پاکستان

’ایجنسیوں میں پولیٹیکل انجینئرنگ کی فیکٹریاں بند کرو‘

فاروق طارق

لاہور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مینار پاکستان جلسہ میں جنوری 2021ء کے آخر یا فروری کے شروع میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ ممبران اسمبلی کے استعفے ساتھ لے کر جائیں گے۔

جلسے میں عوام کی ایک بڑی تعداد تین بجے سہ پہر سے رات ساڑھے نو بجے تک سخت سردی کے باوجود شریک رہی۔ جلسے کے آخر میں میاں نواز شریف کی تقریر کو پاکستانی کمرشل میڈیا نے دکھانا گوارہ نہ کیا لیکن یو ٹیوب کے بے شمار چینلوں پر اسے لائیو دکھایا گیا اور لاکھوں کی تعداد نے جلسے کے علاوہ اسے سوشل میڈیا پر دیکھا۔

میاں نواز شریف نے ایک بار پھر فوجی جرنیلوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ’ایجنسیوں میں پولیٹیکل انجینئرنگ کی فیکٹریاں بند کرو‘، کوئی فوج اپنی قوم سے نہیں لڑ سکتی، انگریزوں سے آزادی حاصل کرکے ہم چند جرنیلوں کے غلام بن جائیں؟ ان افسروں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا جنہوں نے جذبات میں آکر آئی جی کو اغوا کیا؟ اور کہتے ہو نام نہ لو، میں کیا واپڈا کا نام لوں؟ وزیر اعظم کے گھر کی دیوار تم پھلانگتے ہو، نام کس کا لوں، محکمہ ذراعت کا؟

جلسے میں مریم نواز شریف نے بھی اپنی تقریر میں موجودہ حکومت پر تنقید کے شعلے برسائے اور عمران خان کے وعدوں پر مبنی انکی کئی تقاریر کے ویڈیو کلپس جلسے میں چلوا دئیے۔ مریم نواز نے کہا کہ جس جعلی تبدیلی کی شروعات 2011ء کے مینار پاکستان جلسے سے شروع ہوئی تھی، اُسے لاہوریوں نے آج اسی میدان میں ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا ہے۔

انہوں نے عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمائیت کی پوری کہانی بھی بیان کی۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ حکومت کی وجہ سے پاکستان کی ترقی، چینی، آٹا، بجلی اور گیس قرنطینہ ہو گئے۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے دھرنوں کے باوجود نواز شریف عوام کی خدمت میں جتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ملک سے لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ اب تو تمھیں وہ نوجوان بھی جان گیا ہے جو تمہاری ڈیڑھ کروڑ نوکریوں کا خواب دیکھ کر آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب تمھیں وہ بھی جان گئے ہیں جن کو بجلی اور گیس کے لمبے لمبے بل آتے ہیں۔

جلسہ سے بلاول بھٹو نے پرجوش تقریر میں پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ جبیں کے بھائی عثمان غنی کی پھانسی کا بھی ذکر کیا جس نے جنرل ضیا الحق کے دور میں قربانی دی تھی۔ انہوں نے مرحوم جہانگیر بدر کا بھی ذکر کیا اور لاہور کے محنت کشوں کی جمہوری آزادیوں کے لئے مسلسل قربانیوں کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ لاہور میں شہید ہونے والے کسان رہنما کا بھی ذکر کیا کہ جو کسان مطالبہ کرنے آتے ہیں انہیں شہید کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے طلبہ تحریک اور اس کے رہنماؤں پر پولیس مقدمات کا بھی ذکر کیا۔ جلسے سے عطا اللہ مینگل، آفتاب شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، حیدر خان ہوتی، انس نورانی اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے بھی خطاب کیا۔ جلسے کے بارے میں حکومت کے وزیروں نے اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ ایک ناکام جلسہ ہے۔

جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی آج اپنے پالتو کتوں کے ساتھ وقت گزارنے کی فوٹوز سوشل میڈیا پر ریلیز کی گئیں جسے شائد شائع کرنے کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ مجھے لاہور جلسے کی کوئی پرواہ نہیں، اس قسم کا رویہ عمران خان کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

دو وزیروں شبلی فراز اور فردوس عاشق نے تو شائد آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور کہتے رہے کہ عوام نے شرکت نہیں کی اور رٹے رٹائے فقرے بول کر اپنے آپ کو اور اپنی نوکریوں کا تحفظ کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ شبلی فراز عمران خان کے اسی جگہ 2011ء کے جلسے کی مثال دے رہے تھے، لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو سپورٹ کرنے فیصلہ کیا تھا اور اس جلسے کے لئے عمران خان کو ہر طرح کی مدد دی گئی کہ یہ جلسہ کامیاب ہو جائے۔ اس کے علاوہ اس وقت نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو کچھ خوش فہمیاں تھیں کہ یہ کرپشن ختم کرے گا اور تبدیلی لائے گا۔ یہ خوش فہمیاں تو اب کافی حد تک ٹوٹی ہوئی ہیں۔

شبلی فراز کہہ رہے تھے کہ جلسہ بڑا ٹھنڈا ہے دس پندرہ ہزار لوگ ہیں، ان سمیت دیگر وزرا بھی انتہائی ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہے تھے۔ حکومتی وزرا شیخ رشید سمیت بوکھلاہٹ میں جو سراسر ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہے تھے، سے لگتا ہے کہ اس جلسے کے انعقاد کی کھلی چھٹی دے کر شائد حکومت اب پچھتا رہی ہے۔ وہ اس جلسے بارے وہ نہ کر سکی جو اس نے گوجرانوالہ اور ملتان میں کیا تھا۔

یہ جلسہ اپوزیشن کی 11 پارٹیوں کے اتحاد کا اعلان کردہ آخری جلسہ تھا۔ ان جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد میں شمولیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت عام لوگوں میں کافی غیر مقبول ہے۔ مہنگائی کا ایشو سرفہرست ہے مگر پبلک سیکٹر کے اداروں کی نجکاری کی کوششوں نے بھی پبلک سیکٹر کے محنت کشوں کو جو مسلسل جدوجہد میں ڈالا ہوا ہے اس کا بھی ایک اثر اس اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کی تقریروں سے نظر آتا ہے۔

حکومت ان جلسوں کے بعد کیا مزید کمزور ہو گی؟ ایسا ہی نظر آتا ہے اور اس کا اظہار تحریک انصاف کی جانب وزیروں کی ری شیفلنگ سے بھی نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کی اپنی پارٹی پر تنقید میں آضافہ ہو گا۔ اندرونی خلفشار تیز ہو گا۔ وزیروں کے ایک دوسرے کے خلاف بیان پبلک میں عام نظر آئیں گے اور سب سے بڑھ کر اگر کرونا اور پھیلا تو موجودہ حکومت کے معاشی بحران میں مزید تیزی آئے گی۔ ایسا ممکن نہیں کہ عالمی سطح پر ایک معاشی بحران بڑھ رہا ہو اور پاکستان اس سے مبرا ہو۔ معاشی بحران کی تیزی انکی سیاسی عدم مقبولیت کو اور تیز کرے گی۔ وہ پی ڈی ایم کو توڑنے کے خواب دیکھتے دیکھتے اپنی پارٹی کو تڑوا لیں گے۔

پی ڈی ایم رہنماؤں کا اسٹیبلشمنٹ پر کھلی تنقید پر مبنی بیانیہ بھی لوگوں میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان پر اپنی حمائیت کو کم کر سکتی ہے اور پیچھے ہٹنے کا عندیہ بھی دے سکتی ہے۔ یہ جلسہ عمران حکومت کے خاتمے کے آغاز کا ایک اظہار تھا۔ یہ سلسلہ ابھی بڑھتا چلا جائے گا۔ اسلام آباد لانگ مارچ شائد عمران خان حکومت کے خاتمے کا باعث بن جائے۔ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ عمران خان حکومت پانچ سال پورے نہ کر پائے گی۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔