نقطہ نظر

پرانے لاہور کی فوڈ سٹریٹ میں ترک چینی ویلکم مگر سندھی بلوچی نہیں

فاروق سلہریا

 

تین روز قبل راقم اپنی یونیورسٹی کے طلبہ کے ہمراہ اندرون لاہور کی سیر کے لئے گیا۔ دلی دروازے سے ہوتے ہوئے ہم سبیل والی گلی، شاہی حمام اور مسجد وزیر خان سے ہوتے ہوئے فوڈ سٹریٹ پہنچے۔ سبیل والی گلی میں ڈھول کی شاندار پرفارمنس ہمیں کبھی نہیں بھولے گی۔

سجے سجائے رنگین رکشوں پر مینار پاکستان سے ہوتے ہوئے فوڈ سٹریٹ کا یہ مختصر سا سفر بلاشبہ بہت سوں کے لئے یاد گار رہے گا۔

فوڈ سٹریٹ تقریباً دو تین سال بعد جانے کا اتفاق ہوا۔ فوڈ سٹریٹ دو تین سال پہلے جیسی تھی، دو تین دن پہلے بھی ویسی ہی تھی۔ ہاں البتہ فوڈ سٹریٹ کے داخلی دروازے کے برابر ایک نئی تختی آویزاں تھی جس پر پنجابی، پشتو، چینی اور ترکی زبانوں میں خوش آمدید لکھا ہوا تھا۔

راقم ہر زبان کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ترکی یا چینی زبان میں ترک اور چینی باشندوں کو فوڈ سٹریٹ آنے پر خوش آمدید کہنا بلاشبہ ہر دو ملکوں کے سیاحوں کے لئے خوشگوار تجربہ ہو گا۔

اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ اگر ترکی، چینی اور پشتو میں خوش آمدید لکھا جا سکتا ہے تو بلوچی اور سندھی زبان میں کیوں نہیں؟

پس نوشت: اتفاق سے گذشتہ روز جس کریم کیپٹن نے مجھے شدید سموگ کے باوجود مجھے یونیورسٹی پہنچایا اس کا نام نعمان بلوچ تھا اور وہ کوئٹہ سے لاہور آ کر کریم چلا رہا ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔