نقطہ نظر

چائنا سے کیا سیکھا جائے؟

پرویز امیر علی ہود بھائی

پچھلے ہفتے چینی صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں وزیر ِاعظم عمران خان نے چین کا سرکاری مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ اُدھر کے مسلما ن امن و شانتی سے رہ رہے ہیں اور اُن پرکسی قسم کادباؤ نہیں کہ اسلامی روایات اوراپنے طور طریقے ترک کریں۔ ہمارے وزیر ِاعظم کے بقول چین اور پاکستان کا رشتہ اتنا مضبوط اور قریبی ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر ان کے مؤقف سے کسی اختلاف یا تصادم کی گنجائش نہیں۔

خان صاحب کی صاف گوئی کے ہم پہلے ہی سے معترف ہیں۔ ایک منجھا ہوا سیاستدان کوئی نا کوئی فرار کا راستہ ڈھونڈ نکالتا لیکن آپ نے یہاں کسی شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑی، یعنی یہ تسلیم کر لیا کہ چین اور پاکستان کا رشتہ عین حاکم اور محکوم کا ہے اور ہمارے لئے چین کی ہربات من و عن مانے بنا چارہ نہیں۔ چلیں، کمزور او ر طاقتورکا قصہ تو صدیوں پرانا ہے لیکن پھر بھی ایک سوال قابل ِغور ہے۔ چین کی طاقت کا سرچشمہ کیا ہے اور اسی طرح پاکستان کی کمزوری کس سبب ہے؟ ہم کبھی امریکہ کے محتاج ہیں توکبھی چین کی طرف دیکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم میں آخر کس چیز کی کمی ہے کہ آزادی کے چوہتر (۴۷) سال بعد بھی ہمیں ہر طرف جھولی پھیلانی پڑتی ہے؟ کبھی آئی ایم ایف توکبھی سعودیہ؛ یہاں ایف اے ٹی ایف کا ڈنڈا تو وہاں جی ایس پی کا خوف۔

اس کو سمجھنے کی خاطرچلیے ہم چین اور پاکستان کا ایک مختصر موازنہ کرتے ہیں۔

اوّل، چین اپنے ماضی پر یقینا فخر کرتا ہے اورقدیم زمانے کی سائنس، تہذ یب و تمدن اور پرانی ریاستوں کی وہاں بھی بڑی قدردانی ہوتی ہے لیکن ماضی یا اسلاف پرستی کی بجائے اُس نے اپنی نظریں آنے والے وقتوں پر جمائی ہوئی ہیں۔ کوئی ایسادور یاریاست نہیں جس کی وہ پیروی یا نقالی یا تعمیر نو چاہتا ہو۔ چین کے لوگ بہت سادہ طبیعت کے ہیں اور قدرے بے صبرے بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جزا اور سزا سب یہیں کا معا ملہ ہے، حشر یا حیات بعدالموت کی بات نہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ وہ غلطی پر ہیں۔ بہرحال، اسی لئے اُدھرکی تعلیم بھی خالصتاً دنیاوی ہوتی ہے، البتہ امتحانات میں نقل اور چیٹنگ کو وہ برداشت نہیں کرتے۔

دوم، چین اپنے قومی مفاداور مطمع ہائے نظر کا تعین کئی دہائیوں پہلے کرنے کے بعد اُس کو تحریری شکل بھی دے چکا ہے۔ آپ اس بات کو پسند کریں یا نہ کریں، چین ایک مادہ پرست ملک ہے جس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اسے آگے کون کون سی منزلیں طے کرنی ہیں، مثلاً یہ کہ مریخ تک پہنچنا ہے، مصنوعی ذہانت، بائیو ادویات، کوانٹم کمپیوٹرزمیں سبقت حاصل کرنا ہے، وغیرہ۔ ہاں، یہ درست ہے کہ چائنا کے کچھ سیاسی عزائم بھی ہیں لیکن ترجیح اقتصادیات اور معاشیات کو دی جاتی ہے۔ تائیوان کا مسئلہ لیجئے۔ چین دعویٰ کرتا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے اور وقتاً فوقتاً وہ تائیوان کو ڈراتا دھمکاتا بھی رہتا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور شہریوں کی آمد و رفت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ یہ بھی نوٹ کیجئے کہ چین کی حکومت نے فوج کو اپنے گلے پر سوار نہیں ہونے دیا۔

اس کے برعکس اگر کوئی یہ پوچھے کہ پاکستان نے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے اور کیا منصوبہ بندی کی ہے یا یہ کہ کس چیز کو وہ اپنا قومی مفادمانتا ہے تو بس بھارت کو مات دینے کے علاوہ کوئی اور بات سامنے نہیں آتی۔ یوں لگتا ہے کہ خلائی پروگرام، تعلیم اورصحت کوعالمی معیار تک پہنچانا اور توانائی کے متبادل ذرائع ایجاد کرنا ہمارے حکمرانوں کے ایجنڈے پر سرے سے ہے ہی نہیں! بس، اگرکشمیر مل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے (فیضؔ صاحب سے معذرت)۔ تائیوان اورچین ایک دوسرے کے ملکوں میں بھلے اربوں ڈالروں کی سرمایا کاری کرتے پھریں، ہم بھارت کو ایک دانا پیاز یا آلو دیں گے نہ لیں گے۔

سوم، چین کا محنت کش حقیقتاًمحنتی ہے۔ کوئی سا بھی پیشہ لیجئے: صنعتی مزدور، دفترداری، پروفیسریا طالبعلم، یہ سب خوب انہماک اور استعداد کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ جو ذمہ داری سے اپنا کام نبھائے گا او ر جو جتنی جدت پیدا کرے گا اس کی ترقی بھی اسی حساب سے ہو گی۔ یہ بات کوریا، ویتنام، تھائی لینڈاور کئی دوسرے ملکوں پر بھی صادق آتی ہے۔ اسی لئے ان کی لیبر فعال اور مستعدسمجھی جاتی ہے اوریوں پوری دنیا کی صنعتیں وہاں کا رخ کرتی ہیں۔

پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہ ٹھیک کہ ہمارے ہاں کھیت کا مزدور صبح و شام محنت کرتا ہے لیکن دفاتر، بینکوں، فیکٹریوں، کالجوں یا یونیورسٹیوں کو دیکھیں تو اکثر و بیشتر لوگ بے دلی اور بیزار ی سے کام کرتے ملتے ہیں؛ وہ وقت کی پابندی نہیں کرتے اورلمبی لمبی چھٹیاں کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہاں فیکٹری ملازمین کی اجرتیں چائنا کی نسبت بہت کم ہیں لیکن پھر بھی وہاں مصنوعات کی تیاری کم خرچے پر ہوتی ہے کیونکہ اُدھر کی لیبر زیادہ ہنرمند اور فعال ہے۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں سارا زور رٹے اور اچھے نمبروں کے حصول پر دیا جاتا ہے، دماغ کے دریچے کھولنے یا ہنر سیکھنے پر نہیں۔ چنانچہ ڈگری یافتہ افراد میں بھی بہت کم لوگ ایسے ہیں جو دور ِحاضر کے تقاضے پورا کرنے کے قابل ہیں۔

چین اور پاکستان میں کچھ باتیں یقینا مشترک بھی ہیں، خصوصاً یہ کہ دونوں ملک اپنی اپنی مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق پامال کرتے ہیں۔ وہ وہاں مسلمانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں اور یہاں غیر مسلم ہمارے عتاب کا شکار ہیں۔ لیکن بہرحال چین نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایک تیسری دنیا کا ملک پہلی دنیا میں نہ صرف داخل ہو سکتا ہے، وہ طاقت کی چوٹیوں کو بھی چُھو سکتا ہے۔ یقینا اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔