خبریں/تبصرے

اسلام آباد انتظامیہ نے جبری گمشدگیوں پر مبنی شارٹ فلم کی نمائش روک دی، گیلری سیل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایک مقامی گیلری پر چھاپہ مارتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کرنے والی شارٹ فلم کی نمائش کو زبردستی روک دیا ہے۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ تقریب ’پاکستان مخالف‘ ہے۔

’ٹی ایف ٹی‘ کے مطابق چیئر پرسن ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ ان کی تنظیم بدھ کو اسلام آباد میں عکس نروانا آرٹ گیلری میں جبری گمشدگیوں پر مبنی فلم کی سکریننگ اور کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کیلئے جا رہی تھیں، تاہم انہیں گیلری پہنچنے پر معلوم ہوا کہ گیلری کو سیل کر دیا گیا ہے اور داخلی دروازے پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی موجود تھی۔

یاد رہے کہ جس کتاب کی تقریب رونمائی ہو رہی تھی وہ جبری گمشدگیوں سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے اور فلم ’لوٹ کے آنے کی آس‘ بھی اسی موضوع پر تھی۔

سکریننگ کیلئے ملک بھر سے کئی لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم ضلعی انتظامیہ نے منتظمین کو تقریب منعقد نہیں کرنے دی اور گیلری کو سیل کر دیا۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق جب وہ گیلری کے مالک اور منیجر سے ملیں تو وہ خوفزدہ نظر آئے اور انہوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر صبح پولیس کے ساتھ گیلری میں آئے اور گیلری کو سیل کر دیا۔ حکام نے مبینہ طور پر گیلری کی انتظامیہ کو بتایا کہ اسے سیل کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے احاطے میں ’پاکستان مخالف‘ تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔

ادھر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزدہ شفقات کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تقریب کو نہیں روکا گیا۔