نقطہ نظر

پاکستان میں ترقی پسند جمہوری پارٹی کی ضرورت ہے: ایرک رحیم

 قیصرعباس

یہ اس دور کی بات ہے جب پاکستان میں انقلابی کہلانا بہت مشکل تھا۔ ستر اور اسی کی دہائیوں سے بہت پہلے انقلابیوں کی ایک نسل ایسی بھی تھی جس نے قربانیں دے کر ترقی پسند تحریک کی بنیاد رکھی۔ ان بے لوث کارکنوں میں حسن ناصر،سجاد ظہیر، میجراسحاق، گیان چندانی اور ایرک رحیم کے نام آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ریاستی جبر کی بھینٹ چڑھے۔ کچھ نے معاشی تنگ دستی کا مقابلہ کیا اور کچھ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ایرک رحیم چالیس اور پچاس کی دہائیوں کے ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں نہ صرف اپنا بھرپورکردار ادا کیا بلکہ ریاستی جبر کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔ وطن آزاد ہوا تو صحافی بننے کی دھن میں ایرک کراچی آئے اور بائیں بازو کی تحریک کا حصہ بن گئے۔ پاکستان ٹائمز اور ڈان میں کام کیا اورپھر سیاسی وابستگی کی پاداش میں انہیں حسن ناصر اوردوسرے انقلابیوں کے ساتھ گرفتارکرکے تقریباً ایک سال تک جیل میں رکھا گیا۔

رہا ہوکر پچاس کے عشرے میں لاہور آئے اور پاکستان ٹائمز کا حصہ بنے۔ ایوب خان کے مارشل لا کے بعد وطن کی سرزمین ترقی پسندوں پراتنی تنگ کردی گئی کہ انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبورکر دیا گیا۔ وطن چھوڑکر برطانیہ اس ارادے سے پہنچے کہ اقتصادیات کی اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے واپس وطن کا رخ کریں گے مگر پھر حالات نے کچھ ایسی کروٹ لی کہ وہیں کے ہو رہے اور پی ایچ ڈی کے بعد درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ ایک عرصے تک گلاسگو کی سٹراچکلائیڈ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر اورمحقق رہے اور آجکل وہیں تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ یہ انٹرویو پاکستان میں ترقی پسند تحریک کے اِس بے لوث سپاہی کی کہانی ہے۔

آپ کی ابتدائی زندگی پاکستان میں گزری پھر ایک نوجوان صحافی اور ترقی پسند سیاسی کارکن کی حیثیت سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد آپ کو بیرون ملک جانے کا خیال کیوں آیا؟

انیس سو ستاون اور اٹھاون میں مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرا سفر ایک صحافی کی حیثیت سے اب ختم ہونے کوہے۔ میں کراچی میں پاکستان ٹائمز کا نامہ نگار رہا۔ دستورساز اسمبلی اور دیگر اہم سیاسی تبدیلیوں پربہت کچھ لکھا اورپھرسینئر ایڈیٹر ہوگیا۔ اس کے بعد میرا مستقبل کیا تھا؟ میں نے سوچا کہ چھٹی لے کر لندن سے اقتصادیات کی تعلیم مکمل کرکے واپس آؤں اور اسی شعبے میں کالم نگاری کا آغاز کروں لیکن اسی دوران مارشل لالگ گیا۔ میرے اخبار پاکستان ٹائمز کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیااور یہی میرے صحافیانہ پیشے کا نقطہ اختتام ٹھہرا۔ لندن میں آنرز پروگرام میں میری کارکردگی اچھی تھی جس کی بنیادپر لندن یونیورسٹی نے مجھے دوسال کے لئے ریسرچ گرانٹ دی۔ پی ایچ ڈی کے دوسرے سال میں گلاسگو کی سٹراچکلائیڈ یونیورسٹی نے مجھے لیکچررشپ کی آفرکر دی۔ اس طرح پاکستان واپسی کے راستے رفتہ رفتہ دور ہو تے گئے۔

وہ کیا محرکات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان آزادی کے بعد ایک مستحکم ریاست کے طورپرابھر نہیں سکا؟

اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں تاریخی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ برصغیر کے مسلمان اورہندوالگ الگ قومیں ہیں۔ آزادی کے بعد لیڈرشپ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ اس میں بسنے والی قومیتوں اور نسلی اکائیوں کو کس طرح ایک ریاست کے طورپرمتحد رکھا جائے۔اس وقت کی ترقی پسند قوتیں مطالبہ کر رہی تھیں کی تما م نسلی گروہوں کوان کے حقوق دئے جائیں، جمہوری نظام کو مضبوط بنایا جائے اورصوبوں کو خود مختاری دی جائے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ ریاستی حکمرانوں کو سب سے بڑی ناکامی1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحد گی سے ہوئی۔

آج پاکستان جن علاقوں پر محیط ہے وہ برصغیر کے سب سے پس ماندہ علاقے تھے۔ خیبر پختونخواہ کے قبائل، بلوچستان، پنجاب کے وسیع علاقے۔ پنجاب اور سندھ میں زرعی نظام رائج تھا جس کی باگ ڈور کھوڑو، تالپور، ممدوٹ، دولتانہ، نون اور کالاباغ جیسے جاگیرداروں کے ہاتھ میں تھی۔ ان رہنماؤں کی قوت کا سرچشمہ جمہوری روایات نہیں بلکہ جاگیرداری نظام تھا۔ ان حالات میں بائیں بازو کی جماعتیں، ٹریڈ یونینز، کسان تحریک، کمیونسٹ پارٹی اور جمہوری قوتیں پاکستان میں اتنی کمزور تھیں کہ رجعت پسند عناصر کا مقابلہ ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس کمزور سیاسی پس منظر میں فوج ایک طاقتور ادارہ بن کر ابھری جس نے سیاسی نظام کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لئے ہر طریقہ آزمایا اورملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آگئی۔

چونکہ ملک کو ایک بڑے ’دشمن‘ کا سامنا تھا اورخون کے جس دریا سے نکل کر آزادی ملی تھی اس کا تقاضہ بھی تھا کہ عالمی سطح پر ایک طاقتور دوست تلاش کیاجاِئے۔ امریکہ نے یہ خلا بخوبی پورا کیا اور اس سپر پاور پر مکمل انحصار اسی صورت حال کا نتیجہ تھا۔ امریکہ پر انحصا بڑھتا گیا۔

ان تمام محرکات کے نتیجے میں پاکستان ابھی تک ایک مستحکم ریا ست نہیں بن سکا اور اب ہماری سیاسی اور معا شی نشونما بیرونی طاقتوں کی مرہون منت ہے۔مارکس نے کہا تھاکہ لوگ اپنی قسمت خود بناتے ہیں لیکن اپنے اردگرد کا ماحول وہ خود نہیں بناتے۔ یہ انہیں ورثے میں ملتاہے۔ اس مقام سے آگے بڑھنے کے لیے ترقی پسند قوتوں کو ان تاریخی حقائق پر نظر رکھنا ہوگی۔

آپ نے کہیں تحریرکیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں کمیونسٹ پارٹی کے بجائے ایک ترقی پسند ’جمہوری پارٹی‘ زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟

پاکستان میں ترقی پسند تنظیمیں انتہائی کمزورہیں یا نا پید ہیں۔ اگر ہیں بھی تو ان کی جڑیں عوام میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں ضرورت ہے کہ ترقی پسند قوتیں سنجیدگی سے اپنا مقصد طے کریں۔ اپنی منزل کا تعین کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کل کے حالات میں تو یہی بہتر ہے کہ ترقی پسند حلقے پہلے قدم کے طورپرحقیقی جمہوری اصلاحات کو اپنا محور بنائیں اور اس کے حصول کے لئے سنجیدگی سے کام کریں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہمیں مارکسی پارٹی کے ضرورت نہیں لیکن ایک ایسی ترقی پسند جمہوری تحریک جس کی اساس مارکسی نظریات پر ہو آج کے حالات میں زیادہ اہم ہے۔ ہمیں حقیقت پسندی کاراستہ اختیارکرتے ہوئے پہلے تمام ترقی پسند قوتوں کو ایک پرچم تلے متحد کرنا ہوگا۔

سوال: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں اب تک لیڈرشپ سے کارکن کی جانب نظریاتی تنظیم کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں اور اب عوام الناس کی سطح سے مقامی، صوبائی اور پھرملکی سطح پرپارٹی کی تنظیم کی جانی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

میرے خیال میں لیڈرشپ سے کارکن کی جانب یا گراس روٹس سے لیڈرشپ کی جانب دونوں طریقہ کار کی تفریق مصنوعی ہے۔ یہ دونوں طریقہ کار ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں۔ اساتذہ، مزدور، ترقی پسند کارکنان اور ٹریڈ یونینز سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکراپنی حکمت عملی آج کے حالات کا جائزہ لے کرہی متعین کرنا ہوگی اور اپنے ذرائع منتخب کرنا ہوں گے۔

آج پاکستان میں کئی شدت پسند اور جہادی تنظیمیں کام کررہی ہیں اور ان میں سے کچھ کو تو اسٹیبلشمنٹ کی مدد بھی حاصل ہے۔ اس کے باوجود کہ ان تنظیموں کو عوام الناس کی بہت بڑی حمایت حاصل نہیں یہ معاشرے میں افراتفری پیدا کرنے میں کسی حد تک کامیاب نظر آتی ہیں۔ ترقی پسند قوتیں اس صورت حال کا کس طرح مقابلہ کرسکتی ہیں؟

دیکھئے ایمان داری کی بات تو یہ ہے کہ جہادی ٹولے اور دائیں بازو کی تنظیمیں سرکاری سرپرستی، بیرونی ا مداد اور چند سماجی قوتوں کی حمایت سے ہی اپنا کام جاری رکھتی ہیں جو زیادہ تر پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔ یہ تنظیمیں اگرچہ انتخابی سطح پر ابھی اتنی کامیاب نہیں لیکن ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان جہادی ٹولوں کی جڑیں اب سماجی سطح تک بھی پہنچ گئی ہیں۔ فرض کیجیے کہ ترقی پسند تحریکیں ایک دن اگر اس انتخابی سطح پر مقبول ہوکر اسٹیبلشمنٹ کے لئے چیلینج بن جائیں تو ان ہی جہادی شدت پسندوں کو ان کے خلاف استعمال کیے جانے کے امکانات بھی ہیں۔ ترقی پسندوں کو اس صورت حال کے لئے تیار ہونا پڑے گا اور اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

آپ ایک عرصے تک پاکستان ٹائمز اور ڈان جیسے اخبارات سے بحیثیت صحافی منسلک رہے ہیں۔ اس دور اور آج کل کے صحافیانہ معیار، پیشہ ورانہ صلاحیت اورضابطہ اخلاق کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

میرے لئے اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہمارے اور آج کے صحافیانہ معیار میں کیا فرق ہے۔ آج کے میڈیا کا دائرہ کار ہمارے دور کے مقابلے میں بہت پھیل گیا ہے مگر یہ بھی صحیح ہے کہ ایوب خان کے مارشل لا کے بعد سے آزادی اظہار کا دائرہ ملک میں مسلسل تنگ ہوتا گیا ہے۔

فرض کیجئے کہ آپ کو زندگی پھرسے شروع کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے تو آپ کون سا کردار اپنانا پسند کریں گے؟ صحافی، سیاسی کارکن، محقق یا یونیورسٹی پروفیسر؟

میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ میں صحافی رہا ہوں اوراب یونیوسٹی کی سطح پرتحقیق و تدریس کا بھی حصہ ہوں۔مجھے یہ دونوں پیشے پسند ہیں۔ اگر پاکستان ٹائمز کو سرکاری تحویل میں نہ لیا جاتا تو شاید میں آج بھی لاہورمیں معیشت کے مسا ئل پر اپنا کالم لکھ رہا ہوتا۔

میں نے سناہے کہ اکثرلوگ متوازی دیناؤں میں زندہ رہتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو میں بیک وقت گلاسگو میں اپنی علمی دنیا کا حصہ ہوں اور لاہور میں اپنا ہفتہ وار کالم بھی لکھ رہاہوں۔ میں ان دونوں کرداروں میں خوش اور مطمئن ہوں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔