نقطہ نظر

پاکستانی کرکٹ: طارق جمیل سے ارطغرل تک

فاروق سلہریا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے انگلینڈ کے خلاف تیسرا ٹسٹ میچ شروع ہونے سے قبل بیان دیا تھا کہ پہلا ٹسٹ میچ ہارنے کے بعد ان کی ٹیم کے ارکان ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھ رہے ہیں تا کہ ان میں جوش و جذبہ (انسپائریشن) پیدا ہو سکے۔

تادمِ تحریر ِ تیسر ے ٹسٹ میچ کے تیسرے دن کا کھیل شروع ہونے والا ہے۔ حالت یہ ہے کہ برطانوی ٹیم کے583 کے جواب میں تین پاکستانی کھلاڑی 24 کے اسکور پر آؤٹ ہو چکے ہیں۔ اگر اگلے تین دن باران رحمت نے رحم نہ کیا یا ارطغرل نے دوبارہ جنم لے کر روز بال کرکٹ اسٹیڈیم کا رخ نہ کیا تو اننگز کی شکست پکی ہے۔

ارطغرل سے پہلے ہماری پیاری کرکٹ ٹیم طارق جمیل سے انسپائریشن حاصل کر رہی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ کے ہاتھوں ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راونڈ میں ایسی ہاری کے ٹیم کے ’کافر‘ کوچ کا شرم کے مارے ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔ طارق جمیل سے انسپائریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلے باز میچ کے دوران اسکور کم کرتے اور سجدے زیادہ کرتے۔

جب کرکٹ بورڈ میں تبلیغی جماعت کا اثر تھوڑا کم ہوا تو مصباح الحق کی کپتانی میں ٹیم نے ایک مرتبہ پھر، بغیر طارق جمیل کی مقدس دعاوں کے، کاکردگی بہتر بنائی اور دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی۔ اتفاق سے ان دنوں پاکستان میں ترک سیریل عشق ممنوع نے دھوم مچا رکھی تھی۔

ہماری کپتان اظہر علی سے گذارش ہے کہ کرکٹ میچ جیتنے کے لئے انسپائریشن ارطغرل دیکھ کر نہیں ’فائر اِن بیبلان‘دیکھ کر حاصل کرو۔ عظیم مارکسی دانشور اور سپورٹس رائٹر سی ایل آر جیمز کی کتاب Beyond the Boundry کا مطالعہ کرو۔ ویوین رچرڈز اور مائیکل ہولڈنگ سے ملو، ان سے پوچھو کہ وہ ترنگا رسٹ بینڈ (Wrist Band)کیوں پہنتے تھے۔ کچھ تفصیلات آپ کو جدوجہد کے اس مضمون میں مل جائیں گی۔

محمد علی کلے بھی بہت انسپائرنگ ہے جس نے اپنی فوج کے بوٹ پالش کرنے کی بجائے جیل جانا پسند کیا اور اپنا کروڑوں روپے کا نقصان ہی نہیں کیا، اپنا ورلڈ کپ جتنا بڑا ٹائٹل بھی کھو دیا۔ وہ سیاہ فام امریکی اتھلیٹ بھی انسپائریشن کا بہت اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں جنہوں نے اولمپک میڈل جیتنے کے بعد بلیک پینتھر سیلوٹ کئے اور زندگی بھر اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے مشکلیں جھیلیں۔

کپتان اظہر علی سے یہ بھی گذارش ہے کہ میچ جیتنے کے لئے انسپائریشن ضروری ہوتی ہے مگر بنیادی چیز پروفیشنل ازم ہوتی ہے۔ ورلڈ کپ کوئی قومی ٹیم جب جیتتی ہے جب ملک کے اندر کھیل کا انفرا سٹرکچر ہوتاہے اور کھیل گراس روٹس لیول پر کھیلا جاتا ہے۔ اگر دعاوں کی مدد سے ورلڈ کپ اور اولمپک گولڈ میڈل ملنا ہوتے تو فٹبال کا چیمپئین سعودی عرب ہوتا یا ایران اور اولمپک میں سب سے زیادہ گولڈ میڈل امریکہ اور چین کی بجائے مسلم دنیا کے حصے میں آتے۔

ویسے اظہر علی جی! اگر کبھی وقت ملے تو یہ بھی سوچنا کہ اگر پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے پہلے بنگلہ دیش الیون اور افغان ٹیم نے بھی ارطغرل دیکھنا شروع کر دیا تو…

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔