ کا نارویجن زبان میں ترجمہ کر دِیا۔

’چچا سام کے نام خط‘ نارویجن میں

میں نے محسوس کیا کہ چچا سام کے نام خطوط نہ صرف منٹو کے فن کا ایک مختلف رخ دکھاتے ہیں بلکہ یہ ایک ایسی سیاسی دستاویز بھی ہیں جو بین الاقوامی سیاسی پس منظر کو سمجھنے میں مددگار ہیں لہٰذا مجھے اسے بھی ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کی طرح نارویجن زبان میں تھیٹر پر پیش کرنے کی سوجھی۔

میں نے خطوط کا نارویجن ترجمہ اپنے بہت ہی پیارے دوست ڈرامہ نویس کھریستیان ستر عمسکاگ کو پڑھنے کے لئے دِیا۔ کھریستیان کو منٹو کا طنز و مزاح کے انداز میں سامراج کو بے نقاب کرنا اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے ڈرامہ کا سکرپٹ لکھنے کی حامی بھر لی۔ ایک گھنٹہ دس منٹ کے دورانیہ کے اس ڈرامے کو پھول ایﺅرلاند کی ہدایات میں نومبر 2011ءمیں پیش کر دیا گیا۔ اس میں ایک ہی کردار تھا جو میں نے ادا کیا۔

کہانی کی شروعات کچھ یوں کی گئی کہ ناروے میں مقیم ایک پاکستانی ’فاروق‘ منٹو کا بہت بڑا مداح ہے اوراس کے ذہن میں منٹو کی تحریروں کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک دن وہ ناروے میں عیش و آرام کی زندگی چھوڑ کر اپنا سب کچھ بیچ کر پاکستان پہنچ جاتا ہے۔ لاہور ائیر پورٹ سے ٹیکسی لے کر وہ سیدھا میانی صاحب پہنچتا ہے۔ منٹوکی قبر ڈھونڈنا اس کے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا میرے لیے تھا جب میں پہلی دفعہ منٹو کی قبر پر گیا تھا۔ سارے ڈرامے میں یہ کردار منٹو کی قبر سے ایسے مخاطب ہوتاہے جیسے کسی زندہ انسان سے باتیں کی جاتی ہیں۔

منٹو نے خطوط میں پاکستان کے حالات کی عکاسی اپریل 1954ءتک کی ہے جبکہ ہم نے ڈرامہ میں 2011ءتک کی سیاسی تاریخ پیش کی اور پاکستان کے چاروں فوجی آمر، جو امریکہ کو بہت پسند تھے، کا تفصیلی تعارف بھی کروایا۔ منٹو کا چھٹا خط بہت ہی مختصر تھا۔ اس میں انہوں نے صرف یہ لکھا تھا:

”چچا جان!
آداب و تسلیمات
یہ میرا چھٹا خط تھا۔ میں نے خود پوسٹ کرایا تھا، حیرت ہے، کہاں گم ہو گیا“۔

ہم نے اس کی ڈرامہ میں اس طرح تشریح کی کہ ڈرامہ کا اکلوتا کردار منٹو [کی قبر] سے یوں مخاطب ہوتا ہے:

”یہ ایک مختصر خط تھا۔ اگرچہ یہ مختصر ہی تھا، لیکن آپ نے جو لکھا اُسے سمجھنے کے لیے مجھے کئی بار پڑھنا پڑا۔ آ پکوکیا لگتا ہے اس کے پیچھے پاکستانی انٹیلی جنس تھی؟ آئی ایس آئی والے عجیب و غریب چیزیں غائب کردیتے ہیں۔ خط، پیسے، مکان، ہوائی جہاز، کاریں یہاں تک کہ اِنسان بھی غائب کردیئے جاتے ہیں۔ بعض انسان تو دوبارہ مل نہیں پاتے، غائب ہی رہتے ہیں۔ آپ کے خط کی طرح۔“

ڈرامہ کے آخر میں یہ کردار (فاروق) چچا سام یعنی امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے ”تم چچا…ہاں تم نے ٹھیک سنا میں نے تم کہا آپ نہیں۔ میں اَب اپنے آپ کو مکمل انسان محسوس کررہا ہوں اس لیے اب مجھ سے تمہاری عزت نہیں ہوسکتی اور ویسے بھی تم ہماری کونسی عزت کرتے ہو۔ بس تدریسی بنے رہتے ہو۔ بس اب بہت ہوگیا۔ اب ہم تمہارے جنگ، جنگ کے کھیل میں شامل نہیں ہو سکتے۔ تم دوسروں کی سرزمین پر جا کر کیوں جنگ کا کھیل کھیلتے ہو؟ اگر تمہیں اس کھیل کااتنا ہی شوق ہے تو اس کھیل کو اپنی سرزمین پرکھیلو۔ تم جو چاہو کرو مگرہم سے دفعہ دور ہو جاﺅ۔ سن رہے ہو تم؟“

ڈرامہ کے پریمئیر شو پر ناروے میں پاکستان کے سفیر اشتیاق اندرابی موجود تھے۔ شو کے فوراً بعد وہ مجھے ملے اور میری حوصلہ افزائی کی۔ ان دنوں اتفاق سے بائیں بازو کے معروف دانشور، صحافی اور ابلاغیات کے پروفیسر مہدی حسن ناروے میں تھے۔

ایک دن ان کے میزبان انہیں شو پر لائے۔ انہوں نے بھی ڈرامہ دیکھنے کے بعد میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اس کااردو ترجمہ کر کے اسے پاکستان میں پیش کروں۔

تھیٹر کی معروف نقاد ایدا لُو لارشن نے ریویو میں لکھا ”ٹونی عثمان امریکہ کی بین الاقوامی پالیسی کے بارے میں متعدد اہم اور آگ کے شعلوں جیسے خطرناک سوالات کرتے ہوئے ایک معیاری تفریح سے بھرپور معلوماتی ڈرامہ پیش کرتے ہیں۔ آرٹ کے اس ذخیرے کو کالجوں کے ٹور پربھیجا جاناچاہیے تاکہ طلبہ کو بین الاقوامی سیاسی پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔“

منٹو نارویجن تھیٹر سے نارویجن اسکرین تک

منٹو کو نارویجن زبان میں تھیٹر پرپیش کرنے کا دوسرا تجربہ بھی کامیاب رہا تو میرے دِل میں منٹو کو فلمی سکرین پر لانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے جب فلم ڈائریکشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کالج میں داخلہ لیا تو فرسٹ ائیر میں پہلے امتحان کے لیے میں نے منٹو کی تحریر کا انتخاب کیا۔ امتحان کے پرچے کے مطابق ایک پانچ منٹ کے دورانیہ کی فلم بنانا تھی اوراس کی تیاری اور تکمیل ایک پروفیشنل فیچر فلم جیسی کرناتھی۔

منٹو کا آڈیو کھیل یعنی ریڈیائی ڈرامہ ”خود کشی“ جس کا نارویجن میں ترجمہ میں پہلے ہی کر چکا تھا، سے بنیادی خیال لے کر فلم کا سکرپٹ لکھا۔ ڈرامہ میں یہ ایک بھتیجی اور اس کے چچا کی کہانی ہے۔ چچا کو ہر وقت یہ فکر رہتی ہے کہ لوگ اس کے متعلق کیا سوچتے ہیں۔ میں نے ایک ایسے جوڑے کی کہانی بنادی جو کیرئیر اورمادی ضروریات پوری کرنے کی ریس میں ایسا مگن ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنابھول جاتے ہیں اور صرف سوشل میڈیا پر اپنی امیج کی فکر کرتے ہیں۔ میرے ٹیچرز کافی حیران تھے کیونکہ ان کے خیال میں مجھے زبردستی کی شادی یا تارکین وطن سے منسلک کسی اورموضوع پر فلم بنانی چاہیے تھی مگر میرا فیصلہ ان کی توقعات کے برعکس تھا۔ بہرحال فلم کی سکریننگ کے فوراً بعد میرے ایک ٹیچر نے کہا کہ یہ فلم معیاری تفریح سے بھرپور ہے۔ میں سمجھ گیا کہ منٹو نے ایک بار پھر کلاسیک اور عالمی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

جب میں تھرڈ ائیر پہنچا تو بیچلر ڈگری کے امتحان کے لئے پھر میں نے منٹو کی تحریر کا انتخاب کیا۔ اب کی بار ہم نے 20 منٹ کے دورانیہ کی فلم بنانا تھی۔ میں نے ”ٹھنڈا گوشت“ پر مبنی فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس بار میں منٹو کے عالمی پن کو ایک اورپیمانے سے پرکھنا چاہتا تھا لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ فلم اردو میں بنائی جائے اور اس کی ساری شوٹنگ ناروے میں کی جائے مگر ایسے مقامات پر جوپہچانے نہ جاسکیں اورنہ ہی فلم میں کسی ملک شہریامذہب کا نام استعمال کیاجائے۔

سکرپٹ جب میں نے تیار کرلیا تو ڈائیلاگ میں نے اپنے بہت ہی محترم دوست صحافی اور ’کاروان‘ کے مدیر سید مجاہد علی سے لکھوائے۔ کاسٹ کامرحلہ کافی مشکل تھا۔ میں پاکستان سے پروفیشنل اداکار لیناچاہتا تھا مگر بات نہ بن سکی۔ پھربھارتی اداکار عرفان خان (مرحوم) سے رابطہ کیا مگر ان کے منیجر نے بتایا کہ جو تاریخیں مجھے درکار تھیں تب وہ مصروف تھے۔ پھر میں نے ہیروئن کے رول کے لئے لندن سے سندیپ گریچا اور ہیرو کے لیے اوسلو سے پاپ سنگر اسحار عظمت کو کاسٹ کیا۔

میرے ٹیچرز جنہیں اس بات کاا فسوس تھا کہ میں نے فلم کاموضوع ان کی توقعات کے برعکس چناہے، میرے لیے کچھ خاص مددگار ثابت نہیں ہورہے تھے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے مجھے صاف کہہ دیا کہ یہ منصوبہ ناممکن سالگتاہے، اس لیے کوئی اور موضوع تلاش کرو۔ میں نے بھی صاف کہہ دیا کہ اگر میں منٹو کی کہانی پرفلم نہیں بناسکتا تو پھر مجھے آپ کے کالج کی کسی ڈگری سے کوئی دلچسپی نہیں اور میں بیچلر کا امتحان دیئے بغیر یہ کالج چھوڑ دوں گا۔

میرے ٹیچرز کومیرا یہ دوٹوک موقف پسند نہ آیا مگر انہیں یہ سمجھ آگئی کہ منٹو کے معاملے میں میں کوئی مصلحت کرنے کے لئے تیار نہیں۔’ ٹھنڈا گوشت‘ کی کہانی چونکہ رات کے وقت کی ہے لہٰذا میں نے رات کے وقت شوٹنگ کرنےکا فیصلہ کیا۔ میرے ٹیچرز نے کہا میں جان بوجھ کر مشکلات پیدا کر رہاہوں اور مجھے مشورہ دیا کہ میں فلٹر، لائٹس اوربلینڈرز کی مدد سے دِن کو رات میں بدل دوں۔ میں نے کہا کہ میں اداکاروں کے چہروں، آنکھوں، آوازوں اورباڈی لینگویج سے دکھانا چاہتاہوں کہ رات کاوقت ہے۔

اب لوکیشن ڈھونڈنے کاانتہائی مشکل مرحلہ شروع ہوا کیونکہ میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ فلم دیکھنے والوں کویہ پتہ نہ چلے کہ یہ ناروے ہے۔ میری پروڈیوسر جوروس کی تارک وطن تھی، نے اوسلو سے 60 کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک چھوٹے سے شہر میں ایک بند فیکٹری کے مالک سے وہاں شوٹنگ کرنے کی اجازت لے کر فیکٹری میں سیٹ لگوایا۔ ٹیچرز نے ہمیں 10 دِن کے اندر شوٹنگ مکمل کرنے کو کہا۔ میری پروڈیوسر نے ایسا شیڈول تیار کیا کہ ہم نے 9 راتوں میں شوٹنگ مکمل کر لی۔ میوزک کے لئے میں نے اپنے پرانے ساتھی اور کلاسیکل موسیقی کی دنیا کے جانے مانے نام شیری لال کاانتخاب کیا۔ ریکارڈنگ کے لئے کمپوزر اپنے موسیقاروں کے ساتھ اسٹوڈیو میں بیٹھ کر فلم دیکھتے ہوئے سیچویشن کے اعتبار سے میوزک بجاتے جو ہم ساتھ ساتھ ریکارڈ کرتے جاتے۔

فلم کی سکریننگ پر اختتامی تقریر کے لئے میں نے نارویجن پارلیمنٹ کی رُکن ہادیہ تاجک کو دعوت دی۔ انہوں نے تقریر میں کہا کہ جب ٹونی عثمان جیسے لوگ فلم میکر بنیں گے تو نہ صرف ہمیں نئی کہانیاں ملیں گیں بلکہ پرانی کہانیوں کو نئے زاویے سے دیکھنے اور سمجھنے کاموقع بھی ملے گا۔

منٹو کے ”ٹھنڈا گوشت“ پرمبنی ”سرد“ نام کی یہ فلم بعد میں پنسلوانیا کے فلم فیسٹول، لندن کی ’SOAS‘ یونیورسٹی اور لاہور کی بیکن ہاﺅس نیشنل یونیورسٹی میں دکھائی جا چکی ہے۔

منٹو مشاہدہ کرنے میں کمال کی مہارت رکھتے تھے اورہر لحاظ سے وقت سے بہت آگے تھے۔ وہ ہر تحریر ایمانداری اور صاف گوئی سے لکھتے تھے۔ دراصل وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حقیقت سے انحراف کرنے سے ہم بہتر انسان نہیں بن سکتے۔

منٹو کی تحریروں پر کام اور ان پر تحقیق سے میرامنٹو کے ساتھ ایک کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ بن چکا ہے۔ میں ان کی تحریروں کو پھیلانے کا کام جاری رکھوں گا کیونکہ سچائی جانے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہی میرا خراج عقیدت ہے اور یہی میرا اُن حکومتی اہلکاروں سے انتقام ہے جو منٹو کو سچ لکھنے کی سزا دینے کے لیے ان پرمقدمے کرتے تھے۔

Toni Usman

ٹونی عثمان اداکار، ہدایت کار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ ’جدوجہد‘ کے پرانے ساتھی ہیں اور’مزدور جدوجہد‘ کے ادارتی بورڈ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔