خبریں/تبصرے

امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو بحال کیا جا سکتا ہے، تبدیل نہیں: جاوید ظریف

واشنگٹن (قیصر عباس) ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے کہاہے کہ ان کا ملک امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کئے گئے ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کریگا لیکن اس کو بحال کرنے کے لئے بات چیت کا آغاز کر سکتا ہے۔

اتوار کو سی این این کے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایاکہ 2015ء میں امریکہ کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو امریکہ ہی نے مسترد کیا تھا، ایران نے نہیں ا ور وہ اب بھی اس کو بحال کرنے میں سنجیدہ ہیں لیکن کسی تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہیں۔

وزیرخارجہ نے انٹرویو میں کہا کہ سابق صدر ٹرمپ کے اقدامات کو دوبارہ زیر بحث لانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی غلطیوں کو دوہرایا جائے اور ایران اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں مذاکرات شروع کرنے کے لئے پیشگی شرائط کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس انٹرویو سے پہلے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنائی نے کہا کہ کسی بھی بات چیت سے پہلے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ادھر امریکہ کے سکیورٹی ایڈوائزر نے بھی شرائط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں مذاکرات سے پہلے ایران کو معاہدے کی شقوق کے خلاف کئے گئے اقدامات کو واپس لینا ہو گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ ایران نے بات چیت کے لئے جس محدود وقت کا عندیہ دیا ہے اس کا کیا مطلب ہے، انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق ایران 21 فروری تک معاہدے کا پابند ہے لیکن یہ دروازہ کھلا ہے اور ہم اس پر بات چیت کر سکتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کوا پنے بلاسٹک میزائل کے پروگرام کو ختم کرنا ہو گا۔ اس مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایٹمی معاہدے کے مطابق ایران میں بلاسٹک میزائل بنانے پر پابندی کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو جنگی سامان کی فراہمی پر عارضی پابندی ایک اچھی پیش رفت ہے۔ جاوید ظریف کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خطے کی سکیورٹی کو خرید نہیں سکتے۔ انہوں نے پہلے صدام حسین سے اور پھر ٹرمپ سے اپنی علاقائی سکیورٹی کو خریدنے کی کوشش کی لیکن ان ملکوں نے انہیں لوٹنے کے علاوہ کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اعلان کیاکہ ”مشرق وسطیٰ کا مسئلہ ایک علاقائی مسئلہ ہے جس کا حل بھی علاقائی ہے اور اسے کوئی بیرونی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔“