تبصرے

یہ شاہراہیں نہیں…قتل گاہیں ہیں!

بدر رفیق

2 روز قبل 21 اکتوبر کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے اندر ایک ہی دن متعدد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 2 پبلک سروس ٹرانسپورٹ کے بڑے حادثات میں 7 اموات ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ پہلا المناک حادثہ پونچھ کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر راولاکوٹ کے قریبی شہر کھائی گلہ سے تولی پیر کی طرف جانے والی شاہراہ پر مقامی سکول وین کوپیش آیا۔

مقامی ذرائع اور اخبارات کے مطابق حادثے کی فوری وجہ سامان سے لدا ٹرک تھا جو بریک فیل ہونے کی وجہ سے سکول وین سے آ ٹکرایا۔ جس کے بعد سکول وین ایک کھائی میں جا گری۔ وین میں ڈرائیور سمیت کل 26 افراد/طالب علم سوار تھے، جن میں 3 بچے اور 2 بچیاں ہلاک ہو گئیں اور 14 طلبا و طالبات زخمی ہوئے، زخمیوں کو شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ پہنچایا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں۔

دوسرا حادثہ ضلع نیلم میں تاؤ بٹ جانے والی خستہ حال شاہراہ پر ’جانوئی‘ کے مقام پر پیش آیا جہاں ایک کوسٹر کھائی میں جا گرنے سے 3 افراد ہلاک جبکہ 19 زخمی ہوئے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہونے والے یہ پہلے ٹریفک حادثات نہیں بلکہ یہاں سڑکوں کی خستہ حالی، گاڑیوں کی بدحالی، ڈرائیوروں کی ناقص تربیت، روڈ سیفٹی کیلئے اقدامات کا نہ ہونا اور انتظامی و سرکاری پسماندگی جیسے عوامل آئے روز ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور معذوریوں کا موجب بنتے ہیں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ضلع پونچھ کے انتخابی حلقہ نمبر 5 سے ممبر قانون ساز اسمبلی صغیر چغتائی ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوئے جو انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار بھی تھے۔ یوں تو یہاں اب تک ہزاروں محنت کش اور غریب عوام ہلاک ہو چکے ہیں مگر صغیر چغتائی کے حادثے کے دوران ٹریفک کے نظام پر مین اسٹریم میڈیا پر ہمیشہ کی طرح حکمران طبقے اور خصوصی طور پر موجودہ حکمران جماعت نے نہ صرف ٹریفک نظام کو درست کرنے بلکہ پوری ٹورازم کی انڈسٹری ڈیویلپ کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے۔ جن کی وجہ سے وقتی طور پر غریبوں کی بھی کچھ ڈھارس بندھی کہ شائد اب ٹورازم کے لئے سڑکوں کی مرمتی سے بدحال محنت کش اور ان کی اولادیں محفوظ ہو سکیں، مگر یہاں 7 دہائیوں سے زائد کھوکھلے دعوؤں کی تاریخ موجود ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ادارہ شماریاتی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں گزشتہ 10 سال کے دوران سالانہ تقریباً 9 ہزار ٹریفک حادثات رونما ہوئے جن میں سالانہ اوسط 5 ہزار افراد اپنی قیمتی جانیں کھو بیٹھے ہیں۔”آزاد جموں و کشمیر شماریاتی بک2020ء“ کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں 2018-19ء کے دو سالوں کے دوران پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں کل 897 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 349 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 1710 افراد زخمی ہوئے۔ 2018-19ء کے دو سالوں کے دوران ہونے والے ان حادثات میں سے 168 حادثات دارالحکومت مظفرآباد میں ہوئے جن میں 57 افراد ہلاک اور 374 زخمی ہوئے۔ 26 حادثات ضلع نیلم میں ہوئے جن میں 17 اموات ہوئیں جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے۔ 31 حادثات جہلم میں رپورٹ ہوئے جن میں 12 اموات جبکہ 63 افراد زخمی ہوئے۔ 47 واقعات ضلع باغ میں رپورٹ ہوئے جن میں کل 21 اموات ہوئیں جبکہ 93 افراد زخمی ہوئے۔ 17 حادثات ضلع حویلی میں ہوئے جن میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 69 افراد زخمی ہوئے۔ 128 حادثات ضلع پونچھ میں رپورٹ ہوئے جن میں 35 افراد گزشتہ دو سالوں میں ہلاک ہوئے جبکہ 230 افراد زخمی ہوئے۔ 46 حادثات ضلع سدھنوتی میں رپورٹ ہوئے جن میں 18 افراد ہلاک جبکہ 108 زخمی ہوئے۔ ضلع کوٹلی میں 150 حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 57 افراد ہلاک جبکہ 241 افراد زخمی ہوئے۔ ضلع میرپور میں 198 حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 74 افراد ہلاک جبکہ 289 افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح ضلع بھمبر کے اندر 89 ٹریفک حادثات میں 41 افراد ہلاک جب کہ 140 افراد زخمی ہوئے۔

یوں تو دنیا بھر میں متعدد ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مگر پاکستان اور بالخصوص زیر انتظام جموں کشمیر جیسے پسماندہ اور پہاڑی خطوں کے اندر چھوٹے بڑے ٹریفک حادثات تقریباً معمول بن چکے ہیں۔ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے جن اقدامات کی سب سے پہلے ضرورت ہے ان میں سڑکوں کی بہتر تعمیر، پختگی، مرمتی، سائن بورڈز لگانا، عدسوں کو نصب کرنا، سرکاری سطح پر روڈ سیفٹی آگاہی مہم، پبلک سروس گاڑیوں کی معمول کی چیکنگ کا نظام، گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس اور ان کی سہ ماہی تجدید کا نظام بنانا، ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا نظام بہتر بنانا اور اس سارے نظام کی ایکٹو اور ری ایکٹو یا پیسو مانیٹرنگ کا نظام ترتیب دینا، ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرنا، تمام نظاموں کو مرکزی نظام میں مربوط کرتے ہوئے گاڑی اور ڈرائیور کے تضاد کو ختم کرنا، گاڑی اور سڑک کے تضاد کو ختم کرنا اور پورے نظام کو ہم آہنگ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ان تمام اقدامات کے لئے جن معاشی و دیگر وسائل کے اجرا کی ضرورت ہے، اس کی گنجائش موجودہ حرص پر مبنی سامراجی، طبقاتی، جابر،ظالم اور انسان دشمن نیم سرمایہ دارانہ و نیم جاگیردارانہ نظام میں عرصہ قبل ختم ہو چکی ہے۔ مثلاً ایک نجی ٹھیکیدار کی طرف سے سڑک بنانے کا مقصد منافع سے بڑھ کر کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کی اپنی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے شفٹوں کی نجی گاڑیوں کے مالکان کی طرف سے 6 افراد کی گنجائش والی گاڑی میں 15 طالب علم بچوں کو ٹھونسنے اور ان خستہ حال پہاڑی ’قاتل شاہراہوں‘پر ایمبولینس کی طرح 3، 3 شفٹوں میں طلبہ کو اداروں تک پہنچانے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں پر گاڑیوں کی کمی ہے بلکہ بنیادی طور پر نجی مالک کا مقصد زیادہ سے زیادہ کرایہ اکٹھا کرتے ہوئے اپنے گھر کا چولہا جلانے کے علاوہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔

یہاں ہر چیز بنانے کا مقصد منافع خوری کو مقدم ٹھہرایا گیا ہے۔ ہر شے کو منڈی کی جنس بنا دیا گیا، حتیٰ کہ تعلیم، علاج، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی سر بازار فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے پیداوار کے بنیادی مقصد کو منافع خوری کی بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل سے بدلنا لازم ہو چکا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں پہلے سے ہی سیاسی غلامی، مہنگائی، بیروزگاری، تعلیم اور علاج کی ناکافی سہولیات اور دیگر مسائل نے محنت کشوں کاجینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ان ’قتل گاہ نما شاہراہوں‘ پر آئے روز حادثات اور خاص کر طالب علموں اور سکول کے بچوں کی اموات جیسے واقعات محنت کش عوام، نوجوانوں اور طالب علموں کے احساسات کو مزید دُکھی اور مجروح کرنے میں بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس خطے میں نصف کروڑ کے لگ بھگ آبادی کے پاس تقریباً 1 لاکھ سرکاری نوکریوں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے نجی اداروں،جیسے نجی تعلیمی اداروں میں ہزاروں کی تعداد (جن میں خاص کر خواتین کو نیم روزگار کی سہولت دستیاب ہے) کے علاوہ کوئی خاطر خواہ انڈسٹری موجود نہیں ہے جس میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہوں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہوکرعرب کے تپتے صحراؤں میں خون پسینہ نچوڑکر خاندان بنانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔ ایک خاطر خواہ تعداد ایسی بھی موجود ہے جو پہلی دنیا میں اپنا اور خاندان کا مستقبل بنانے اور کچھ نسبتاً سہل دنیا دیکھنے کی خواہش میں ہر سال غیر قانونی ذرائع سے یورپ اور پہلی دنیا کے دیگر ممالک میں پہنچنے کے لئے اپنی جانوں پر کھیلنے والی مہم جوئی تک کرتے ہیں۔ ان میں کچھ نوجوان اپنی منزل تک پہنچنے کے بعد تقریباً ایک دہائی میں نسبتاً بہتر معاشی حالت تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں مگر اکثر اس مہم جوئی کے دوران مختلف ممالک کی جیلوں میں سڑتے ہیں، کسی جنگل میں لاوارث لاشوں کی صورت میں جنگلی جانوروں کا چارہ بنتے ہیں یا سمندر کی لہروں کا شکار بنتے ہیں، غرضیکہ اپنی جانیں تک گنوا بیٹھتے ہیں۔ تعلیم کے لئے بھی نوجوانوں کے پاس بہت کم تعلیمی اداروے موجود ہیں، جو موجود بھی ہیں ان کی بھی حالت قابل رحم ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی تمام بڑی جامعات، میڈیکل کالجز، ٹیکنیکل کالجز، قانونی تعلیم کے اداروں، فنی اداروں اور مراکز سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ ادارے کی اپنی عمارات نہ ہونے، سرکاری ہاسٹل کی سہولت نہ ہونے، ٹرانسپورٹ کی ناکافی اور بدحال سہولیات جیسے دیگر مسائل سے دو چار ہیں۔

ان تمام زخموں کے ہوتے یہاں پر آئے روز ٹریفک حادثات میں محنت کش عوام کی دیگر پرتوں سمیت طلبہ اور نوجوان مزید گھائل ہو رہے ہیں۔ محنت کش طبقہ ان زخموں، تکلیفوں، دُکھوں اور مسائل سے گھائل ضرور ہے، ان مسائل کے معمول بن جانے سے وقتی طور پر سکتے کی کیفیت میں بھی ہے، مگر محنت کش عوام ان چند تھکے ہارے اور مایوس نوجوانوں کی طرح اجتماعی خود کشی نہیں کر سکتے۔

محنت کشوں میں احساس اور زندگی کی رمق ابھی بھی باقی ہے، یہ ابھی حکمران طبقے کی طرح مستقل بے حسی کی کیفیت تک نہیں پہنچا، جس کی زندہ مثال سکول وین حادثے کے بعد شیخ زید ہسپتال راولاکوٹ میں زخمیوں کے لئے خون کا عطیہ دینے کے لئے لگے جم غفیر کی صورت میں دیکھنے کو ملی ہے۔ میلوں سفر طے کر کے درجنوں کی تعداد میں نوجوان مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد زخمی طلبہ کو خون عطیہ کرنے راولاکوٹ پہنچی اور ضرورت سے زیادہ خون چند گھنٹوں میں عطیہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جائے حادثہ پر مقامی محنت کشوں اور نوجوانوں کی رضاکارانہ امدادی سرگرمیوں نے بھی اجتماعی سماجی احساس کا اظہار کیا ہے۔

طبقاتی کشمکش دیگر تعصبات میں کہیں ماند پڑ گئی ہے، لیکن یہ وہی خطہ ہے جس کے محنت کشوں نے بظاہر طاقتور ترین نظر آنے والے حکمرانوں کی موجودگی میں 1946ء میں برطانوی سامراج کو اور تقسیم کے بعد پاکستان میں 1968-69ء میں ایوب آمریت کے دوران سرمایہ دارانہ رشتوں کو ان ہی شاہراہوں پر چیلنج کیا تھا۔

ہاں! یہ وہی محنت کش طبقہ ہے، جو ان تمام تکالیف کو برصغیر کی تقسیم کے بعد اور پاکستان میں ضیا آمریت کے بعد سے برداشت کرتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف غم و غصے کو جمع کر رہا ہے۔ اس سماجی غم و غصے اور انقلابی تحریک میں شائد کسی ایک چھوٹے چنگاری نما واقعے کا فاصلہ باقی رہ چکا ہے۔ جب تاریخ اپنے الٹ میں بدلے گی، تو پھر یہی شاہراہیں شائد قتل گاہیں تو ہوں پر محنت کشوں کا انتقام اتنا گھٹیا اور چھوٹا نہیں ہو گا کہ ان شاہراہوں پر راج کرتے ہوئے انسانوں کا قتل عام کرے، بلکہ پھر آج کی یہ ”موت بانٹتی شاہراہیں“ قتل گاہیں بنیں گی لیکن یہ قتل گاہیں انسانوں کی بجائے ان انسان دشمن سامراجی اور سرمایہ دارانہ رشتوں کی ہونگی، جن رشتوں کو قائم رکھنے میں مفادات تلاشنے والے حکمران طبقات محنت کشوں اور نوجوانوں کے قتل عام کے موجب بن رہے ہیں۔

بدر رفیق کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے ہے۔ وہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے میگزین ’عزم‘ کے مدیر ہیں۔