خبریں/تبصرے

جنونی ایشیائی خواتین آج بھی پتھر کے زمانے میں زندگی گزار رہی ہیں: عالمی ویمنز کانفرنس

قیصر عباس

امریکی تنظیم ساوتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے زیر اہتمام عالمی خواتین کانفرنس میں امریکہ اور جنوبی ایشیا کی مندوبین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے لیکن جنوبی ایشیا میں عورت ا ب بھی پتھر کے زمانے کے مسائل سے دو چار ہے۔

ہفتے کے دن ہونے والی اس ورچوئل کانفرنس کے دوحصوں میں افغانستان، بنگلہ دیش، پاکستان، نیپال، انڈیا اور امریکہ کی ماہرین صحت اور عورتوں کے حقوق کی کارکنوں نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی آدھی آبادی کوآج بھی تشدد، جنسی استحصال، عزت کے نام پر قتل، سماجی تعصب اور دیگر گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے علاوہ بچیوں کی تعلیم، کم عمری کی شادیاں، عورتوں کی صحت، ریپ اور سیاسی و سماجی استحصال وہ اہم مسائل ہیں جن پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل کے حل کے بجائے خطے میں عورتوں کے لئے زندگی بد سے بدتر ہو تی جا رہی ہے جس کی ایک وجہ سیاسی رہنماؤں کی بے حسی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خواتین ریپ کی خود ذمہ دار ہیں، مندوبین نے کہا کہ جہاں ملک کے رہنما مجرموں کے بجائے عورت کو ان پر ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں وہاں ان مسائل میں بے انتہا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ عورتوں اور بچیوں کے خلاف پاکستان اور دوسرے جنوبی ایشیائی ملکوں میں بڑھتے ہوئے جرائم کو اس پس منظر میں بھی دیکھنا بہت ضروری ہے۔

کانفرنس میں مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر قیصر عباس نے کہا کہ شرکا کی ماہرانہ آرا اور شرکت کے بغیر کانفرنس کا انعقاد ناممکن تھا۔ انہوں نے تنظیم کے بورڈ ممبران اور کانفرنس کمیٹی کے ارکان آفتاب صدیقی، عمبرین خان، سیدہ عروب اقبال اور سید فیاض حسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کا نفرنس کی کامیابی کمیٹی کی مہینوں پر پھیلی محنت کا نتیجہ ہے۔

مندوبین کے خیال میں مسلسل جدوجہد، پر امن احتجاج اور قانونی ڈھانچوں میں تبدیلی کے ذریعے ہی اس صورت حال میں تبدیلی ممکن ہے جس کے لئے نہ صرف خواتین بلکہ سماج کے نوجوانوں، عورتوں، مردوں اور تمام استحصال زدہ طبقوں کے باہمی اتحاد کے ذریعے بھرپور تحریکوں کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کے دوسرے حصے میں ’ہماری شمولیت کے بغیر ہمارے مسائل کا حل ناممکن ہے‘ کے عنوان پر نیپال کی بھارتی سلوال گری نے اپنے ملک میں عورتوں کی تعلیم، خولہ صدیقی نے کشمیر میں عورتوں کے حقوق، صابرہ بیگم نے جنوبی ایشیا میں انتخابی سیاست میں عورتوں کا حصہ، بیورلی ہل نے عورتوں کی نسل کشی اور مہناز رحمان نے پاکستان میں عورتوں کے حقوق پر خطاب کیا۔

کانفرنس کے پہلے حصے میں ’صحت مند خواتین، صحت مند سماج‘ کے عنوان پر ماہرین نے عورتوں کی صحت پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید نے پاکستان میں عورتوں کے لئے صحت عامہ کے نظام پرروشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سوراج بھنڈاری نے نیپال میں عورتوں کی صحت، بلقیس بیگم نے بنگلہ دیش میں عورتوں کی صحت کے مسائل اور بچوں کی اموات، نازفہ ہمراہ نے افغانستان میں صحت عامہ اور خواتین اور جسپریت محل نے انڈیا کے دیہی علاقوں میں عورتوں کی صحت پر اپنے خیالا ت کا اظہارکیا۔

ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ اس عالمی کانفرنس کی کامیابی کے بعد ہر سال جنوبی ایشیا کے خواتین کے مسائل پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر نے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔