نقطہ نظر

فیڈل کاسترو بنام عبدالقدیر خان

فاروق سلہریا

ڈاکٹر خان! عالم بالا میں خوش آمدید۔

’روزنامہ جدوجہد‘ اکثر میرے ملک بارے خبریں اور تبصرے شائع کرتا ہے۔اس اخبار کی وجہ سے میں نے بھی پاکستان کے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔

سچ پوچھئے تو آپ کا نام میں نے کافی سال پہلے بھی سنا تھا جب آپ نے پاکستانی ٹیلی ویژن پر آ کر اپنے کچھ جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ کمیں نے کیا،پوری دنیا نے وہ اعتراف ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔ اسمگلنگ ہمارے ہاں لاطینی امریکہ میں بھی بہت ہوتی ہے مگر جو خیال آپ کو سوجھا‘ وہ تو کبھی پابلو ایسکوبار کو بھی نہ سوجھا ہو گا۔

کل جب پاکستانی میڈیا میں آپ کی وفات بارے پڑھا تو مجھے وہ بریفنگ یاد آئی جو کیوبا کی وزارت خارجہ میں کام کرنے والے میرے کیوبن کامریڈز نے مجھے دی تھی۔

مجھے یاد آیا کہ آپ پاکستانیوں کے ہیرو تھے اور ٹیلی ویژن پر اپنے اعتراف جرم کے باوجود ہیرو ہی رہے۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ جس فوج نے آپ سے ٹیلی ویژن پر وہ اعتراف کرایا وہ بھی آپ کے ملک پاکستان میں ہیرو ہے۔

کیوبا میں ہم ایسی باتوں پر حیران پریشان ہونے کی بجائے دل کھول کر ہنستے ہیں‘ قہقہے لگاتے ہیں۔ کیونکہ ہم ایسی باتوں کو سمجھ چکے ہیں۔ ورنہ ہمارے ہاں سوشلسٹ انقلاب نہ آتا۔ اس لئے میں نے بھی زوردار قہقہہ لگایا اور ساری صورتحال بارے ہیوگو شاویز کو فون پر بتایا۔

ہیوگو نے بھی آپ کے بارے میں سن رکھا تھا۔ وہ ہر وقت اخباروں اور کتابوں میں گھسا رہتا تھا۔ یہاں عالم بالا میں بھی اس کا یہی کام ہے۔ ابھی بھی کہیں کسی ڈیجیٹل لائبریری کو سرف کر رہا ہو گا۔ ہیوگو ایسی باتوں پر ہنسنے کی بجائے ہمیشہ میرے ساتھ سنجیدہ بحث کرنے لگتا تھا۔

”کمپانیرئیو! بم اور ایٹم بم بنانے والے ہیرو نہیں ہوتے۔ ا ن بموں کوختم کرنے والے اصل ہیرو ہوتے ہیں۔ آپ سے بہتر اس بات کو کون سمجھ سکتا ہے۔ آپ اور کیوبا کی وجہ سے لاطینی امریکہ نیوکلیئر فری بر اعظم ہے“، وہ لینڈ لائن کی دوسری طرف سے بولا۔

ڈاکٹر صاحب! سچ پوچھئے تو ہیوگو کی یہ بات درست تھی۔ سرد جنگ کے دنوں میں کیوبا کے لئے ایٹم بم بنانا چنداں مشکل نہ تھا۔ پھر سرکاری طور پر امریکہ کا کوئی دشمن ملک ہے تو کیوبا ہی ہے۔ مصیبت یہ کہ ہم ہیں بھی انکل سام کے پڑوسی… اس کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا کہ ایٹم بم نہیں بنائیں گے۔

وہ ایٹم بم ہم نے کس پر چلانا تھا؟ اپنے امریکی محنت کش بہن بھائیوں پر؟ ہم امریکی سامراج کے دشمن ہیں، امریکی محنت کش ہمارے ساتھی ہیں۔

میں یہ بات عالم بالا پہنچ کر نہیں کہہ رہا۔ اپنی زندگی میں بھی یہ باتیں دنیا کو بتاتا رہا ہوں۔ جنگی نقطہ نظر سے بھی یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہوتااگر ہم ایٹم بم بناتے۔ ایک،دو، تین…کیوباکتنے ایٹم بم بنا لیتا؟ امریکہ کے پاس ہم سے دو چار سو زیادہ ہی ہونے تھے۔

ہیوگو کو یہ ساری باتیں پتہ تھیں۔ مجھ سے سن چکا تھا۔ بولا”یہ جنوبی ایشیا والے بھی لاطینی امریکہ کی طرح نیوکلیئر فری کیوں نہیں بن جاتے؟“

میرا جواب تھا:”جب تک چین اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک نہیں کرتا، انڈیا نہیں کرے گا، انڈیا نہیں کرے گا تو پاکستان نہیں کرے گا اور چین تب تک نہیں کرے گا جب تک امریکہ اور یورپ نہیں کرتے۔“ ویسے یہ باتیں ہیوگو کو کونسی نہیں پتا تھیں۔ وہ بھی سب جانتا تھا۔

اسے البتہ ایک بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایٹم بم ایسے تباہی کے ہتھیار بنانے والے ڈاکٹر خان جیسے لوگ کسی قوم اور ملک کے ہیرو کیسے ہو سکتے ہیں؟ ”سر تو کوئی بھی احمق کاٹ سکتا ہے۔ اصل بہادری تو کٹے ہوئے سر کو کندھوں سے جوڑنا ہے“، ہیوگونے اپنے پسندیدہ روسی ناول نگار کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔

ڈاکٹر خان! میں کبھی کبھی آپ کے کالم بھی پڑھتا تھا۔ آپ کے بارے میں کالم بھی پڑھتا تھا۔ یقین کیجئے مجھے آپ کے کالم پڑھ کر بھی بہت افسوس ہوتا اور آپ کے بارے کالم پڑھ کر بھی افسوس ہوتا۔

میں ہمیشہ یہ سوچتا کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ خود سوچئے اگر یورپ سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد تیسری دنیا کے ایک شہری کی معاشرے، سماج، سیاست اور ثقافت بارے سوچ وہی ہو جو مولوی خادم رضوی یا امریکی پادری پیٹ رابرٹس کی ہے تو اسے انسانیت کے لئے قابل افسوس ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

میں ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہوں کہ اگر آپ کیوبا کے شہری ہوتے تو تیسری دنیا کا کتنا بھلا ہو سکتا تھا۔ کیوبا آپ سے ایٹمی بم بنوانے کی بجائے آپ سے ایٹمی فضلے کا حل دریافت کرنے کا کام لیتا۔ ممکن ہے آپ کامیاب ہو جاتے،ممکن ہے نہ ہو پاتے۔ لیکن اس تحقیق کے نتیجے میں کیوبا کے لوگوں کو گھاس نہ کھانا پڑتی۔

مجھے یاد ہے آپ کے ملک میں حکمران ”گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے“ کا نعرہ لگاتے تھے۔ آپ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ یہ مہنگا بم بنانے کے بعد آپ نے گھاس کھائی نہ حکمرانوں نے۔ میں نے تو آپ بارے یہ افواہ بھی سن رکھی ہے کہ آپ نے اسلام آباد میں کوئی غیر قانون کوٹھی کسی جھیل کنارے بنائی تھی۔ خیر۔ میرا مقصد آپ کو شرمندہ کرنا نہیں تھا۔

عالم بالا میں ایک بار پھر خوش آمدید۔ معلوم نہیں آپ بھٹو کو پہلے ملنے جائیں گے یا ضیا الحق کو(ثانی الذکر کو ملنے سے میں سخت پرہیز برتتا ہوں)۔ لیکن ہیوگو سے کسی دن ملاقات ہو تو اسے یہ بات سمجھانے کی کوشش کیجئے گا کہ ایک آدمی بیک وقت بھٹو اور ضیا کا پیروکار کیسے ہو سکتا ہے۔ اسے ان پاکستانی مڈل کلاس تضادات سمجھنے میں بہت دلچسپی ہے۔

آدئیوس۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔