خبریں/تبصرے

کراچی رہائش کیلئے دنیا کا چھٹا بدترین شہر قرار دیدیا گیا

راولا کوٹ (نامہ نگار) اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے قابل رہائش شہروں کے سالانہ انڈیکس میں کراچی آخری 10 شہروں کی فہرست میں شامل ہے۔

ای آئی یو نے ہر سال کی طرح رواں سال بھی 140 شہروں کی فہرست شائع کی ہے۔ یہ فہرست دنیا کے مختلف ممالک کے شہروں میں رہن سہن، جرائم کی شرح، ٹرانسپورٹ، ماحول، انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کی سہولیات کے علاوہ سیاسی و معاشی استحکام کی پوائنٹس کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے۔

رواں سال کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر کراچی دنیا میں قابل رہائش شہروں کی فہرست میں 134 ویں نمبر پررکھا گیا ہے جبکہ پہلے 10 قابل رہائش شہروں میں پاکستان کا کوئی شہر شامل نہیں ہے۔

گزشتہ برس یہ فہرست جاری نہیں کی گئی تھی، 2019ء کی سالانہ رپورٹ میں کراچی کا نمبر 136 واں تھا۔

کراچی کے بعدجن شہروں کی بدترین رینکنگ رہی ہے ان میں لیبیا کا شہر تریپولی، الجزائر کا دارالحکومت الجزائر سٹی، بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکا، پاپوا نیو گنی کا شہر پورٹ مورسبے، نائیجریا کا شہر لاگوس اور شام کا شہر دمشق بالترتیب 135 سے 140 نمبر پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی کو استحکام میں 20، صحت عامہ میں 33.3، ثقافت اور ماحولیات میں 33.33، تعلیم میں 58.3 اور انفراسٹرکچر میں 51.8 پوائنٹس دیئے گئے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کے بعد قابل رہائش شہروں کی درجہ بندی میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں اور پہلی مرتبہ نیوزی لینڈ کا شہر آک لینڈ پہلے نمبر پر رہا ہے، 2018ء اور 2019ء کی فہرست میں آسٹریا کا دارالحکومت ویانا پہلے نمبر پر رہا تھا۔ تاہم اس مرتبہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان اور سوئٹزر لینڈ کے شہر پہلے نمبروں پر موجود ہیں۔

فہرست کے مطابق نیوزی لینڈ کا شہر آک لینڈ پہلے، جاپانی شہر اوساکا دوسرے، آسٹریلیائی شہر ایڈیلیڈ تیسرے، نیوزی لینڈ کا شہر ویلنگٹن چوتھے، جاپانی دارالحکومت ٹوکیو پانچویں، آسٹریلیا کا شہر پرتھ چھٹے، سوئٹزلینڈ کے شہر زیورخ اور جنیوا ساتویں اور آٹھویں، آسٹریلیا کے شہر میلبورن اور برسبین نویں اور دسویں نمبر پر رہے ہیں۔

ای آئی یو کے مطابق وبا نے عالمی سطح پر رہائش کے قابل ماحول پر بہت زیادہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ دنیا بھر کے شہر اب پہلے کے مقابلے میں کم قابل رہائش ہو چکے ہیں اور یورپ خاص طور پر اس سے متاثر ہوا ہے۔