طنز و مزاح

کیا ہم کرکٹ اور طالبان دونوں سے پیار نہیں کر سکتے؟

کنور خلدون شاہد

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے گھر لوٹنے کا بے حد افسوس ہوا۔ آپ کے گھر کوئی مہمان آئے اور کہنے لگے مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے میں نے گھر واپس جانا ہے، تو کسی بھی میزبان کے لئے ایک دل شکستہ لمحہ ہو گا۔

آپ اسے لاکھ یقین دہانی کرائیں کہ نہیں آپ کو غلط لگ رہا ہے کہ آپ محفوظ نہیں، اسے سابقہ مہمانوں کی فہرست تھمائیں، عمارت کا بلیو پرنٹ اور چوکیداروں کے دستوں سے آگاہ کریں، پھر مجبوراً اس پر خاندانی دشمن کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگائیں اور پھر بھی وہ بے غیرت دفعہ دور ہو جائے تو دکھ تو ہو گا۔

آئی جی آفس نے تھریٹ الرٹ کیا جاری کر دیا، نیوزی لینڈ والوں نے تو اسے سیریس ہی لے لیا۔ ہمارے ہاں تو ایسے تھریٹ الرٹ شادی کے دعوت ناموں کی طرح چھاپے جاتے ہیں، متوقع اعداد سے کہیں گنا زیادہ تاکہ اگر کوئی ناخوشگوار وقوعہ ہو جائے تو اپنے بڑوں کو ثبوت دیا جا سکے کہ تائی امی کے جیجا جی کو وقت پر کارڈ بھیج دیا گیا تھا لیکن ابھی معلوم ہوا ہے کہ بات تایا ابا کے سسرال سے بڑھ کر بین الاقوامی سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ ’فائیو آئیز‘نامی ایک انٹیلی جنس اتحاد نے بھی ایک الرٹ جاری کر دیا تھا۔

کیا یہ بات مشکوک نہیں کہ جن ممالک پر یہ اتحاد مبنی ہے ان میں سے تین وہ ہیں جن کی کرکٹ ٹیموں نے یکے بعد دیگرے کئی سالوں بعد پاکستان کے ساتھ بائلیٹرل سیریز کھیلنی تھی اور چوتھا امریکہ ہے جس کے ساتھ انھی سالوں میں ہم نے کئی گیمیں کھیلی ہیں۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں کہ نیوزی لینڈ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت آئی تھی تو ان کو اس حقیقت سے قائل ہو جانا چاہئے کہ چند کیوی کرکٹرز بھارتی آئی پی ایل کو ترجیح دے کر سرے سے ہی پاکستان نہیں آئے۔ کین ولیمسن اور ٹرینٹ بولٹ سمیت نیوزی لینڈ کے سر فہرست کرکٹرز سے لے کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے یہودی ملازمین تک کئی سازشیں غیر موجودگیوں سے ہی بے نقاب ہوئی ہیں۔ ویسے بھی ’فائیو آئیز‘ میں سے کم از کم ایک آنکھ تو دجال کی لازماً ہو گی۔

اس نازک صورت حال میں رمیز راجہ سے موزوں لیڈر نہیں مل سکتا تھا۔ ان سے بہتر مغرب اور کرکٹ کو پورے پاکستان میں صرف ایک ہی شخص جانتا ہے۔ رمیز راجہ نے اپنے کھلاڑیوں کو ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ جیسے ہی وہ ریلو کٹوں سے درجہ بلندی کرتے کرتے ’ورلڈ کلاس‘ ہو جائیں گے تو عالم کرکٹ ہتھیار ڈال دے گی اور ہمارے ہاتھ بیعت کر لے گی۔ بے شک جس ’اگریشن‘ کا ذکر رمیز راجہ کمنٹری باکس میں بار بار کیا کرتے تھے اس کا مظاہرہ انہوں نے پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور سنبھالتے ہی ٹویٹر اور یوٹیوب پر کرنا شروع کر دیا ہے۔

جس طرح 2007ء کے ورلڈ ٹی ٹونٹی فائنل میں بھارت کے خلاف شکست کے بعد کپتان شعیب ملک نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگی تھی اسی جذبے کے تحت عالم اسلام کو کفار کی مسلم کرکٹ کے خلاف منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لئے متحد کرنا چاہئے۔ اس طرح کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لئے جہاد شانہ بشانہ کیا جائے گا اور یہ جہاد تو ناگزیر تھا ہی کیونکہ افغانستان کو خواتین کی حرام کرکٹ ٹیم تشکیل دینے کے لئے مجبور کرنے اور اسلام کی نمائندہ پاکستانی کرکٹ ٹیم سے کھیلنے سے انکار کرنے کا ہدف اور کوئی نہیں ہمارے طالبان مجاہدین ہیں۔

نیوزی لینڈ ٹیم کے دم دبا کر بھاگنے سے دو دن قبل ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر 2009ء میں حملہ کرنے والوں کے جہادی اتحادی، یعنی تحریک طالبان پاکستان، کو معافی کی آفر کا اعلان کیا تھا۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم سے 10 کلومیٹر دور لال مسجد میں طالبان کا جھنڈہ لہرایا گیا اور دھڑلے سے جہاد کا اعلان بھی ہوا۔ چند کم ظرف افراد اس کو عدم استحکام کی شہادت کے طور پر پیش کر رہے ہیں، حالانکہ یہ ثابت قدمی اور تسلسل کی اعلیٰ ترین امثال ہیں۔ یہ دہائیوں پرانی اس لاثانی اختراعی حکمت عملی کی تکمیل ہے جس کے تحت اب ہم کرکٹ اور طالبان دونوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

اہل کفر کو خطے میں یہ ترقی پسند استحکام قبول نہیں۔ ان سے یہ برداشت نہیں ہو رہا کہ آج پاکستان کا وزیر اعظم وہ شخص ہے جو پاکستان کرکٹ اور طالبان دونوں ٹیموں کی نمائندگی کر چکا ہے۔ انھیں یہ قبول نہیں کہ ہم کرکٹ اور طالبان دونوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ پاکستان میں ’تم ہارو یا جیتو ہمیں تم سے پیار ہے‘ صرف قومی کرکٹرز کے لئے نہیں گایا جاتا۔

بس اب پاکستان کرکٹ ٹیم اور طالبان دونوں اپنی اپنی نیچرل گیم کھیلیں گے اور ہر صورت حال میں جیت بوائز کی ہی ہو گی۔ باہر سے کوئی آئے نہ آئے ہمارے سپوت تو ہر جگہ جائیں گے، جیسا کہ کرکٹ اور حکومت دونوں کے سربراہان کہہ چکے ہیں ہمارا کام صرف اپنے لیڈران اور ان کی پالیسیوں کی ببانگ دہل حمایت کرنا ہے۔ انشا اللہ ہم ان فتوحات کی دہلیز پر کھڑے ہیں جو صرف ہمیں ہی دکھائی دیں گی۔

کنور خلدون شاہد ایک صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ ’دی ڈیپلومیٹ‘ کے پاکستان میں مقیم نمائندہ ہیں، ’دی سپیکٹیٹر‘ کے لیے بطور کالم نگار کام کرتے ہیں اور پاکستانی سیٹائر اخبارات ’دی ڈیپینڈنٹ‘ اور ’خبرستان ٹائمز‘ کے شریک بانی ہیں۔