پاکستان, خبریں/تبصرے

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے: علی وزیر

علی وزیر کا جنرل قمر جاوید باجوہ کو کھلا خط

4 جولائی 2021ء، کراچی سنٹرل جیل

تاریخ میری سچائی ثابت کرے گی!

مجھے سات ماہ کی قید کے بعد پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں شرکت کے لئے عارضی رہائی دی گئی۔ اِس دوران مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ آپ نے مبینہ طور پر گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے اراکین کو” قومی سلامتی” پر اِن کیمرہ بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ اگر میں آپ سے معافی مانگوں، تو تب ہی مجھے رہائی ملے گی!
 
کیا یہ آئین کی کھل کھلا خلاف ورزی نہیں ہے کہ آپ ایک ایسے ادارے کے سربراہ ہیں جو کہ صرف ایک حکومتی و زارت کا ایک ذیلی ادارہ ہے،اور جن کو شہریوں کے ٹیکس اور قومی خزانے سے تنخوا دی جاتی ہے، وہ نہ صرف سیاسی و عدالتی معاملات میں مدا اخلت کرتے ہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بھی کنٹرول کرتے ہیں اور فیصلوں پہ اثر انداز ہوتے ہیں؟
 
پہلی بات تو یہ ہے کہ آ پ کا مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنا ہی اِس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ اس ملک میں حکمرانی، جزا و سزا کا اختیار کس کے پاس ہے؟، اور کون مجھے بار بار زندانوں میں ڈالتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ، آپ کا یہ مطالبہ قطعا َغیر جمہوری، غیر آئینی، اورغیر قانونی ہے۔ جمہوریت میں حاکمیت اعلیٰ جمہور اور ُان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے، وہ ہی آئین کے خالق ہوتے ہیں۔ لہذا آئین، ریاستی اداروں اور پالیسیوں پر تنقید ی سوالات اٹھانا، ظلم اور جبر کے خلاف احتجاج کرنا، اور ریاستی نظام اور پالیسیاں بدلنے کا آئینی حق صرف اُنہی کے پاس ہوتا ہے۔ آئین اور قانون کی تشریح کا اختیار عدلیہ کے پاس ہوتا ہے، مگر ریاست کے ایک ذیلی ادارے کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ سزا اور جز ا کے بارے میں فیصلہ کرے؟ اگر فوج نے یہ حقوق اور اختیارات سلب کئے رکھنے ہیں، اور سزا اور جزا کے”فیصلوں ” کا اختیار اپنے ہی پاس رکھنا ہے، تو یہ پارلیمان اور عدلیہ کے وجود اور جمہوریت پر بہت بڑا سوال ہے۔
 
رہی یہ بات کہ مجرم کون ہے اور غدار کون ہے؟، تو اس بارے میں،میں عظیم انقلابی رہنما ‘ فیڈل کاسترو ‘کا تاریخی قول دُہراؤں گا کہ” تاریخ میری سچائی ثابت کرے گی”۔ اور تاریخ یہ بھی فیصلہ کرے گی کہ انسانیت کے خلاف جرائم کس نے کئے؟ اپنے حلف کی خلاف ورزی کس نے کی؟اور معافی کس کو مانگنا چاہئے؟
 
یہاں میری ذات، جیل میں صحت اور زندگی کو جان لیوا خطرات، خاندانی اور قومی صدمات اہم نہیں،بلکہ وہ سوالات اہم ہیں جوہمارے سماج کو درپیش ہیں، اور اُن پر آوازیں اُٹھتی رہیں گی، کتنی آوازوں کو دبائیں گے؟ آوازوں کو دبانے کے بجائے پارلیمان کو اِنکے جوابات ڈھوندنے دیں۔ اِنکا حل ا ہم ہے۔جمہور کی حقِ حکمرانی، فیصلہ سازی کا حق اور آئین کی بالا دستی کے بارے میں سوچیں۔ میری توجدجہد جاری رہے گی۔
 
اِن میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ پچھلے چالیس سال سے جاری سامراجی جنگ سے پورا ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، اس سے ملک کو کیسے نکالنا ہے، یا جنگ کو ہی خارجہ اور داخلہ پالیسی کے اَساس کے طور پر جاری رکھنا ہے؟ اِس سوال کا جواب اہم ہے کیونکہ یہ پالیسی ملک میں عوامی جمہوری نظام کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی لئے آج تک ملک میں محکوم قومیں، طلبہ، مزدور اور کِسان، خواتین، اور زیر عتاب مذاہب کے لوگ اپنے حقوق اور امن کے لئے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ نہ تعلیم وعلاج،نہ روزگار اورنہ رہائش کا حق،اورنہ صنعت سازی۔جنگ اور شورش زدہ زدوہ علاقوں کے غربت زدہ محنت کش کے جوان گلف میں غلامی پر مجبور ہیں۔ غیر پیداواری اور جنگی اخراجات کی وجہ سے بننے والے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کے لئے پاکستان سامراجی قرضوں میں مزید دھنستا جا رہا ہے؛ انتہا کا قومی، طبقاتی اور صنفی جبر؛ پشتون اور بلوچ قوموں کی نسل کشیاں اور جبری گمشدگیاں؛”سچ اور مفاہمت کمیشن” کا قیام،ملک اور خاص طور پر پختونخوا میں قبائلی اضلاع کو جنگ باز گروہوں اور لیند مائنزسے صاف کرنا؛ جنگ زدہ علاقوں میں زندگی کومعمول پر لانااور آئی ڈی پیز کو دوبارہ بسانا؛اور محکوم قوموں اور محنت کش عوام کو ان کے وسائل لوٹانا اہم سوالات ہیں۔کیونکہ آج مسلسل جنگ،غیر پیدارای اخراجات، اور وسائل پر فوجی اور سِول حکمران طبقے کی قبضہ گیریت کی وجہ سے ملک میں ‘عوامی جمہوری ریاست ‘ تو کیا، ایک بنیادی فلاحی ریاست بھی نہیں بن سکی ہے۔
 
افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد بغلیں بجانے کی بجائے ہمیں درپیش گھمبیر مسائل کے حل کے بارے میں سوچیں۔ملک میں ایک اور’ سِو ل وار’ شروع ہونے کو ہے، جس کا حل ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر تجارتی اور سفارتی تعلقات استور کرنے میں ہے، نہ کہ پراکسی جنگجوں میں۔ دوغلی خارجہ پالیسی ہی ملک کو مزید لے ڈوبے گی۔ خطے میں نئی معاشی اور سٹرٹیجک صف بندی، اور امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ رسہ کشی میں پاکستان کے پھنس جانے،نیا عالمی میدان جنگ بن جانے، ور نئے سرد جنگ کے شروع ہونے سے پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ان سب معاملات پر جمہوری فیصلے کرنے ہونگے۔پا رلیمان سے باہر چھاؤنیوں میں پہلے سے کئے گئے فیصلوں کو طاقت کے زور پرسیاسی قوتوں اور صحافیوں کو” بریفنگ” کی شکل میں سنا دینے کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی!
 
آخر میں فیض احمد فیض کو دُہراتا چلوں کہ: نثارر میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے