طنز و مزاح

انشااللہ! اسلام ورلڈ کپ جیتنے والا پہلا مذہب بننے جا رہا ہے

کنور خلدون شاہد

گذشتہ اتوار کو اسلام نے ہندومت کو 10 وکٹوں سے ہرا دیا اور ہدف 13 گیندیں پہلے ہی حاصل کر لیا۔ یہ 13 گیندیں پچھلی 13 صدیوں کی نمائندگی کرتی ہیں جن میں اسلام ہندومت کو یک طرفہ شکست دیتا رہا ہے۔

اگر ان صدیوں کو ایک کرکٹ میچ کے سانچے میں ڈھالیں تو پہلے پاکستانی محمد بن قاسم نے بطور اوپنر اننگز کا جارحانہ آغاز کیا۔ پھر محمود غزنوی کی پاور ہٹنگ نے پاور پلے میں ٹیم کا پلڑا بھاری کیا۔ اس کے بعد غوریوں، لودھیوں اور خلجیوں نے برتری کو مستحکم بنایا۔ مغلوں نے میچ پر مکمل قابو حاصل کیا اور قائد اعظم نے وننگ رنز مارے۔ یہ لبرل فاشسٹ جتنا مرضی رونا دھونا مچا لیں، پاکستان کی تخلیق صرف اور صرف اسلام کی کامیابی تھی اور نتیجتاً پاکستان کی ہر جیت اسلام کی جیت ہے۔

منگل کے روزاسلام نے عیسائیت کو 5 وکٹوں سے شکست دی جو کہ تاریخی اعتبارسے ہماری مضبوط ترین حریف رہی ہے لیکن سننے میں آیا ہے کے کہ جہاں نیوزی لینڈ میں مذہبی پیروکاروں میں سب سے زیادہ تعداد عیسائیت کو ماننے والوں کی ہے وہاں ملک کی نصف آبادی خود کو غیر مذہبی، یعنی دہریے، قرار دیتی ہے۔ مزید براں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن جہاں اپنے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے حجاب پہنتی ہیں وہاں وہ خود کو ملحدوں کی ایک مشکوک قسم ’اگنوسٹک‘ بھی کہتی ہیں اور مذہب چھوڑنے کی وجہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ ہمدردی بتاتی ہیں۔ ان کے نائب وزیر اعظم ہم جنس پرست ہیں اور جیسنڈا آرڈرن خود غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود ایک بچی کی ماں ہیں لہٰذا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اسلام نے بذریعہ کرکٹ اجتماعی طور پر الحاد، ہم جنس پرستی اور زنا کو بھی عبرت ناک شکست سے ہم کنار کیا ہے۔

ان فتوحات کے بعد اسلام کا ورلڈ کپ جیتنا تو محض ایک رسمی سوال رہ گیا ہے لہٰذا ہمارا دھیان دنیا فتح کرنے کے بعد اسلام کی حکمت عملی پر ہونا چاہئے لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ بے تکے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیا جائے۔

اب جب کہ اسلام ورلڈ کپ پر غالب ہو رہا ہے، منکرین و مرتدین کو یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ جیت کا کریڈٹ جیتنے والے کو دیا جا رہا ہے۔ حکومتی رہنماؤں کے لے کرمشروب بنانے والی کمپنیوں تک سب قوم کو میچ جیتنے لے لئے دعا کرنے کا درس دیں، کپتان اور کھلاڑی جیت کر بلا ناغہ اللہ کا شکر ادا کریں، لیکن فتح کو دین اسلام سے منسوب کرنے سے ان کی پونچھ پر آگ لگ جاتی ہے۔

ماضی میں عمران خان نے بھارت کے خلاف کرکٹ کو جہاد کہا، شاہد آفریدی نے مسلمانوں کی موروثی برتری کا ذکر بھارت میں بیٹھ کر کیا، انضمام الحق سے لے کر احمد شہزاد تک متعدد کھلاڑٰیوں نے اپنے حریفوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت کرکٹ کے میدان میں ہی دی اور شعیب ملک نے تو ہندوستان کے ہاتھوں شکست پر امت مسلمہ سے معافی بھی مانگی۔ جب وقار یونس تک کے اندر کا بت شکن جہادی جاگ جائے اور ہندووں کے بیچ گراونڈ میں نماز پڑھنے کی انگنت عظمتیں گنوانا شروع ہو جائے تب بھی ان بے غیرتوں کے اندر دفن شدہ مومن بانگ درا نہیں سن پاتا۔ ہندوستان میں خوف و کپکپی کا یہ عالم ہے کہ تبصرہ نگار بازید خان کے پنڈت دیا شنکر نسیم سے منسوب ’کفر ٹوٹا‘ کے محاورتاً استعمال پر بھی دہشت کی لہر پھیل گئی۔ اب انھیں اردو کی سمجھ ہوتی تو سب کے سب اسلام قبول نہ کر لیتے؟ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ بھارت کو ہرا کر کفر ٹوٹا بھی ہے اور کفر کی دھجیاں بھی اڑی ہیں۔

ایسے رعب حقیتی اور اسلامی تسلط کے ماحول میں ہمارے خونی لبرل راہ راست پر آنے کے بجائے گمراہ کن سوالات پوچھ رہے ہیں۔ ان میں سب سے ہولناک اور گستاخانہ سوال تو بندہ مکمل طور پر دہرا بھی نہیں سکتا: اگر اس دفعہ ہندوستان کو ہرا کر اسلام کی جیت ہوئی تھی تو کیا پچھلی 12 دفعہ استغفر اللہ کیا مسلمانوں کی آزمائش، خاکم بدھن، ان کی شکست تھی؟ یاد رہے پاکستان کرکٹ نے بھی متحدہ عرب امارات ہجرت کی تھی اور اب اسی دھرتی پر کی گئی جارحانہ فتوحات ماضی کی شائستگی کو منسوخ کریں گی۔

ایک اور مضحکہ خیز سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش اور افغانستان بھی تو ہیں ورلڈ کپ میں، ان کی ہار جیت کا مذہبی قطب نما کس سمت رخ کرتا ہے؟

جب بنگلہ دیش جیتتا ہے تو بنگالی جیتتے ہیں، جب افغانستان جیتتا ہے تو افغان جیتتے ہیں، یہ محض پاکستان ہے جس کے جیتنے پر مسلمان جیتتے ہیں۔ یہ جذبہ آپ کو دبئی کے کرکٹ گراؤنڈ سے لے کر پیرس کے گستاخانہ خاکے بنانے والے جریدوں تک، اور عالمی وبا کے دوران مسجدوں کے احاطوں سے لے کر او آئی سی کے بند کمروں تک دکھائی دے گا: جب تمام مسلم ممالک ذاتی مفادات میں دھنسے نظر آتے ہیں وہاں پاکستان ہی اپنی ذات کو کنارہ کش کر کے اسلام کا پرچم سربلند کرتا ہے۔ ویسے بھی اگر آپ پاکستان میں سے اسلام نکال دیں گے تو باقی بچتا کیا ہے؟

خیر اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ تخریب کار اسلاموفوب اپنی شر پسندی سمیت اس وقت نمودار ہو رہے ہیں جب اسلام اپنے تمام امتیازات میں اضافہ کرتا کرتا اب ورلڈ کپ جیتنے والا پہلا مذہب بننے جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اب تک یہ کامیابی صرف ممالک، ٹیموں، کلبوں، یا کھلاڑیوں تک محدود تھی۔

یہاں پر کئی مومنین کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ 1992ء اور 2009ء کی فتوحات بھی تو تھیں۔ پہلا تو یہ کہ 1992ء میں ہندومت اور دیگر مذاہب کے خلاف پول میجز میں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 2009ء میں گروپ سٹیج میں عیسائیت اور سوپرایٹ میں بدھ مت کے خلاف۔ اسلام کی فتح الحمدللہ مطلق العنان ہوتی ہے۔ 1992ء اور 2009ء میں میدان بھی دار الحرب میں واقع تھے اور ان علاقوں کی آبادیوں کو مسلمان کئے بغیر کسی بھی کامیابی پر اسلام کا جھنڈا نہیں گاڑھا جا سکتا۔ جزیرہ نما عرب کی مقدس ریت پر ہی یہ اسلامی فتح نصیب ہو گی۔

یقینا اسلامی فتوحات کی آنے والی ناگزیر لہر کے لئے ہی پاکستان کرکٹ نے تبلیغی جماعت کا رخ کیا تھا۔ جن احمقوں کا پھر بھی یہ پوچھنا ہے کہ یہ اسلام کے کونسی فقہ کی کامیابیاں ہیں ان سے گزارش ہے کہ ایسے فرقہ وارانہ مسائل ہم پی ایس ایل میں ٹیموں کو فرقوں سے منسلک کر کے حل کر لیں گے: مثلاً وہابی یونائیٹڈ، دیوبندی گلیڈی ایٹرز، بریلوی قلندرز وغیرہ۔ آپ تو بس اب اگلے ورلڈ کپ کی تیاری کریں جس میں پاکستان ٹاس جیت کر پہلے جزیہ لینے کا فیصلہ کیا کرے گا۔

کنور خلدون شاہد ایک صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ ’دی ڈیپلومیٹ‘ کے پاکستان میں مقیم نمائندہ ہیں، ’دی سپیکٹیٹر‘ کے لیے بطور کالم نگار کام کرتے ہیں اور پاکستانی سیٹائر اخبارات ’دی ڈیپینڈنٹ‘ اور ’خبرستان ٹائمز‘ کے شریک بانی ہیں۔