شاعری

عجب انداز سے پھیلے گا زنداں ہم نہ کہتے تھے؟ جاں نثار اختر

قیصر عباس

آج اپنے حالات پر نظر دوڑائیں تو پاکستان اور ہندوستان میں جمہوریت کا وہی حال ہو چکا ہے جس کی پیش گوئی جاں نثاراختر نے بہت پہلے کی تھی۔ جمہوری اقدار کی آڑ میں کہیں اقلیتوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے اور کہیں ملکی تحفظ اور قومیت کے نام پر زباں بندی اور استبداد کے نئے زاویے تشکیل دئے جارہے ہیں۔

آلِ احمد سرور نے جاں نثار اختر کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے ایک شعر کو آنے والے دنوں کی پیش گو ئی قراردیاتھا:

”آج حکومتیں، ریڈیو، اخبار اور اس طرح کے اکثر تہذیبی اور تعلیمی ادارے ایک ہی راگ الاپنے پر مصرہیں۔ لفظ جو کائنات تھا سمٹ کر نوکر شاہی کا مائیکروفون بن گیا ہے۔ آزاد ذہن کے لئے، حریت ِفکر کے نئے نئے دام ہیں۔ لفظوں کے معانی بد ل دئے گئے ہیں۔ جمہوریت کے ہم جو معنی سمجھتے تھے اب اس سے بالکل مختلف معنی کچھ ارباب اختیار اصرار کرتے ہیں۔ افکار و اقدار کا ایک طلسم ہوش ربا بنا دیا گیاہے جس کی روح گم ہوگئی ہے۔ اب جاں نثار اختر کا یہ شعر دیکھئے:

ترانے کچھ دیے لفظوں میں خودکو قید کر لیں گے
عجب انداز سے پھیلے گا زنداں ہم نہ کہتے تھے

جان نثار اختر ہندوستان میں سامراجی تسلط اور سماجی استحصال کے خلاف اردو شاعری کی ایک اہم آواز بن کے ابھرے۔ وہ ترقی پسند اور انقلابی تحریک کے سرکردہ رکن تھے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے بعد بمبئی میں سکونت اختیار کی اور بالی وڈ فلموں میں نغمہ نگار کی حیثیت سے مقبول ہوئے۔ مضطر خیر آبادی ان کے والد تھے اورعصر حاضر کے مشہور شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر ان کے صاحب زادے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا خاندان تین نسلوں سے شاعری کی اعلیٰ روائتوں کا امین ہے۔

جان نثار اختر (1914-1976ء) کا تعلق ہندوستان کی ریاست گوالیار سے تھا۔ وہیں ابتدائی تعلیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردوادب میں ایم اے کیا اور گوالیار کے وکٹوریہ کالج میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ اسرارالحق مجاز کی ہمشیرہ صفیہ سے شادی ہوئی جو خود بھی نامور ادیبہ اور اردو کی پروفیسر تھیں۔ جاں نثار کو کمیونسٹ پارٹی کے رکن اور ترقی پسند ادیبوں میں ایک نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ جب حکومت نے کمیونسٹوں پر پابندیاں لگائیں تو انہیں بھوپال میں حمیدیہ کالج کی ملازمت سے استعفی دینا پڑا جہاں وہ شعبہ اردو و فارسی کے صدرتھے۔ شاعری میں غزلوں، نظموں اور قطعات سے شہرت پائی۔

یہ غزل ان کے کلام کے مخصوص پہلووں کی نمائندگی کررہی ہے جس میں وہ سماجی ناانصافیوں سے انکار کا درس دیتے کھائی دیتے ہیں۔ کلام کی شان نزول تو معلوم نہیں لیکن پوری غزل میں حالات کی گمبھیرتا، انقلاب کی امید اور انسانی زندگی کی ارزانی کے موضوعات شاید انگریز سامراج کے آخری دنوں کی سنگینی کا پتہ دے رہے ہیں:

انقلابوں کی گھڑی ہے
ہر ”نہیں“ ”ہاں“ سے بڑی ہے

لوگ خاموش سے کیوں ہیں
ایسی کیا آن پڑی ہے

کبھی ایسا بھی لگا ہے
زندگی بند کھڑی ہے

کیا ہوئے رات کے راہی
راہ سنسان سی پڑی ہے

دوجہاں کھو نہیں جائیں
عشق کی شرط کڑی ہے

اب کہاں آنکھ میں آنسو
دھول پلکوں سے جڑی ہے

کتنی لاشوں پہ ابھی تک
ایک چادر سی پڑی ہے

روح کی پیاس کے آگے
جسم کی پیاس بڑی ہے

رات رستے سے ہٹے بھی
صبح آنے کو کھڑی ہے

انکار جاں نثار کے یہاں مزاحمت کا وہ راستہ ہے جہاں رات کے راہی کھو گئے ہیں اور سنسان راستوں پر تاریکی دوڑ رہی ہے۔ زندگی کھڑی ہوئی ہے، لوگ خاموش ہیں اور چاروں طرف چھائی ہوئی بے چارگی سے گمان ہوتاہے کہ انقلاب کی منزل کہیں دور نہیں آس پاس ہی موجود ہے۔

دوسری عالمی جنگ کا منظر نامہ بھی اس غزل کا پس منظر بیان کر رہا ہے۔ سڑک پر انسانیت کا ایک بے جان جسم چادر میں ملبوس پڑاہے۔ یہاں جنگ کے عالمی اثرات، انسانی زندگی کی بے مائیگی ایک نئی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں عالمی جنگ کے بعد کی غیر یقینی، آزادی کی ابھرتی ہوئی تحریکیں اور افق پر ایک نئے دن کی روشنی، ان سب سے مل کر اس غزل کا ماحول تشکیل کیا گیا ہے۔

حوالہ
پچھلے پہر، جاں نثار اختر (مجموعہ کلام) مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، جامعہ نگر، نئی دلی، 2005ء۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔