خبریں/تبصرے

بھارت نے غریب ممالک کو کورونا ویکسین برآمد کرنے کا آغاز کر دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارتی وزارت برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمسایہ ملک بھوٹان کو انسداد کورونا ویکسین برآمد کرنا شروع کر دی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بہت سے کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک انسداد کورونا ویکسین کا پروگرام شروع کرنے اور کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے دنیا میں سب سے زیادہ ویکسین تیار کرنے والے ملک بھارت پر انحصار کر رہے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے بدھ کے روز اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ”بھارت نے اپنے ہمسایہ اور کلیدی شراکت دار ممالک کو انسداد کورونا ویکسین کی فراہمی شروع کر دی ہے۔“

وزارت نے منگل کے روز کہا کہ ”ویکسین امدادی گرانٹ کے تحت مالدیپ، بنگلہ دیش، نیپال، میانمار اور افریقی ملک سی شیلزکو بھیجی جائیگی جبکہ سری لنکا، افغانستان اور موریشئس ویکسین کیلئے باقاعدہ منظوری کے منتظر ہیں۔“

بھارتی فارماسیوٹیکل الائنس کے مطابق بھارتی کمپنیاں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کیلئے دنیا کی تقریباً نصف ویکسین سپلائی تیار کرتی ہیں۔

بھارت تمام ہمسایہ ممالک میں ویکسین رول آؤٹ میں شامل اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کرے گا۔

بھارت نے رواں ماہ اندرون ملک ہنگامی استعمال کیلئے دو ویکسین کو منظوری دی ہے۔ ایک ویکسین آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرازینیکا سے الائسنس یافتہ ہے اور دوسری ویکسین بھارتی میڈیکل ریسرچ کی سرکاری کونسل کی شراکت میں بھارت بائیوٹیک نے مقامی سطح پر تیار کی ہے۔

بھارت بائیوٹیک نے منگل کے روز کمزور قوت مدافعت اور دیگر طبی امراض بشمول الرجی، بخار یا خون کے عارضے میں مبتلا افراد کو ویکسین استعمال کرنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ ویکسین کا استعمال نہ کریں۔

کمپنی نے کہا کہ ”ویکسین لینے والے افراد کو اپنی طبی حالت، جو دوائیں وہ لے رہے ہیں اور الرجی سے متعلق بتانا چاہیے۔ ویکسین لینے والوں کو ہونے والے شدید الرجک رد عمل میں سانس لینے میں دشواری، چہرے اور گلے میں سوجن، دل کی دھڑکن تیز ہونے، جسم میں کمزوری اور چکر آنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔“

کووکسن نامی بھارتی بائیوٹیک ویکسین اس وقت تنازعہ کی زد میں آگئی جب بھارتی حکومت نے ٹھوس اعداد و شمار کے بغیر اس کے استعمال کی اجازت دی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے چند مہینوں میں کم از کم دو دیگر ویکسین بھارت کے ذریعے سے اختیار کی جائیں گی۔

ابتدا میں بھارت صرف آسٹرزینیکا ویکسین بھیجے گا، جو سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے ذریعے تیار کی گئی ہے، یہ دنیا کی سب سے بڑی ویکسین ساز کمپنی ہے جو کووی شیلڈ کے نام سے موسوم ہے۔

بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اسے جمعرات کو کووی شیلڈ کی 2 ملین خوراکوں کا تحفہ ملنے کی توقع ہے۔ 160 ملین سے زائد کے ملک نے ابھی تک اپنا ویکسین پروگرام شروع نہیں کیا اور مزید 30 ملین خوراکوں کا بھی حکم دیا ہے۔

بھارت میں امریکا کے بعد سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھارت میں ہفتے کے روز ملک گیر مہم شروع ہونے کے بعد 6 لاکھ 31 ہزار 417 سے زائد فرنٹ لائن کارکنوں کو ویکسین لگائی ہے۔

بدھ کے روز دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں 13 ہزار 823 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مجموعی تعداد 10.9 ملین ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ 52 ہزار 718 ہو گئی ہے۔