تاریخ

افغانستان: ہتھوڑے اور سندان کے بیچ

مندرجہ ذیل مضمون طارق علی کی کتاب ’بنیاد پرستیوں کا تصادم‘ سے لیا گیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے فوری بعد شائع ہونے والی یہ کتاب بارہ سے زائد زبانوں میں شائع ہوئی۔ اس کا اردو ترجمہ فاروق سلہریا نے کیا۔

انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی وائسرائے اور زارِ روس دونوں ہی للچائی ہوئی نظروں سے افغانستان کو دیکھ رہے تھے مگر اپنے جغرافئے کے باعث افغانستان وہ ناقابلِ عبور قلعہ ثابت ہوا تھا جو ان دونوں نو آبادیاتی طاقتوں کے ہاتھ نہ لگ سکا۔ برطانیہ نے دو مرتبہ یلغار کی مگر ہزیمت سے دو چار ہوا___یہ گویا ایک اشارہ تھا لندن کو بھی اور سینٹ پیٹرز برگ کو بھی۔ آخر کار توسیع پذیر زار شاہی اور ہندوستان میں برطانوی سلطنت نے افغانستان کو، جو ہنوز ایک افغان بادشاہ کے تحت قبل از جاگیرداری دور کی قبائلی کنفیڈریشن تھا، ایک بفر سٹیٹ تسلیم کر لیا۔

برطانیہ، جو زیادہ بڑی طاقت تھی، کابل پر گہری نظر رکھتا۔ اس بندوبست سے ان دنو ں تینوں دھڑے خوش تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان معاشرہ سامراجی جدت پسندی کے عمل سے دور ہی رہا اور ایک صدی کے لگ بھگ جمود کا شکار رہا۔ برسرپیکار قوموں اور قبائل کا ایک مرقع تھا___ ان میں بااثر پشتون (جو آپس اندر بھی بری طرح تقسیم تھے)، تاجک اور ازبک، ہزارہ (منگول النسل)، نور ستانی اور بلوچ سب شامل تھے___ جس نے اس بات کو یقینی بنائے رکھا کہ کوئی مرکزی قوت زیادہ عرصہ اپنی حکومت برقرار نہ رکھ پائے۔ کابل اور دیہی افغانستان مابیں خلیج شائد ہی کبھی پاٹی جا سکی۔

جب تبدیلی نے ادھر کا رُخ کیا تو اس کے محرک بیرونی تھے۔ 1917ء کے انقلاب روس اور 1919ء میں کمال کی نئی ماڈل فوج کے ہاتھوں خلافت عثمانیہ کے خاتمے نے نوجوان افغان بادشاہ امان اللہ کو جدت پسندی کے لیے اکسایا۔ کچھ تو برطانوی سرپرستی پر تلملائے ہوئے اور کچھ پیڑوگراڈ کی جرأت مندانہ مثال اور یورپی نشاۃ ثانیہ کے آدرشوں سے متاثر ترقی پسند دانشوروں کی صحبت کا اثر تھاکہ امان اللہ نے ایک مختصر عرصے کے لئے پڑھے لکھے طبقے اور قبائل کی اکثریت کو ساتھ ملایا اور 1919ء میں برطانوی سامان ِ حرب کے خلاف مشہور زمانہ فتح حاصل کی۔ اس فتح کا ثمر تھا کہ وہ دس سالہ تخت نشینی کا بھی حقدار ٹھہرا۔

میدان کا رزار میں کامیابی نے امان اللہ خان کو ایک ایسا اعتمادبخشا کہ اس نے اصلاحات کا آغاز کیا جو کسی حد تک ترکی اندر کمال اتا ترک کے انقلاب سے متاثر تھیں۔ ایک نیا آئین لاگو کیا گیا جس میں بالغ حق رائے دہی کا وعدہ کیا گیا۔ اگر اس آئین پر عمل درآمد ہو جاتا تو افغانستان دنیا کے ان چند ملکوں میں ہوتا جہاں اول اول تمام خواتین کو بلا امتیاز ووٹ کاحق حاصل ہوا۔ ترکی کی مثال پر عمل درآمد کرتے ہوئے، امان اللہ نے نقاب کے خاتمے کے لیے اقدامات کئے، مردوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مغربی لباس پہنیں، افغان شہریوں کو بیرون ملک تعلیم کے لیے بھیجا اور سکولوں اندر مخلوط تعلیم کی اجازت دی۔ ساتھ ہی ساتھ حصول مدد کے لیے اپنے نمائندے ماسکو بھیجے۔ گو بالشویک قیادت خود اتحادی فوجوں کی مسلح مداخلتوں کے نرغے میں آئی ہوئی تھی مگر افغان درخواست کو اس نے پوری سنجیدگی سے لیا۔ کمنٹرن کی جانب سے سلطان گالیف نے کابل کے پیامبرو ں کا گرمجوشی سے استقبال کیا جبکہ محاذ جنگ سے ٹراٹسکی نے اپنی بکتر بند ریل گاڑی سے روسی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے نام خفیہ خط بھیجا۔ اس شاندار خط میں ٹراٹسکی نے لکھا:

اس بارے ذرا برابر شک نہیں کہ ہماری سرخ فوج عالمی سیاست کے ایشیائی خطے میں یورپی خطے کی نسبت کہیں زیادہ موثر قوت ہے۔ یہاں ایک ایسا واضح موقع ہمارے ہاتھ آرہا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف یورپ کے اندر جنم لینے والے واقعات کا طویل انتظار کیا جا سکتا ہے بلکہ ایشیائی محاذ پرکام کرنے کا موقع بھی ہاتھ لگ رہا ہے۔ اندریں حالات ہندوستان کو جانے والا راستہ سویت ہنگری کو جانے والے راستے کی نسبت کہیں آسان اور مختصر ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی فوج جو اندریں حالات یورپ کی سطح پر زیادہ اہمیت نہیں رکھتی وہ نو آبادیاتی انحصار کے ایشیائی تعلقات میں موجود استحکام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے، محروم عوام کی سرکشی کو جنم دے سکتی ہے اور ایسی کسی سرکشی کی ایشیا اندر کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے___ پیرس اور لندن کو جانے والا رستہ افغانستان، پنجاب اور بنگال کے شہروں سے ہو کر گزرتا ہے۔

ٹراٹسکی کے ایک فوجی ماہر نے ایک پر فریب دستاویز لکھی جس میں 30-40ہزار شہ سواروں پر مبنی سامراج مخالف دستہ بنانے کی تجویز دی گئی جو برطانوی ہند کی آزادی کا بیڑا اُٹھائے۔

یہ منصوبے کبھی عمل میں نہ آئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دو سال بعد پولینڈ اندر مارچ کرنے میں تکاچوسکی کی ناکامی کا ماسکو پر گہرا اثر ہوا۔ امان اللہ کو بالشویکوں کی جانب سے مشورے اور دوستی کے سوا کچھ نہ ملا۔ برطانیہ جس کی پریشانی کی وجہ سمجھ میں آتی تھی، امان اللہ کا تختہ اُلٹانے پر ادھار کھائے بیٹھا تھا۔ نیو دھلی نے ٹی۔ ای۔ لارنس کو منگوایا، سِکوں کے عوض چند سرکردہ قبائل کی خدمات حاصل کیں، بادشاہ کے خلاف مذہبی مخالفت کھڑی کی اور آخر کار 1929ء میں بادشاہ کا تختہ اُلٹ دیا۔

کمنٹرن کے مجلے انپری کور کی رائے میں امان اللہ دس سال تک ”سویت دوستی“ کے باعث تخت پر بیٹھا رہا: زیادہ واضح انداز میں سینیئر بالشویک راسکو لینکوف کا تبصرہ تھا کہ امان اللہ نے بورژوازی کے بغیر بورژوا اصلاحات متعارف کروائیں جس کی قیمت کسانوں کو چکانی پڑی جن کی حمایت زرعی اصلاحات کے ذریعے جیتی جا سکتی تھی مگر امان اللہ ایسا نہ کر سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانیہ نے ملک اندر موجود معاشرتی اور قبائلی تقسیم کا فائدہ اُٹھایا۔

خطے کی سامراجی طاقت کے طور پر برطانیہ ان قبائلی سرداروں اندر بھی مقبول نہ تھا جن کی حمایت اس نے کی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران افغانستان غیر جانبدار رہا۔ 3 اکتوبر 1940ء کو جرمن محکمہ خارجہ کی ایک دستاویز (جس کا انکشاف دوسری عالمی جنگ کے دوران انگما ڈی کوڈرنے کیا) پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ دستاویز سٹیٹ سیکرٹری ویزسیکرکی جانب سے کابل میں جرمن سفارت خانے کو بھیجی گئی:

30 ستمبر کو افغان وزیر نے مجھ سے ملاقات کی اور وزیر صدر اور وزیر حرب کی خیریت وتسلیمات کے ساتھ ساتھ جنگ کے مثبت نتیجہ کی خواہشات پہنچائیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے آیا کہ ایشیا اندر جرمن منصوبے افغانستان کی امیدوں سے میل کھاتے ہیں یا نہیں: انہوں نے عرب ممالک پر جبر کا بلاواسطہ ذکر کرتے ہوئے ڈیڑھ کروڑ افغان (پشتون، بالخصوص صوبہ سرحد کے پشتون…… مصنف) لوگوں کا حوالہ دیا جو ہندوستانی سرزمین پر مصیبتیں اٹھا رہے ہیں۔ میرے اس بیان پر وزیر نے اظہار اطمینان کیا کہ جرمنی کا نصب العین خطے کے مذکورہ لوگوں کی برطانوی چنگل سے آزادی اور ان کے حقوق کی بحالی ہے۔ وزیر نے کہا کہ افغانستان کو انصاف اسی صورت میں ملے گا اگر اس کی سرحد دریائے سندھ قرار پائے؛ اس کااطلاق برطانیہ سے ہندوستان کی علیحدگی کی صورت بھی ہونا چاہئے۔ افغان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی وفاداری کا ثبوت ہے کہ اس نے برطانیہ کے زبردست دباؤ کے باوجود جرمنی سے تعلقات منقطع نہیں کئے۔ آج انہوں نے افغانستان کی خواہشات کو حفظ ماتقدم کے طور پر پیش کیا تھا مگر ساتھ ہی سخت راز داری کی درخواست بھی کی تھی؛ ان خواہشات کی تکمیل کو انہوں نے مستقبل کا معاملہ قرار دیا۔


وزیر کو جس بادشاہ نے برلن بھیجا تھا وہ چھبیس سالہ ظاہر شاہ تھے۔ وزیر صدر ظاہر شاہ کے چچا سردار محمد ہاشم خان تھے۔ جرمن مراسلے میں جو بات دلچسپ ہے وہ برطانیہ سے نفرت نہیں کہ ان دنوں یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ دلچسپ امر پاکستان کے صوبہ سرحد اور اس کے دارالحکومت پشاور پر مشتمل گریٹر افغانستان کے قیام کی خواہش ہے۔

امان اللہ کی تخت نشینی کے پچاس سال بعد تاریخ خود کو دہراتی ہے مگر اب کی بار مہیب نتائج کے ساتھ۔ 1970ء کی دہائی کے آغاز میں ظاہر شاہ کے کزن داؤد نے ظاہر شاہ کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا، افغانستان کو جمہوریہ قرار دیدیا اور ان اقدامات کو مقامی کمیونسٹوں اور سویت یونین کی مالی تائید حاصل تھی۔ اپریل 1978ء میں شاہ ایران کے اُکسانے پر داؤد نے فوج اور انتظامیہ میں موجود کمیونسٹ دھڑوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تو کمیونسٹوں نے اپنے بچاؤ کے لیے بغاوت کر دی۔

افغان کمیونسٹ___ جو شدید دھڑے بندی کا شکار تھے اور بعض اوقات تو نوبت یہاں تک آن پہنچتی کہ پارٹی کے اندرونی تنازعات پستولوں کی مدد سے نپٹائے جاتے___ اگر کہیں کوئی معاشرتی بنیاد رکھتے تھے تو وہ کابل یا چند شہروں تک محدود تھی۔ ان کے اقتدار کا دارو مدار محض فوج اور ائرفورس پہ گرفت پر منحصر تھا۔ بہرحال انہوں نے اصلاحات کا نفاذ شروع کیا۔ نئی حکومت کے تحت تعلیم کو بالخصوص ترقی ملی۔ دیہاتوں میں لڑکیاں سکول جانے لگیں اور کچھ مخلوط تعلیمی ادارے بھی قائم ہوئے۔ 1978ء میں مردوں اندر ناخواندگی کی شرح 90 فیصد جبکہ خواتین اندر یہ شرح 98 فیصد تھی۔ دس سال کے اندر اندر اس شرح میں خاصی کمی واقع ہو چکی تھی۔ نوجوان افغان مرد اور خواتین کی ایک نئی کھیپ ڈاکٹروں، اساتذہ، سائنس دانوں اور تکنیک کاروں کی صورت سامنے آئی۔ تمام تر منفی خصوصیات___ بالخصوص اصلاحات مخالف افراد کو پول پاٹ ایسے جنونی انداز میں ختم کر دینا___کے باوجود پی ڈی پی اے حکومت نے جدت پسندی کے اس عمل کو پھر سے شروع کیا جو امان اللہ کا تختہ اُلٹ جانے کے باعث ادھوڑا پڑا تھا۔

تاریخ میں جو کردار برطانیہ نے ادا کیا تھا اسے نبھانے کی ذمہ داری امریکہ نے اپنے سرلی اور افغان حکومت کو کمزور کرنے کے لیے مذہبی گروہوں کو بذریعہ پاکستانی فوج مسلح کرنا شروع کر دیا۔ دیہاتوں میں تشددکی کارروائیاں زور پکڑنے لگیں کیونکہ قبائلی لوگوں کو خانہ جنگی شروع کرنے کے لیے اسلحہ بھی مل رہا تھا اور پیسہ بھی۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں افغان کمیونسٹ ہلاکت خیز باہمی تصادم کا شکار ہو گئے۔ اس موقع پر برزنیف نے وہ جوا کھیلا بالشویک جسے کھیلنے سے سدا باز رہے___ افغان حکومت کی نجات کے لیے بہت بڑا فوجی دستہ کابل روانہ کر دیا۔

یہ وہ حرکت تھی جس کا کارٹر کے نیشنل سیکورٹی چیف زبیگینو برژنسکی کو انتظار تھا۔ فرانسیسی اخبار لو نویل آبزرواتور کی 21-15 جنوری 1998ء کی اشاعت میں شائع ہونیولا انٹرویو اس بارے ہر قسم کے شکوک وشبہات رفع کرنے کو کافی ہے:

سوال: سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر رابرٹ گیٹس نے اپنی یاداشت (فرام دی شیڈوز) میں لکھا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے افغانستان میں سویت مداخلت سے چھ ماہ قبل ہی مجاہدین کی مدد شروع کر دی تھی۔ ان دنوں آپ صدر کارٹر کے مشیر برائے قومی سلامتی تھے چنانچہ آپ نے بھی اس سارے عمل میں کردار ادا کیا ہو گا۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

برژنسکی: جی ہاں۔ تاریخ کی سرکاری توضیح کے مطابق تو سی آئی اے نے 1980ء میں مجاہدین کو مدد دینا شروع کی یعنی 24 دسمبر 1979ء کو افغانستان میں سویت یلغار کے بعد۔ مگر حقیقت، جسے اب تک صیغہئ راز میں رکھا گیا، اس کے بالکل برعکس ہے: سچ تو یہ ہے کہ 3جولائی 1979ء کو اصل میں صدر کارٹر نے کابل کی سویت دوست حکومت کے مخالفین کو خفیہ مدد دینے کے احکامات جاری کئے۔ عین اس روز میں نے صدر کو ایک نوٹ لکھا اور یہ وضاحت کی کہ میری رائے کے مطابق اس امداد کے نتیجے میں سویت فوجی مداخلت ہو گی۔

سوال: اس خطرے کے باوجود آپ اس خفیہ ایکشن کی وکالت کر رہے تھے یا شائد آپ خود جنگ میں سویت مداخلت کے خواہش مند تھے اور اشتعال انگیزی کر رہے تھے؟

برژنسکی: بات صرف اس طرح سے نہیں ہے۔ روسیوں کو ہم نے جنگ میں نہیں دھکیلا البتہ ہم نے اس امکان میں خاصا اضافہ کر دیا۔

سوال: سویت یونین نے یہ کہہ کر اپنی مداخلت کا جواز مہیا کیا کہ وہ افغانستان میں خفیہ امریکی مداخلت کے خلاف لڑنے کے لیے آئے ہیں مگر لوگوں نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا۔ مگر یہ بات تو کسی حد تک سچ تھی۔ کیا آج آپ کو اس ضمن میں کسی بات کا پچھتاوا ہے؟

برژنسکی:کیسا پچھتاوا؟ خفیہ آپریشن ایک بہترین منصوبہ تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ روسی افغانستان کے جال میں پھنس گئے اور آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے اس منصوبے پر پچھتاوے کا اظہار کروں؟ جس روز سویتوں نے سرکاری طور پر سرحد عبور کی اس روز میں نے صدر کارٹر کو لکھا: اب ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم یو ایس ایس آر کو اس کی ویت نام جنگ مہیا کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ ماسکو کو دس سال تک ایسی جنگ لڑنا پڑی جسے حکومت کی حمایت حاصل نہ تھی، یہ ایسا تنازعہ تھا جس نے حوصلے شکن کر دئے اور آخر کار سویت سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔

سوال :کیا اس بات پر بھی آپ کو کوئی پچھتاوا نہیں کہ آپ نے اسلامی بنیاد پرستوں کو مدد دیکر مستقبل کے دہشت گردوں کو اسلحہ اورتربیت فراہم کی؟

برژنسکی: تاریخ عالم میں زیادہ اہم بات کیا ہے؟ طالبان یا سویت سلطنت کا خاتمہ؟ چند جنونی مسلمان یا وسطی یورپ کی آزادی اور سرد جنگ کا خاتمہ۔

روسی قیادت بُری طرح جال میں آپھنسی۔ اس دور کی پولٹ بیورو دستاویز پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ فیصلے سے دو دن پہلے تک، سارے کا سارا پولٹ بیورو فوجی مداخلت کے خلاف تھا۔ کوئی بات ایسی ضرور ہوئی ہو گی کہ ان کی سوچ یکسر بدل گئی۔ اس کا انکشاف ہنوز نہیں ہوا کہ ایسی کیا بات ہو گئی تھی ہاں مگر سچ کہیں نہ کہیں سی آئی اے کی طاق میں ضرور موجود ہے۔ غالب امکان ہے کہ اس امریکی افواہ سازی نے پولٹ بیوروکا ذہن بدلنے میں اہم کردار ادا کیا کہ افغان رہنما حفیظ اللہ امین اپنی وفاداری بدلا ہی چاہتے ہیں۔ ماسکو نے حفیظ اللہ امین کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا بھی مگر ان دنوں اس بات کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ بڑی طاقتوں کی مداخلت سے قبل اس قسم کی کردار کشی کی ہی جاتی ہے۔ سویت دستوں کی افغانستان آمد کے نتیجے میں واشنگٹن کے چندے سے چلنے والی ناخوشگوار خانہ جنگی جہاد میں بدل گئی اور مجاہدین یوں نظر آنے لگے گویا غیر ملکی قابض فوج کے خلاف اگر کوئی برسرپیکار ہے تو وہ مجاہدین ہیں۔ کچھ ہی دنوں بعد برژنسکی پشتون پگ سرپر سجائے درہئ خیبر پر تصویریں اتروانے کے لیے پوز بنا رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے اللہ تمہارے ساتھ ہے! جبکہ افغان بنیاد پرستوں کو وائٹ ہاوس اور 10 ڈاونگ سٹریٹ پر ’مجاہدین آزادی‘ کے طور پر ضیافتیں دی جا رہی تھیں۔

افغان جنگ اندر امریکی کردار کبھی کوئی راز کی بات نہیں رہا البتہ بہت کم مغربی باسی اس بات سے آگاہ تھے کہ افغانستان میں ر وس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکہ نے اسلامی جنگجوؤں کے عالمی نیٹ ورک کو مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے ذریعے تیار کیا، اس کی تربیت کی، اسے مسلح کیا اور اسے سرمایہ فراہم کیا۔

کرسچین سائنس مانیٹر اور اے بی سی ٹیلی ویژن کے خلیج وسطیٰ میں سابق نامہ نگار جان کو لی کو ان ممالک کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس اہل کاروں تک رسائی حاصل ہوئی اور اس نے سرد جنگ کے آخری مرحلے بارے ایک شاندار تحریر لکھی ہے۔ گو اس نے ہر جگہ اپنے خبری ذرائع منکشف نہیں کئے اور اس کی کہی کچھ باتیں شک کی نظر سے دیکھی جانی چاہئیں مگر اس کی معلومات بڑی حد تک ان افواہوں کی تائید کرتی ہیں جو اسی کی دہائی میں پاکستان اندر گردش کرتی تھیں۔ کولی کے مطابق امریکہ نے دیگر طاقتوں کو بھی سویت جہاد میں ملوث کیا۔ کولی کا کہنا ہے کہ چین کی امداد محض اسلحہ کی ترسیل تک محدود نہ تھی بلکہ زن ژیانگ کی جاسوسی چو کیوں کی فراہمی سمیت چین نے اوہیگر رضا کار بھی روانہ کئے جن کے اخراجات سی آئی اے نے ادا کئے۔ چینی امداد کا اعتراف اسلام آباد میں بیٹھے جرنیل نجی طور پر ہمیشہ ہی کرتے رہے البتہ بیجنگ نے کبھی بھی اس کا اعتراف نہیں کیا۔ کولی کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ عوامی جمہوریہ بعد از سویت انخلاء سامنے آنے والے اس سنڈروم کا بھی شکار رہا کہ اسلامی جنگجو انہی ریاستوں پر پل پڑے جنہوں نے انہیں مسلح کیا تھا۔ البتہ جس ملک کا کولی نے ذکر نہیں کیا وہ ہے اسرائیل جس کا افغانستان اندر کردار جنگ کا وہ راز ہے جسے سختی کے ساتھ صیغہئ راز میں رکھا گیا ہے۔ 1985ء میں دی مسلم کے لیے کام کرنے والے نوجوان پاکستانی صحافی احمد منصور کا پشاور کے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل کے بار میں اسرائیلی ’مشیروں‘ کے ایک گروپ سے سامنا ہو گیا۔ منصور کو معلوم تھا کہ یہ خبر ضیاء آمریت کے لیے دھماکہ خیز ثابت ہو گی، اس نے اپنے ایڈیٹر کو خبر بارے آگاہ کیا ساتھ ہی ساتھ اس نے کچھ دوستوں اور ڈبلیو ٹی این کے نامہ نگار کو بھی خبر بارے بتا دیا۔ چند ہی دنوں بعد پاکستانی آئی ایس آئی کے چوکنا کرنے پر مجاہدین نے منصور کو پکڑ کر جان سے مار ڈالا۔

کولی 1978ء میں سعودی عرب میں متعین سی آئی اے کے سابق سٹیشن چیف ریمونڈکلوزسے اپنی ملاقات کا تذکرہ بھی کرتا ہے اور کلوز نے کولی کو خاصا متاثر کیا۔ اگر کولی نے کلوز سے زیادہ گہرائی سے سوال کئے ہوتے تو اسے معلوم پڑ جاتا کہ کلوز پاکستان میں بھی تعینات رہ چکا ہے جہاں کلوز کے والد ایف سی کالج لاہور میں مشنری ٹیچر رہ چکے تھے۔ ان کا بیٹا روانی کے ساتھ فارسی، اردو اور عربی بول سکتا تھا۔ فرضی ریٹائر منٹ کے دوران وہ افغانستان اندر جاری آپریشن اور پاکستان میں ان کے بیک اپ میں ہم آہنگی کے لیے، جہاں بنک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) خفیہ سرگرمیوں کو فنڈ کرنے کے لیے سی آئی کا ذریعہ تھا اور ہیروئن کی تجارت سے منافع کما رہا تھا، یہ شخص بہترین انتخاب تھا۔

سویت انخلاء کے دس سال بعد بھی افغانستان گروہی لڑائیوں کی لپیٹ میں تھا۔ جنگ کے آزمودہ کار سپاہی مصر، الجزائر، فلپائن، سوڈان، پاکستان، چیچنیا، داغستان اور سعودی عرب اندر عدم استحکام پیدا کر رہے تھے۔ گیارہ ستمبر سے بہت پہلے وہ امریکہ اندر اپنے نشانوں پربموں سے حملے کر چکے تھے اور انہوں نے بڑے شیطان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہوا تھا۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی سرکاری اور مقبول عام داستانوں کا لوگو جب بنا جب اس نے سی آئی اے سے تعلقات کے ساتھ ارب پتی سعودی کے طور پر تعمیرات کے کاروبار کا آغاز کیا۔ پاکستانی جرنیلوں نے جب سعودی شاہی خاندان سے درخواست کی کہ وہ جہاد کی قیادت کے لیے کسی شہزادے کو بھیجیں تو کوئی رضا کار سامنے نہ آیا۔ شہزادے کے بدلے البتہ اسامہ کو شاہی خاندان کے دوست کی حیثیت سے بھیج دیا گیا۔ توقع سے بہتر کارکردگی کے ذریعے اسامہ نے ریاض اور فوگی باٹم میں اپنے سرپرستوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ کولی اپنی بات کا اختتام امریکی حکومت کو اس مشورے کے ساتھ کرتا ہے:

جب اپنے دشمن خاص کے خلاف صف آراء ہونے جاؤ تو ان لوگوں کے بارے میں خوب جانچ پڑتال کر لو جنہیں تم اپنا دوست، اتحادی یا بھاڑے کا ٹٹو بنارہے ہو۔ خوب دیکھ لو کہ کہیں تمہارے اتحادی پہلے ہی خنجر بے نیام کئے تمہاری پشت کو نشانہ بنائے تو نہیں کھڑے۔

کولی کی عرضداشت سے زبیگینو برژنسکی کے متاثر ہونے کی امید نہیں کہ وہ کسی بھی قسم کے پچھتاوے کوخارج از امکان قرار دیتے ہیں۔

1989ء میں سویت انخلاء کے بعد مجاہدین کی پشت پناہی کرنے والا کثیر ریاستی اتحاد زمین پر آرہا۔ اسلام آباد تعمیر نو کے لیے کسی وسیع البنیاد حکومت کے حق میں نہیں تھا بلکہ اس کی ترجیح___ جسے امریکی و سعودی تائید بھی حاصل تھی___ یہ بنی رہی کہ افغانستان پر اپنے کٹھ پتلی گلبدین حکمت یار کو مسلط کیا جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خانہ جنگی کا ایک سلسلہ چل نکلا، جس میں کبھی کبھی جنگ بندی کا وقفہ بھی آتا، کیونکہ ہزارہ (ایرانی حمایت کے ساتھ) احمد شاہ مسعود (فرانسیسی حمایت کے ساتھ) اور ازبک جنرل دوستم (روسی پشت پناہی کے ساتھ) مزاحمت کر رہے تھے۔ جب یہ بات واضح ہو گئی کہ حکمت یار کی فوجیں ان دشمنوں کو شکست نہیں دے سکتیں تو پاکستانی فوج نے طالبان کی پشت پناہی شروع کر دی جنہیں 1980ء سے وہ صوبہ سرحد کے مدرسوں میں تربیت دے رہے تھے۔ 1992ء میں صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے مجھے بتایا کہ مدرسوں کے یہ کم سن جنونی افغانستان کو آزاد کروائیں یا نہ کروائیں، پاکستان کو ضرور غیر مستحکم کردیں گے۔

طالبان کافر روس کے خلاف جنگ کے یتیم بچے تھے۔ انہیں آئی ایس آئی نے تربیت دیکر سرحد کے اس پار بھیج دیا تھا جہاں انہیں ان مسلمانوں سے لڑنا تھا جن کے بارے میں انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ اچھے مسلمان نہیں۔ مسلک کا درجہ حاصل کر جانے والی احمد رشید کی تحریر میں ان کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے:

یہ لڑکے ان مجاہدین سے قطعی مختلف تھے جنہیں میں 1980ء کی دہائی میں ملتا تھا___مجاہدین کو اپنے قبیلے اور قبائلی وراثت کا علم تھا، وہ اپنے کھیتوں کھلیانوں اور وادیوں کو حسرت سے یاد کرتے اور تاریخ افغانستان کے افسانوی کرداروں کا تذکرہ کرتے۔ یہ لڑکے اس نسل سے تعلق رکھتے تھے کہ جس نسل نے افغانستان کو امن کی حالت میں دیکھا ہی نہیں تھا۔ ان کے پاس نہ اپنے قبیلوں کی یاد تھی، نہ اپنے بزرگوں کی، نہ اپنے پڑوسیوں کی اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ ان کا ملک کثیر النسلی ہے۔ وہ جنگ کے معترف تھے کہ ان کے لئے یہی ایک پیشہ تو بچا تھا۔ ان کے پاس کوئی سہارا تھا تو مشنری، پیورٹن اسلام کا سہارا تھا جو ان کی زندگی کو کوئی معنی عطا کرتا تھا۔

بن جڑوں کے اس تعصب ___ ایک طرح کی بے رنگ اسلامی آفاقیت___ نے طالبان کو اپنے مقامی حریفوں کی نسبت کہیں موثر طاقت بنا دیا۔ گو یہ نوجوان سپاہی پشتون تھے مگر طالبان رہنماؤں کو یقین تھا کہ لسانی اور قبائلی تقسیم کا شکار نہ ہوں گے، یہ وہ تقسیم تھی جس سے دامن بچانا افغان لیفٹ کے لیے بھی مشکل تھا۔ جب طالبان نے سرحد سے آگے کی طرف پیش قدمی شروع کی تو جنگ سے تنگ آئے ہوئے عوام نے جگہ جگہ سکھ کا سانس لیتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا: بڑے شہروں کے باسی تمام دیگر قوتوں سے مایوس ہو چکے تھے کہ سویت انخلاء کے بعد سے ان کے بیچ جاری لڑائی کی قیمت عام شہریوں کو چکانا پڑ رہی تھی۔

طالبان اگر محض امن اور روٹی کی پیش کش تک محدود رہتے تو شائد انہیں لمبا عرصہ تک قائم رہنے والی عوامی حمایت حاصل ہوتی۔ کیا ہے کہ جلد ہی حواس باختہ عوام کو اس حکومت کا کردار سمجھ آنے لگا جو طالبان مسلط کرنے پر تُلے بیٹھے تھے۔ خواتین کے کام کرنے حتیٰ کہ بچوں کو سکول لانے لیجانے اور بعض شہروں میں تو خریداری کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی: خواتین کو موثر طریقے سے گھروں میں محدود کر دیا گیا۔ لڑکیوں کے سکول بند کر دئے گئے۔ طالبان نے مدرسوں میں سیکھا تھا کہ عورت کی حرص سے بچیں ___ سخت فوجی نظم وضبط کی ایک شرط تھی کہ مردانہ بھائی چارہ پایا جائے۔ شر ع کا تقاضہ تھا کہ ہر قسم کے جنسی اظہار کو گل کتر کر بجھا دیا جائے، حالانکہ یہ وہ خطہ ہے جہاں ہم جنس پرستی کامعمول صدیوں سے موجود ہے، ’جرم‘ کے مرتکب رنگروٹ کو طالبان سالارخود سزا دیتے۔ طالبان کے دستوں سے باہر کسی بھی قسم کی مخالفت کو اس بے دردی سے کچلا جاتا کہ جس کی مثال پہلے کسی دور حکومت میں نہیں ملتی۔ طالبان کا عقیدہ دیو بندی اسلام کی ایک شکل ہے اوردیو بندی اسلام پر پاکستان کا ایک فرقہ عمل کرتا ہے___ دیو بندی بعض باتوں میں وہابیوں سے بھی زیادہ انتہا پسندہیں کہ سعودی حکمرانوں نے کم سے کم قرآن کے نام پر نصف آبادی کو توہر قسم کے شہری حقوق سے محروم نہیں کیا۔ ان سے اسامہ کو ایک شکایت یہ بھی ہے کہ حکمران نرم ہو گئے ہیں۔ اسامہ کی نظر میں ’امارات افغانستان‘ صحرائی سلطنت کی نسبت وہابی فلسفے سے زیادہ قریب ہے۔ افغان ملاؤں کی شدت پسندی پر قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی کے سنی علماء اورہر قسم کے شیعہ علماء نے یہ کہہ کر مذمت کی کہ یہ پیغمبر کی تحقیر ہے۔ فیض احمد فیض، جن کے والد اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں افغان دربار سے وابستہ رہے اور وہ ہمیشہ کابل اور قندھار بارے عالمانہ گفتگو کرتے، اگر طالبان کے افغانستان میں جیل گئے ہوئے توعین ممکن ہے یہ شعر وہاں سے کہے ہوتے:

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چُرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

ہے اہلِ دل کے لئے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

بلاشبہ وائٹ ہاوس میں بیٹھے سپہ سالار یا ڈاونگ سٹریٹ میں موجود اس کے نائب سے تو ہر گز اس کی توقع نہ کریں۔ گیارہ ستمبر سے قبل انسانی حقوق کے واعظ افغان خواتین پر ہونیوالے گھناؤنے جبر پر کم کم ہی بولتے سنائی دیئے۔ ہیلری کلنٹن نے اپنے شوہر کے دور حکومت میں جو ہلکی پھلکی تنقید کی اس کا مقصد لیونسکی سیکنڈل کے دوران حقوق نسوانیت کی امریکی کارکنوں کو خاموش کرنا تھا___ یہ کوئی ایسا مشکل کام نہ تھا___نہ کہ کابل، قندہار یا ہرات ایسے قدیم شہروں اندر صورتحال تبدیل کرنا کہ جہاں عورت ایسی پستی میں دھکیل دی گئی تھی کہ جس کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی۔ امریکی کاروباری حلقے البتہ کم منافق تھے۔ وسطی ایشیا سے، افغانستان کے راستے، پاکستان تک تعمیر کی جانے والی پائپ لائن بارے شکایت کا جواب دیتے ہوئے امریکی تیل کمپنی یونوکول کے نمائندے نے واضح کیا کہ سرمایہ داری جینڈر بلائنڈ کیوں ہوتی ہے: ”ہم حقوق نسواں کے بعض امریکی حلقوں کی ان تجاویز سے اتفاق نہیں کرتے جن پر وہ یونوکول کو عمل درآمد کے لیے کہہ رہے ہیں ___ ہم دوسرے ملکوں میں مہمان ہوتے ہیں اور ان ملکوں کے اپنے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی عقائد ہیں۔ افغانستان سے کنارہ کشی مسئلے کا حل نہیں۔“ نہ ہی یقینا اس طرح سرمایہ کاری سے ممکنہ منافع حاصل ہو پائے گا۔

طالبان اسلام آباد کی مالی اور فوجی مدد کے بغیر افغانستان پر قبضہ نہیں کر سکتے تھے جبکہ امریکہ نے انہیں مزید تقویت بخشی۔ طالبان کمانڈر ملا عمر جو آخری افغان جنگ تک کابل کا کانا حکمران تھا، لمبے عرصے تک حکومت پاکستان کے پے رول پر رہا۔ افغانستان پر قبضے نے البتہ افغان جنونیوں کو مست کر دیا۔ خطے بارے طالبان کا ایک اپنانصب العین تھا___کراچی سے ثمرقند تک اسلامی ممالک کی ایک فیڈریشن جہاں وہ طالبان کا نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ ہیرؤئن کی تجارت سے انہیں خاصی آمدن ہو جاتی جس سے وہ اپنی زمینی مہمات جاری رکھتے مگر وہ سمندر تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے اور اپنا یہ عقیدہ تو انہوں نے کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں رکھا تھا کہ ایٹمی پاکستان ایک دن ان کے ہاتھ آ لگے گا۔

پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات اکتوبر 2000ء سے تناؤ کا شکار تھے جب تعلقات بہتربنانے کی غرض سے پاکستان نے ایک دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے فٹ بال ٹیم افغانستان بھیجی۔ جوں ہی دونوں ٹیمیں کابل سٹیڈیم میں ایک دوسرے کے مد مقابل آئیں، سیکورٹی اہل کار آن دھمکے اور انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستانی فٹ بالرز نے معیوب لباس پہن رکھا ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے فٹ بال والی نیکریں پہن رکھیں تھیں اور بعض نے یورپی فٹ بال اسٹارز کی طرح لمبے بال رکھے ہوئے تھے جبکہ افغان کھلاڑیوں نے گھٹنوں تک لمبی نیکریں پہن رکھیں تھیں۔ شائد سیکورٹی پولیس کو یہ خدشہ تھا کہ پاکستانیوں کی ابھری ہوئی رانیں دیکھ کر تماشائی—— جو تمام کے تمام مرد تھے___آپے سے باہر ہو جائیں گے۔ کیا خبر؟ اس دن فٹ بال نہیں کھیلا گیا۔ پاکستانی ٹیم کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے سر مونڈھ دیئے گئے، انہیں سرعام کوڑے مارے گئے اور اس دوران سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کو قرآنی آیات کی باآواز بلند تلاوت کروائی گئی۔ پاکستانی فوج کی کمان سے تیر چھوڑنے کا یہ تھا ملاں عمر کا انداز۔

اور پھر گیارہ ستمبر 2001ء اور ایک نئی جنگ کی آمد ہوئی۔ پہلے پہل تو امریکہ نے اسامہ بن لادن کا سر مانگا۔ ملاعمر نے گستاخانہ مگر بالکل بجاطور پر اسامہ کے ملوث ہونے کا ثبوت مانگا۔ کسی قسم کا ثبوت مہیا نہیں کیا گیا کیونکہ تب تک کوئی ثبوت سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ واشنگٹن نے اس کے بعد طالبان حکومت کو براہ راست دھمکی لگائی گو بمباری شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل امریکی سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ ’طالبان کے معتدل دھڑے‘ کی بات کر رہے تھے۔ جنگ شروع ہو گئی تو واحد سنجیدہ سوال یہ تھا کہ کابل فتح ہونے میں کتنے دن لگیں گے۔

گیارہ ستمبر کے بعدپاکستان کے فوجی حکمرانوں نے طالبان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسامہ بن لادن کو حوالے کر دیں اور آنے والی تباہی سے بچ جائیں۔ وہ ناکام رہے۔ ایک دلچسپ سوال تھا آیا کہ پاکستان اپنے سپاہیوں، افسروں اور پائلٹوں کو افغانستان سے واپس بلا کر طالبان کو تقسیم کرنے اور ان حلقوں کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہوا کہ نہیں جو پوری طرح پاکستان پر تکیہ کئے ہوئے تھے۔ کابل میں مستقبل اندر بننے والی کسی بھی مخلوط حکومت کے حوالے سے فوجی حکومت کے نزدیک یہ ایک اہم نکتہ تھا۔ پاکستان طالبان جنگجوؤں کے ایک بڑے حصے کو نکالنے میں کامیاب رہا۔ کچھ طالبان تو پاکستان آگئے باقیوں کو ہدایات ملیں کہ وہ داڑھیاں منڈا کر ان دھڑوں میں شامل ہو جائیں جو کابل میں حکومت کے لیے دوڑ میں شریک تھے۔

میں نے افغانستان کے ناقابلِ تسخیر ہونے کی داستان پرکبھی یقین نہیں کیا۔ یہ درست ہے کہ انہوں نے انیسویں صدی میں برطانیہ کو دو مرتبہ ہزیمت سے دو چار کیا لیکن ان دنوں ہنوز ہیلی کاپٹر، بمبار طیارے اور کروز میزائل ایجاد نہیں ہوئے تھے۔ سویت فوج کو اگر شکست ہوئی تو اس کی وجہ امریکہ سے ملنے والی بھاری مالی فوجی امداد اور پاکستانی آئی ایس آئی کی براہ راست مداخلت تھی۔ یہ کہنا کہ طالبان اس حملے کی مزاحمت کر سکتے تھے مضحکہ خیز بات تھی۔ بمباری شروع ہونے کے ساتھ ہی میں نے گارڈین میں اس رائے کا اظہار کیا:

کابل اور قندہار پر امریکی بمباری سے طالبان یا عرب سپاہیوں پر مشتمل بن لادن کے سپیشل بریگیڈز کی جنگی صلاحیت پر فرق نہیں پڑا ہو گا۔ ہاں البتہ طالبان پوری طرح گھیرے میں آچکے ہیں اور تنہا رہ گئے ہیں۔ ان کی شکست یقینی ہے۔ دواہم سرحدوں پر پاکستان اور ایران ان کے خلاف کھڑے ہیں۔ وہ چند ہفتوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔

جہاں تک اس آپریشن کے نصب العین___ اسامہ بن لادن کی گرفتاری___ کا تعلق ہے، اس کا حصول شائد اتنا آسان نہ ہوجتنا دکھائی دیتا ہے۔ پا میرکے دور افتادہ پہاڑوں اندر وہ کڑے پہرے میں ہے اور چونکہ اسامہ کو لائحہ عمل کے لیے تین ہفتے مل گئے تھے لہٰذا عین ممکن ہے وہ غائب ہو جائے۔ البتہ فتح کے شادیانے بجا دئے جائیں گے۔ مغرب اپنے شہریوں کی کمزور یاداشت پر تکیہ کرے گا۔ لیکن فرض کیجئے بن لادن کو پکڑ کر جان سے مار دیا جاتا ہے، اس سے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو کیسے مدد ملے گی؟ اور بہت سے افراد گیارہ ستمبر کے واقعات کو نئے انداز سے دہرانے کی کوشش کریں گے۔

مقامی اور علاقائی رقابتوں کے پیش نظر افغانستان اندر حاشیہ نشین ریاست کا قیام کوئی آسان کام نہ ہو گا۔ اس ضمن میں پہلی کوشش پی ڈی پی اے حکومت کے خاتمے پر سال بھر جاری رہنے والی مجاہدین کی خانہ جنگی دوران کی گئی۔ مارچ 1993ء میں سعودی فرمانروا، پاکستان اور ایران نے متحارب گروہوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا۔ اسلام آباد میں ایک تفصیلی نصف آئینی منصوبے پر سنجیدگی سے اتفاق رائے ہوا جس کے تحت شراکت اقتدار کے علاوہ ایک ایسی قومی فوج کے قیام پر اتفاق کیا گیا جو تمام بھاری اسلحے کو اپنے ہاتھ میں لے گی۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے گا جو آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات کا انعقاد کرے گا اور نئی آئین ساز اسمبلی نیا آئین منظور کرے گی۔ متحارب جنگجو سردار ایک ہی کمرے میں اپنے حریف کی موجودگی پر اپنی ناپسندیدگی کو بمشکل ہی چھپا پا رہے تھے البتہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اپنی کامیابی پر اس قدر پُر جوش تھے کہ انہوں نے تمام رہنماؤں کو اپنی کامیابی پر ایک ہی طیارے میں مکہ جا کر معاہدے پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی۔ جنگجو سردار___ نو مجاہدین گروہوں کے رہنما___ حلیم انداز میں مسکرائے اور جہاز پر سوار ہو گئے۔ میثاق مکہ پر شاہ فہد کی موجودگی میں دستخط ہوئے جو ان دنوں ذہنی طور پر مفلوج نہ تھے۔ نواز شریف نے افعانوں سے کہا کہ تاریخ اور اللہ انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے اگر انہوں نے مکہ میں کئے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ مگر بات نہیں بنی۔ ان کے افغانستان پہنچنے کی دیر تھی کہ مختلف دھڑوں میں لڑائی شروع ہو چکی تھی۔ پاک فوج کے جنرل رفاقت نے اس خانہ جنگی کی ادھوری مگر دلچسپ وضاحت کی:

جہاد کی مقدس کوکھ سے درجہ بدرجہ پانچ برائیوں نے سر نکالا: افغان شناخت کا کمزور ہونا، لسانیت پر شدید زور دینا، فرقہ وارانہ عنصر کا سامنے آنا، جنگجو سرداروں کا پیدا ہونا، اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت۔ پہلی برائی نے افغانستان کے لوگوں کے اندر افغان ہونے کے احساس فخر کو ختم کر کے رکھ دیا۔

’مقدس کوکھ‘ سے اور بھی بہت کچھ پیدا ہوا: سرمائے، اسلحے اور ہیروئن کی آسان ترسیل کا نشہ۔ سویت یونین کی شکست کے بعد سرمائے اور اسلحے کی ترسیل ختم ہو کر رہ گئی۔ ہیروئن موجود رہی اور تمام مجاہد گروپ کسی نہ کسی شکل میں یہ کام کر رہے تھے چاہے وہ پیداوار تھی، پراسیسنگ یا ڈسٹری بیوشن۔ ان کے سپلائی روٹ مختلف تھے۔ پشتون پاکستانی بندر گاہ کراچی کا استعمال کرتے تھے۔ ہزارہ اور تاجک طاقتور روسی مافیا کے ساتھ کام کرنے میں آسانی محسوس کرتے تھے کہ جو نہ صرف تمام سابق سویت ریاستوں میں ڈسٹری بیوشن سنبھالے ہوئے تھا بلکہ یورپ کو سپلائی کے لیے اس کے پاس البانیہ اور بعد ازاں کوسوو میں بڑے اڈے موجود تھے۔ مختلف دھڑوں اندر دشمنی لسانی تقسیم سے زیادہ لالچ کی بنیاد پر تھی۔ جب 2000ء میں طالبان نے امریکہ کے ساتھ یہ سودے بازی کی کہ وہ 43 ملین ڈالر کے عوض اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں پوست کی فصل نذر آتش کر دیں گے تو شمالی اتحاد والے بے حد خوش ہوئے۔ اب ان کی اجارہ داری بن گئی تھی۔ روسی مافیا نے ہیروئن کے پاکستانی تاجروں کو مات دیدی تھی۔

1993ء میں مکّہ اندر اکٹھے ہونیوالے جنگجو سردار 2001ء میں بون اندر دکھائی نہیں دیئے۔ کچھ تو زندہ نہیں رہے تھے۔ کچھ نے گھر ٹکے رہنے کو ترجیح دی۔ اب کی بار ان کے نمائندے جنہیں مغربی خفیہ اداروں نے دیکھا بھالا تھا اور اقوام متحدہ کے پرانے کھلاڑی لخدار براہیمی نے منتخب کیا تھا،بون میں موجود تھے۔ احتیاط سے مغربی ملبوسات میں ملبوس ان نمائندوں نے خوشی خوشی وہ باتیں کیں جو ان کے میزبان سننا چاہتے تھے۔ مکہ میں انہوں نے کافر کے خلاف فتح پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اب کی بار انہوں نے ’نوح کے خراب نطفے‘ اور ’جھوٹے مسلمانوں‘ کے خلاف فتح پر ’کافر‘ کا شکریہ ادا کیا۔ اب کی بار وہ شیریں لہجے میں گویا تھے: ”ایک ملک، ایک قوم، خود سے مطمئن، اعتماد سے جدت کے راستے پر خراماں اور جس سے پڑوسیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔“ نپولین کی ماں نے یورپ کے کئی تختوں پر بچوں کے تخت نشین ہونے پر درباریوں سے مبار کباد ملنے پر ترش روئی سے پوچھا تھا:”کیا یہ چلے گا؟“

حقائق یہ ہیں: افغانستان اندر صورتحال لاینفک طور پر غیر مستحکم ہے۔ خیالی پلاؤ پکانے والے ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہ گمان کہ اتحاد اپنی موجودہ شکل میں چند سال جاری رہے گا تو اسے مضحکہ خیز ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’آزاد‘ کابل میں قبضہ بازی کی خاطر پہلے ہی کشمکش شروع ہو چکی ہے گو کھلم کھلا جھڑپوں سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔ بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ مغرب دیکھ رہا ہے۔ سرمائے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پوٹن اور خاتمی احتیاط برتنے پر زور دے رہے ہیں۔ مگر بند ٹوٹا ہی چاہتے ہیں۔ سی آئی اے کے سابق شریک کار حامد کرزئی کو پشتون ملبوسات کی ماڈلنگ کے لیے شمالی امریکہ یا یورپ اندر ضرور نوکری مل جائے گی، امریکی سفیر زالمے خلیل زاد وائٹ ہاؤس یا یونوکول واپس چلے جائیں گے مگر مصیبتوں کے مارے اور مرتے ہوئے افغان عوام کا کیا بنے گا؟ امریکی سپاہیوں کے رخصت ہوتے ہی، چاہے وہ اسامہ بن لادن کا سر ساتھ لے کر جائیں یا خالی ہاتھ، اتحاد کو پتہ چلے گا کہ ان دنوں سوائے جنگ کے کسی چیز میں پیسہ موجود نہیں۔ یہ بوائے سکاؤٹ پراپیگنڈہ کہ ’ہم نئی دنیا کی تعمیر کر رہے ہیں‘ محض امریکی عوام کے لیے ہے۔ سکول، ہسپتال اور گھر آئندہ موسم بہار میں کہیں سے خودبخود نہیں اُگ آئیں گے۔

مجھے خدشہ ہے کہ یہ کہانی بھی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔