خبریں/تبصرے

دنیا ہماری مدد کرے: طالبان وزیر اعظم

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان کے قائمقام وزیر اعظم ملا محمد حسن نے کہا کہ ان کی عبوری انتظامیہ کو ڈوبتی ہوئی معیشت وراثت میں ملی ہے اور انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بحران کو روکنے میں مدد کرے۔

’بلوم برگ‘ کے مطابق ملا محمد حسن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے قومی خطاب میں کہا کہ اشرف غنی کی سابق امریکی حمایت یافتہ حکومت بدعنوان تھی اور اس نے ملک کی معاشی صورتحال کو نقصان پہنچایا، امارت اسلامیہ (طالبان حکومت) تمام ممالک کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات چاہتی ہے۔

قائمقام وزیر اعظم کی اس تقریر کا صرف آڈیو حصہ ہی ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔

ستمبر کے اوائل میں بطور قائمقام وزیر اعظم عہدہ سنبھالنے والے طالبان رہنما ملا محمد حسن نے یہ تقریر ایک ایسے وقت میں کی ہے جب ملک بدتر ین غربت کا شکار ہے، معیشت تباہ ہو چکی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ افغانستان کی تقریباً 40 ملین میں سے نصف سے زیادہ آبادی شدید بھوک کا سامنا کر رہی ہے۔ سخت سردیوں کے دوران ایک ملین بچوں کی اموات ہو سکتی ہیں۔ 2022ء کے وسط تک ملک کی 97 فیصد آبادی غربت کا شکار ہو جائیگی۔

طالبان انتظامیہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکی بینکوں میں موجود 9 ارب ڈالر کے اثاثوں تک رسائی روک کر پہلے سے نازک صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ملا محمد حسن کا کہنا تھا کہ مہنگائی بہت تشویشناک ہے، اگر افغان رقم جاری ہو جاتی ہے تو تمام مالی اور اقتصادی مسائل حل ہو جائینگے۔

طالبان حکومت کے قائمقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان کا ایک وفد اس وقت قطر کے شہر دوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ انہیں رقم جاری کرنے اور ملک میں انسانی امداد کو دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔