نقطہ نظر

تعلیم مادری زبان میں نہیں، معیاری انداز میں ہونی چاہئے

فاروق سلہریا

کئی سال پہلے ایک پنجابی بولی کے پرچارک سے ملاقات ہوئی۔ وہ پنجابی کو تعلیم کی زبان بنانے پر مصر تھے۔ انہوں نے ایک بچے کی مثال دی جس سے ماسٹر نے جب پوچھا کہ م سے کیا بنتا ہے تو مذکورہ بچے نے جواب دیا: م سے ککڑی۔

ہمارے پنجابی پرچارک کا سوال تھا کہ بچہ جب گھر میں ککڑی کا لفظ سیکھے گا تو م سے ککڑی ہی جواب دے گا۔ ویسے ہمارے استفسار پر پتہ چلا کہ وہ پنجابی پرچارک خود پہلی جماعت میں ہی سیکھ گئے تھے کہ م سے مرغی ہوتا ہے۔

ہمارے گھر میں پنجابی بولی جاتی تھی۔ سکول جاتے ہی ہم نے بھی م سے مرغی سیکھ لیا۔ سکول چونکہ انگریزی میڈیم تھا سو ہم نے م سے مرغی کے علاہوہ ایچ فار ہین (Hen) بھی سیکھ لیا۔

معلوم نہیں ہمارے پنجابی بولی پرچارک نے جس مفروضہ بچے کا ذکر کیا تھا وہ ابھی تک م سے ککڑی ہی پڑھ رہا ہے یا م سے مرغی سیکھ گیا ہے۔ اگر نہیں سیکھ سکا تو لازمی نہیں اسے مسئلہ مادری زبان کا مسئلہ ہو۔ بچے کا ذہنی معائنہ کرانے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے بچہ ڈسلیکسیا کا شکار ہو یا اسے ’ADHD‘ کا سنڈروم بھی ہو سکتا ہے۔

پنجابی بولی کے پرچارک ہی نہیں، ہمارے بعض بہت ہی محترم ماہرین تعلیم بھی مادری بولی میں تعلیم کے قائل ہیں (ان میں بعض معزز اساتذہ سے مجھے ذاتی شناسائی کا شرف حاصل ہے اور میں ان کو بہت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں) البتہ میں کبھی بھی اس کلئے سے متاثر نہیں ہو سکا کہ مادری زبان سے پاکستان میں تعلیم کا معیار بہتر ہو جائے گا۔

میرا موقف ہے کہ تعلیم انگریزی میڈیم میں ہونی چاہئے (اور یکساں نظام تعلیم ہونا چاہئے) جبکہ اردو سمیت دیگر قومی زبانیں بطور مضمون مختلف سطح پر پڑھائی جانی چاہئیں۔ نہ صرف پاکستانی زبانیں بلکہ عربی، فارسی، ہندی اور دیگر عالمی زبانیں سیکھنے کا موقع بھی میسر ہونا چاہئے۔

میرے اس موقف کی بنیادمندرجہ ذیل چار نکات ہیں:

۱۔ بچے کی کوئی مادری زبان نہیں ہوتی

بچے میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ باآسانی تین یا چار زبانیں سیکھ جاتا ہے۔ اس کی عملی مثال آپ کو یورپی ممالک میں ملے گی جہاں تارکین وطن کے بچے عمومی طور پر تین تین زبانیں بیک وقت سیکھتے اور بولتے ہیں۔

دور کیوں جائیں۔ ہمارے ہاں بھی عمومی طور پر گھر میں ایک زبان بولی جاتی ہے اور سکول میں بچے دوسری اور تیسری زبان سیکھ جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں دوسری اور تیسری زبان (جو عموماً، بالترتیب اردو اور انگریزی ہوتی ہیں) پر طالب علم کو کتنا عبور تھا، اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ بچہ سرکاری سکول میں گیا تھا یا گرامر سکول اور سٹی سکول وغیرہ میں۔

بہ الفاظ دیگر تعلیم کا معیار ٹھیک ہو تو بچہ پاکستان میں بھی اے لیول او لیول تک لگ بھگ ویسی انگریزی سیکھ جاتا ہے جیسی برطانیہ میں۔ اگر معیار ٹھیک نہیں ہو گا تو م سے ککڑی ہی سیکھے گا چاہے اسے اردو میں سکھائیں یا پنجابی اور سندھی میں۔

۲۔ مادری زبان چوتھا میڈیم بن جائے گا

پاکستان میں پہلے ہی تین طرح کے سکول ہیں۔ انگریزی میڈیم (جس کی کئی پرتیں ہیں۔ ایک طرف ایلیٹ سکول۔ پھر یونیک اور پنجاب جیسی چینز۔ اس کے بعد گلی محلوں اور دیہاتوں میں کھلنے والے نیم انگریزی میڈیم)۔ دوسرے درجے پر سرکاری یا اردو میڈیم سکول۔ اس کے بعد مدرسے جہاں پڑھانے کا میڈیم اردو اور کسی حد تک عربی ہے۔ مادری زبان کا مطلب ہو گا پنجابی میڈیم،سندھی میڈیم، سرائیکی میڈیم، پشتو میڈیم، بلوچی میڈیم کی شکل میں ایک چوتھا میڈیم۔

حالت یہ ہے کہ اردو جسے سرکاری طور پر ستر سال سے ریاستی سرپرستی حاصل ہے اس میں نہ تو جدید سائنس کا کوئی مضمون لکھا جا سکتا ہے نہ سوشل سائنس کی کوئی کتاب۔ عالمی سطح پر ساری نالج پروڈکشن عمومی طور پر یورپی زبانوں میں ہو رہی ہے۔ جنہیں مادری زبان میں تعلیم دی جائے گی وہ پرائمری یا چلیں میٹرک کے بعد کیا کریں گے؟ ہمیں پہلے ہی معلوم ہے کہ اردو میڈیم سے آنے والے طلبہ ایف ایس سی میں پہنچتے ہی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ زبان ہوتی ہے۔

پھر یہ کہ ایک رابطے کی زبان ہونی چاہئے۔ وہ کیا ہو گی؟ انگریزی یا اردو؟ یا دونوں؟ سیدھی سی بات ہے: انگریزی تو پڑھانی پڑے گی۔ اگر انگریزی ہی پڑھانی ہے تو پھر انگلش میڈیم کی بجائے مادری زبان کی جھنجھٹ میں پڑنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ کیوں نہ سارا نظام تعلیم ہی انگلش میڈیم رکھا جائے جس میں زبانیں بطور مضمون پہلی جماعت سے ایم اے تک پڑھائی جائیں۔ نہ صرف یہ کہ قومی زبانیں متعلقہ صوبے میں پڑھائی جائیں بلکہ یہ گنجائش بھی ہو کہ اگر کوئی لاہور میں پشتو، بلوچی اور سندھی یا سرائیکی پڑھنا چاہے تو بھی با آسانی یہ مضمون اختیار کر سکے۔

۳۔ ڈاکٹر چغتائی اور وفاق المدارس مسئلہ ہیں، زبان نہیں

لمز کی ڈاکٹر مریم چغتائی جیسے لوگوں نے یکساں قومی نصاب کے نام پر جس طرح سکول اور مدرسے کا فرق ختم کر کے وفاق المدارس کے ان مولویوں کو ٹیکسٹ بک بورڈ اور نظام تعلیم کا کرتا دھرتا بنا دیا ہے جو بائیولوجی کی کتاب میں انسانی سکیچ برداشت کرنے پر تیار نہیں جبکہ نظریہ ارتقا غیر اسلامی قرار پا چکا ہے ایسے میں تعلیم مادری زبان میں دیں یا لاطینی بھاشا میں…سکولوں سے مجاہدین ہی فارغ التحصیل ہوں گے، طالب علم نہیں۔ تعلیم کے معیاری ہونے کے لئے اسے سیکولر، سائنسی اور جدید ہونا چاہئے۔ مادری زبان یا بدیسی زبان کا تعین تاریخ، معیشت اور سیاست کے سیاق و سباق میں ہوتا ہے۔

۴۔ تعلیم ایک عمل ہے جس کے کئی درجے ہیں

تعلیم کے کئی پہلو ہیں اور کئی درجے ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ مادری زبان میں آپ میڈیکل، انجینئرنگ یا آئی ٹی تو دور کی بات سیاسیات اور مذہب بھی یونیورسٹی کی سطح پر مادری زبانوں میں نہیں پڑھا سکیں گے۔

اسی طرح تعلیم صرف لٹریسی (خواندگی) کا نام نہیں۔ تعلیم سے مراد ہنر (Skills) بھی ہیں۔ ہنر کا تعلق ٹیکنالوجی سے ہے، کمیونی کیشن سے ہے، فنانس سے ہے۔ یہ سب تو مادری زبانوں میں نہیں ہو گا۔ اپنے کلونیل ماضی کی وجہ سے پاکستان کو انگریزی پر انحصار کرنا پڑے گا۔ مادری زبانوں میں تعلیم کا نتیجہ، موجودہ طبقاتی معاشرے میں، یہ نکلے گا کہ غیر ہنر مند لوگوں کی ایک نئی کھیپ سامنے آئے گی۔ مدرسے والوں کے لئے تو پھر مسجد کی شکل میں جاب مارکیٹ موجود ہے۔ یہ پنجابی میڈیم کہاں کھپیں گے، فی الحال میرے علم میں نہیں ہے۔

سچ پوچھئے تو مجھے مادری زبان میں تعلیم کے مطالبے سے ایلیٹ ازم کی بو آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ایلیٹ کے بچے تو م سے مرغی اور ایچ فار ہین سیکھ سکتے ہیں مگر مزدوروں کسانوں کے بچے کند ذہن ہیں، انہیں ک سے ککڑی ہی پڑھاؤ۔

مجھے یقین ہے کہ اگر محنت کشوں کے بچے بھی ان سکولوں میں جائیں جہاں تعلیمی معیار ویسا ہی ہو جیسا ایچی سن، بیکن ہاؤس یا اس قسم کے ایلیٹ سکولوں میں ہوتا ہے تو یہ بچے بھی اتنے ہی قابل ثابت ہوں گے جتنے دیگر بچے ثابت ہوتے ہیں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔