تاریخ

بے نظیر سے ہوئی ملاقاتیں اور یادیں

فاروق طارق

آج سے 14 سال قبل جب 7 دسمبر 2007ء کو شام ساڑھے پانج بجے کے قریب راولپنڈی میں مذہبی جنونی طالبان نے سیکورٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث بے نظیر بھٹو کو شہید کیا تو میں اس وقت کراچی جانے کے لئے لاہور ائیرپورٹ روانہ ہونے کی تیاریوں میں تھا۔ ابھی ہربنس پورہ روڈ پر ہی تھا کہ فون پر یورپ سے ایک دوست کی کالآئی ”بے نظیر بھٹو شہید ہو گئی ہیں“۔

ڈرائیور کو فوری گھر واپسی کاکہا تو اس نے پوچھا آپ تو کراچی جا رہے تھے۔ اسے بتایا کہ بے نظیربھٹو شہید ہوئی ہیں اب دیکھنا ملک میں کتنا شدید احتجاج ہو گا۔ ”کراچی کاپروگرام کینسل ہے“۔

آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں رہے تھے، فون مسلسل بج رہا تھا۔ سب کی یہی حالت تھی کوئی پیپلز پارٹی سے تھایا نہیں، آنسو کی بارات لگی ہوئی تھی۔

ابھی ہم کوئی 3 ہفتے قبل ہی تو ان سے عاصمہ جہانگیر کے گھر اکٹھے ملے تھے ایک تفصیلی اجلاس کے لئے۔ مجھے انہوں نے کراچی بلایا تھا، پیپلز پارٹی کے اقتصادی پروگرام کو مذید ریڈیکل بنانے کے لئے۔ ناہید خان کو بلا کر خاص ہدایات دی تھیں۔

یہ میری بے نظیر بھٹو سے 1977ء سے شروع ہونے والی چند ملاقاتوں میں سے آخری تھی۔

آج انکی شہادت کے 14 سال بعد ان ملاقاتوں کا مختصر ذکر کروں گا ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے۔

ستمبر 1977ء کو جب وہ اپنے والد ذولفقار علی بھٹو کی گرفتاری کے بعد عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں فیصل آباد آئیں تو میں ان دنوں پنجاب یونیورسٹی سے فارغ ہو کر اپنے چچا عبدالرشید غازی کے ساتھ بزنس میں شامل تھا۔ پیپلز پارٹی کو جوائن تو نہیں کیا تھا مگراس وقت لیفٹ کے تقریبا تمام گروپس ضیالحق فوجی مارشل لا کے خلاف تھے اور پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھتے تھے۔

بے نظیر بھٹو چوہدری عمر دراز کے گھر ٹھہری تھیں اور دھوبی گھاٹ میں اپنا پہلا سیاسی جلسہ کرنے والی تھیں۔ میرے چچا عمر دراز کے قریبی دوستوں میں سے تھے چنانچہ ان کے گھر بے نظیر بھٹو سے ویکلی الفتح کراچی کے لئے مختصر انٹرویو کیا اور بعدازاں ان کی دھوبی گھاٹ میں تقریر کے مندرجات بھی اس انٹرویو میں شامل کر کے ’الفتح‘ کو بھجوا دی۔ بے نظیر بھٹو اس وقت صرف 24 سال کی تھیں اور ہم ان سے بھی 2 سال چھوٹے تھے۔ یہ انٹرویو ’الفتح‘ میں شائع ہوا اور خوب پڑھا گیا۔

جب بے نظیر بھٹو جلاوطنی میں 4 198ء میں لندن تشریف لائیں تو ہم ہالینڈ میں جلا وطن تھے اور پیپلز پارٹی یورپ کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ چند دنوں بعد ان کا تاریخی جلسہ لندن میں ہوا تو ہم بھی اپنے ساتھیوں سمیت اس جلسے میں شریک ہوئے۔

جس طرح آج پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے نوجوان’آزادی‘ کے بھرپور نعرے لگاتے ہیں، ہم بھی ان سالوں میں ضیا فوجی آمریت کے خلاف نعرے لگانے میں مقبول تھے۔ جلسے کے دوران ہم نے اس قدر شدید نعرے بازی کی کہ بے نظیر بھٹو کو کئی دفعہ اپنی تقریرروکنی پڑی اور ہمیں خاموش ہونے کو کہا اور بھرپور تعریفی جملے کہا۔ یہ ملاقات تو نہ تھی مگر ایک تعارف تھا کہ نوجوان انقلابیوں کا ایک گروہ ’جدوجہد‘ کے ارد گرد منظم ہے۔

جب وہ چند دنوں بعد بریڈ فورڈ جلسہ کرنے آئیں تو بھی ہم سامعین میں تھے اور رات کو ان کے اعزاز میں ایف ڈی فاروقی کے دئیے عشائیہ میں بھی مدعو تھے۔ بریڈ فورڈ میں ہم نے کافی سیاسی کام کیا ہوا تھا۔ وہاں 1983ء کے عام انتخابات میں مرحوم پیٹ وال ایم پی کی انتخابی مہم میں حصہ بھی لیا تھا۔ ایشیائی یوتھ کانفرنس جس میں سینکڑوں شریک تھے، کے منتظمین میں سے تھے۔ بریڈ فورڈٹریڈ کونسل سے قریبی تعلق تھا۔

جب بے نظیر بھٹو ہال میں تشریف لائیں تو ہم اس وقت پیٹ وال اور میکس میڈن ایم پی سے گفتگو کر رہے تھے۔ ہمارے قریب پہنچیں تو ہم نے دونوں کا بے نظیر بھٹو سے تعارف کرایا اور کہا کہ جمہوری جدوجہد میں برطانوی لیبر موومنٹ ہمارے ساتھ ہے۔ کہنے لگیں تم تو ہالینڈ میں ہو اور ان سب کو کیسے جانتے ہو، میں نے تھوڑی تفصیل بتائی تو بہت خوش ہوئیں۔ مجھے بازو سے پکڑکے ساتھ چلنے کو کہا۔ میرے لئے یہ خوشگوار حیرانی تھی مجھے انہوں نے ڈنر ٹیبل پر اپنے ساتھ بٹھا لیا حالانکہ وہ جگہ کسی اورکے لئے ریزرو تھی۔ اچھی گفتگو رہی۔ مجھے کہا کہ کل ملو۔

اگلے روز ہم ان سے ملنے پہنچے تو فوری اپنے پاس بلایا اور ضیالحق آمریت کے خلاف چلنے والی تحریک بارے تفصیلی گفتگو کی۔ ناہید خان 3 دفعہ آئیں کہ وقت ختم ہے اور ملاقاتیں شیڈولڈ ہیں مگر بے نظیر بھٹو نے ہمارے ساتھ ملاقات جاری رکھی۔ پھر کہا آپ میرے ساتھ معاشی ماہرکے طور پر کام کرو۔ ہم مارکسسٹ تھے لیکن پیپلز پارٹی میں تھے۔ فوری ان کی آفر بارے کہا: ”بے نظیر بھٹو آپ جس معیشت کی بات کرتی ہیں ہم اس کے خلاف ہیں، ہمارا معاشی پروگرام انقلابی ہے۔ ہم دونوں کے لئے مشکل ہو جائے گی آمریت کے خلاف جدوجہد کو بھی جاری رکھنے میں“۔

بڑی معذرت خوانہ بات کر کے ان کی پیش کش تسلیم نہ کی۔ انہوں نے بھی اسے اچھا جانا کہ بات صاف کی ہے۔ ”لوگ تو میرے ساتھ جڑنے کے لئے کیا کچھ کرتے ہیں اور آپ نے صاف جواب دیا ہے“۔

ہم مسلسل بے نظیر بھٹو کے ساتھ آمریت مخالف تحریک میں جڑے ہوئے تھے۔ بے شمار مظاہروں کو منظم کیا اور رابطہ برقرار رھا۔ وہ بھی اب ”جدوجہد“ رسالہ کی باقاعدہ قاری بن چکی تھیں۔

پھر ہماری پہل پر ہی بریڈ فورڈ شہر کی بلدیاتی منتخب کونسل نے انہیں بریڈ فورڈ کے شہریوں سے خطاب کی دعوت دی تو ہم بھی خصوصی طور پر ہالینڈ سے بریڈ فورڈ آ گئے۔ کچھ مقامی لیبر کونسلرز ہمارے دوست تھے اور لیبر پارٹی اس کونسل کو کنٹرول کرتی تھی۔ ان مہینوں میں مشہور برطانوی کان کنوں کی ہڑتال جاری تھی۔ مارگریٹ تھیچر کی نیو لبرل پالیسیوں اور کانوں کو بند کرنے کیخلاف، ہم ہالینڈ میں بھی اس کے لئے چندہ اکٹھا کرتے رہے تھے۔

بریڈ فورڈ کونسل کے شاندار ہال میں سینکڑوں سامعین میں ہم بھی موجود تھے۔ بے نظیر بھٹو نے شاندار خطاب کیا مگر کان کنوں کی ہڑتال سے یک جہتی کا اعلان نہ کیا۔ ہمارے واقف ایک سکھ کونسلر اس اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سوال جواب میں میرا ہاتھ کھڑا دیکھ کر بات کرنے کو کہا۔ مختصر میں نے یہ کہا: ”بینظیر بھٹو، یہاں کی اپوزیشن لیبر پارٹی ہماری جمہوری جدجہد کی ساتھی ہے مگر برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر ضیاالحق کی حامی ہے۔ جو ضیا کا حامی وہ ہمارا مخالف، لیبر پارٹی کان کنوں کی ہڑتال کی مکمل حمائیت کرتی ہے، پیپلز پارٹی کو کھلم کھلا انکان کنوں کے ساتھ جڑنا چاہئے“۔

جب میں بیٹھا تو حیران کن طور پر تمام شرکا میری بات کی حمائیت میں کھڑے ہو گئے اور کان کنوں کے حق میں نعرے بازی ہوئی۔ بینظیر بھٹو نے جوابی طور پر کہا کہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ ”میری پارٹی کے ممبر فاروق طارق کے لئے یہاں سٹینڈنگ اویویشن ہوئی ہے۔ آپ محسوس کر سکتے ہوں گے کہ میرے کیا خیالات ہیں۔ میں کھل کر تو بات نہیں کر سکتی۔ مہمان ہوں یہاں پر مگر آپ انڈر سٹینڈکریں کہ پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟ “انہوں نے خوبصورتی سے درپردہ حمائیت کا اعلان کیا۔

جب گیٹ سے باھر جا رہی تھیں تو مجھے دیکھ کر رکیں۔ میں اپنے ساتھیوں سمیت ”جدوجہد“ رسالہ سیل کر رہاتھا۔ کہا ”مجھے بھی ایک میگزین دیں دیکھوں اس میں کیا لکھا ہے“۔ میں نے جواباً کہا کہ اس کی قیمت پچاس پنس ہے، یہ سنتے ہی دس دس پونڈ کے دو نوٹ انکے ساتھیوں نے مجھے پکڑا دئیے اور کہا اور بھی رسالے دے دو“۔ وہ رسالہ ہاتھ میں پکڑے مسکراتے ہوئے چلی گئیں۔

بے نظیر ان دنوں بشیر ریاض کی مدد سے ایک رسالہ ”عمل“ نکال رہی تھیں جو آمریت مخالف خبروں کو شائع کرتا تھا۔ اس میں بھی ہماری تحریریں شامل ہوتی تھیں۔

جنوری 1985ء میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی سالگرہ کے موقع پر لندن کانوے ہال میں مشتاق لاشاری نے ایک زبردست مشاعرے کااہتمام کیا تھا۔ ہم ہالینڈ سے ایک بار پھر لندن آئے۔ مشاعرے کے دوران آخری سیٹوں پر بشیر ریاض کے ساتھ بیٹھے شہرت بخاری، احمد فراز اور دیگر شاعروں کو سن رہے تھے۔ بے نظیر بھٹو صدارت کررہی تھیں۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر کا اختتام ڈاکٹرخالدجاوید جان کی مشہور نظم ’میں باغی ہوں‘ سنانے سے پہلے کہا: ”یہ نظم معلوم نہیں کس نے لکھی اور کہاں شائع ہوئی مگر میرے دل کی آواز ہے“۔ میں بیٹھا تڑپ گیا کہ یہ تو ’جدوجہد‘ نے ابھی پچھلے ماہ پہلی دفعہ شائع کی ہے اور شاعر کا نام بھی ہے۔

بہرحال جیسے ہی تقریر ختم ہوئی میں بھاگ کر بے نظیر کے پاس سٹیج پر پہنچا اور بتایا کہ یہ نظم خالد جاوید جان کی ہے اور ’جدوجہد‘ میں شائع ہوئی۔ وہ یہ سن کر مسکراتی رہیں۔ یا تو بھول گئی تھیں یا پھر ہمیں کریڈٹ نہ دینا چاہتی تھیں۔ پھر مختصرسیاسی مختصر گفتگو رہی ان کے ساتھ۔

اس سال 1985ء میں پیپلز پارٹی میں نظریاتی بحثیں تیز تھیں۔ ہم رائیٹ ونگ پالیسیوں کے مکمل مخالف تھے، کھل کر لکھتے تھے۔ پیپلزپارٹی کے دو ممتاز سابق پارلیمینٹیرینز قیوم بٹ اور سردار مظہر علی خان نے بھی بابائے سوشلزم شیخ رشید کے اس انٹرویو کا ساتھ دیا جس میں انہوں نے بے نظیر بھٹو کی رائیٹ ونگ پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔ یہ انٹرویو روزنامہ مسلم اسلام آباد کے لئے اسکی ایڈیٹر ملیحہ لودھی نے لیا جو بعد میں امریکہ کے اندر پاکستانی سفیر بھی رہیں۔

بے نظیر بھٹو نے قیوم بٹ اور سردار مظہر کو پیپلز پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا۔ ہم نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور پیپلزپارٹی ورکرز سٹیرنگ کمیٹی یورپ کی تشکیل دے دی اور اس کا مجھے جنرل سیکرٹری چن لیا گیا۔ ہمارے بیانات اس فیصلے کے خلاف اخبارات کی زینت بننے لگے۔ بے نظیر بھٹو نے ہماری مہم کے نتیجہ میں دونوں رہنماؤں کو پارٹی میں واپس لینے کا اعلان کر دیامگرہمارے بے نظیر بھٹو سے تعلقات ٹھیک نہ رہے۔

جب جنوری 1986ء میں مارشل لا کے اٹھنے کا اعلان ہوا تو ہم پاکستانی جلا وطنوں میں پہلے تھے جو 10 فروری 1986ء کو پاکستان واپس پہنچ گئے، یورپ کو ہمیشہ کے لئے 8 سال رہنے کے بعد خیر آباد کہہ دیا۔

بے نظیر بھٹو جب 10 اپریل 1986ء کو جلا وطنی ختم کر کے پاکستان واپس پہنچیں تو ہم ان کے استقبال کے لئے ائرپورٹ موجود تھے۔ ان لاکھوں میں ایک جو انکے تاریخی استقبال کے لئے آئے۔ مینار پاکستان تک جلوس چلا وہاں جلسہ کے موقع پر ہم صحافیوں کے لئے سٹیج کے قریب مخصوص جگہ پر تھے۔ بے نظیر بھٹو نے ایک بار پھر ’میں باغی ہوں‘ پڑھی شاعر کا نام لئے بغیر۔ ہم نے فوری طورپر صحافیوں کو شاعر کا نام بتایا۔ اگلے روز شاعر خالد جاوید جان کا نام ہر اخبار میں تھا۔

جب وہ لاہور جلسے کے بعد فیصل آباد پہنچیں تو اس وقت ہم ’ڈیلی بزنس رپورٹ‘ فیصل آباد کے مینجنگ ایڈیٹر تھے، یہ اخبار میرے دادا جان چوھدری شاہ محمد عزیز نے 1946ء میں فیصل آباد سے شائع کرنا شروع کیا تھا۔ بے نظیر عمر دراز خان کے گھر لنچ پرتھیں، میں جان بوجھ کر اندر نہ گیا تھا کیونکہ بے نظیر یورپ میں ہماری تنقید سے خوش نہ تھیں، جب وہ باہر نکلیں تو میں سینکڑوں افراد میں سے ایک تھا جو بے نظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے باہر موجود تھے۔

اچانک بے نظیر بھٹو کی نظر مجھ پر پڑی، اپنی گاڑی رکوائی اور مجھے قریب آنے کو کہا۔ کہنے لگیں ”کب آئے ہو؟ یہاں وہ تنقید نہ کرنا جو یورپ میں کرتے رہے ہو۔ یہ پاکستان ہے یہاں لوگ بہت برا منائیں گے“۔ میں نے کہا ”بے نظیر بھٹو یاد کریں کہ آپ نے ہی مجھ سے کہا تھا کہ میری تنقید کے باوجود جب بھی میں آمریت کے خلاف کھڑی ہوں گی تم میرے ساتھ ہو گے، آج ہم بغیر تنقید کے آپ کے ساتھ ہیں۔ آمریت کا خاتمہ کر کے رہیں گے“۔ یہ ساری گفتگو انگلش میں ہو رہی تھی اور ارد گرد کھڑے لوگوں کو سمجھ نہ آئی کہ کیا بات چیت ہو رہی ہے۔ بے نظیرمسکراتے چلے گئیں۔ مجھے عوام نے گھیر لیا کہ بے نظیر تو آپ کو جانتی ہیں۔ مبارک بادیں دی جا رہی تھیں۔ ان تلخ جملوں کا کوئی ذکر نہیں جو ہم دونوں کے درمیان ہوئے تھے۔

پھر ہم 1987ء میں نوڈیرو لاڑکانہ گئے 4 اپریل کے روز بھٹو شہید کی شہادت کے روز، وہاں ’جدوجہد‘ کا سٹال لگا تھا، ہم بھی کھڑے تھے کہ بے نظیر بھٹو اپنی گاڑی میں گزریں مجھے دیکھ کر رکیں، کچھ لمحے مجھے گھورا اور پھر مسکرا تی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔ گاڑی سے اتری نہیں اور ہم بھی ان سے ملنے نہ گئے۔ ابھی سیاسی تلخی موجود تھی۔

جب 1988ء کے عام انتخابات کا اعلان ہوا تو ہم بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے ساتھ بلاول ہاؤس گئے۔ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے قومی اسمبلی کے عام انتخابات کے لئے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کا امیدوار تھا۔ جیسے ہی شیخ رشید نے اس حلقہ کے لئے میرا نام پیش کیا، بے نظیر بھٹو نے حمائیت سے انکار کر دیا۔ ابھی جلا وطنی کے آخری ایام کی کی سیاسی تلخی جاری تھی۔

بے نظیر بھٹو جب وزیر اعظم بنیں تو ہم نے فورا َایک جدجہد پبلیکیشنز کے تحت کتابچہ لکھ کر شائع کیا۔ عنوان تھا ”بے نظیر بھٹو اقتدار: توقعات اور تقاضے“۔ ہم حکومت کی تنقیدی حمائیت جاری رکھے ہوئے تھے۔

جب 1992ء میں وہ لاہور میں خالد جاوید جان کی کتاب ’میں باغی ہوں‘ کی رونمائی کے لئے آئیں تو ہال کے باھر ہمارا جدوجہد کاسٹال لگا ہوا تھا۔ میں ابھی پہنچا نہ تھا کہ وہ سٹال پر تشریف لائیں میرا پوچھا اور پھر لیون ٹراٹسکی کی ایک کتاب ”فاشزم کیا ہے، اس سے کیسے لڑا جائے“ جس کا ترجمہ خالد جاوید جان نے ہی کیا تھا، کی تما م پچاس کاپیاں اور درجنوں دیگر کتابیں خریدیں۔ سٹال پر موجود ہمارے ہمارے نوجوان کامریڈ نے معصومیت میں کہا بے نظیر بھٹو یہ کتابیں مفت نہیں ہیں تو انہوں نے اپنے سیکرٹری مرحوم سہروردی کو تمام رقم ادا کرنے کو کہا۔ تقریبا 15 ہزار روپے کی کتابیں انہوں نے اس وقت خریدیں۔ جب میں سٹال پرآیا تو ان سے خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی۔

اسی سال جب انہوں نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے ہر آمرانہ حربہ اس لانگ مارچ کوروکنے کے لئے استعمال کیا۔ گاڑیاں روک لی گئیں۔ ہم جدوجہد کی 5 ہزار کاپیاں پرنٹ کرا کے مرحوم شعیب بھٹی کی مدد سے اسے پوسٹ بیگ میں ڈال کر پوسٹ کے ریل گاڑی میں ڈبے میں پوسٹ مین کا روپ اختیار کر کے پولیس کو دھوکہ دیتے راولپنڈی میں پوسٹ آفس کے مہمان خانہ میں پہنچ گئے۔ پولیس نے چھاپہ مارا تو رسالے ضبط کر لئے گئے اور ہم بمشکل گرفتاری سے بچے۔ ایک گندے سے ہوٹل میں ٹھہرے اور اگلے روز ایک غیر ملکی صحافی کے طور پر تمام ناکے توڑتے اسلام آباد میں بے نظیر بھٹو کے گھر جا پہنچے لانگ مارچ میں حصہ لینے۔

بہت خوش تھیں ہمیں دیکھ کر۔ ہم چند لوگ ہی تھے وہاں پر۔ باقی تمام کو پولیس نے روک لیا تھا۔ وقت مقررہ پرہم نعرے لگاتے وہاں سے نکلے۔ فاروق لغاری بھی ہمارے نعروں کا جواب دے رہے تھے اور ناہید خان بے نظیر بھٹو بھی، آگے خاردار تاریں ہمارا راستہ نہ روک سکیں۔ اچانک ایک گاڑی آئی اور بے نظیر جھٹ سے اس میں سوار ہو گئیں ناہید خان بھی۔ یہ گاڑی ہمیں چھوڑتے ہوئے لیاقت باغ کی طرف روانہ ہو گئی۔ بی نظیر لیاقت باغ پہنچیں تو گرفتار ہو گئیں۔

جب وہ وزیر اعظم کے طور پر لاہور جنگ فورم 1994ء میں تشریف لائیں تو رشید انجم ایڈیٹر جنگ نے مجھے بھی اس پینل میں شامل کر دیا جنہوں نے سوالات کرنے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی خوش ہو گئیں اور ہمارے درمیان گفتگو کا اچھا دور چلا۔

عاصمہ جہانگیر نے 1998ء میں اسلام آباد میں ہیومن رائٹس کمیشن کا ایک سیمینار منظم کیا۔ وہ ہماری بھی دوست تھیں۔ اس کے اختتام پر اچانک عاصمہ جہانگیر نے ہم چند کو کہا کہ ابھی بے نظیر بھٹو سے ملنا ہے۔ اس وقت طالبان افغانستان میں اقتدار میں تھے اورہم چاہ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی ان کی مکمل مخالفت کرے، ان سے ملنے پہنچے تو ہمیں انہوں نے نہیں پہچانا۔ یہ چند سالوں بعدملاقات تھی، لیکن جیسے ہے میں نے اپنی باری پر گفتگو شروع کی ان کی انکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سے سمجھ گیاکہ انہوں نے پہچان لیا ہے۔ پھر میرا نام لے لے کے بقیہ تمام اجلاس میرے ساتھ گفتگو میں صرف ہوا۔

ہمارے ساتھ گئے سنیئر ساتھیوں کو معلوم نہ تھا کہ بے نظیر بھٹو سے ہماری جان پہچان ہے۔ وہ حیران ہوتے رہے۔ عاصمہ جہانگیر انتہائی خوش تھیں اس گفتگوسے۔ جب اجلاس ختم ہوا تو بے نظیر بھٹو نے کہا فاروق تم ابھی بیٹھو، بات کرنی ہے۔ جیسے ہی دیگر باھر گئے تو ون ٹو ون ملاقات کاآغاز کرتے ہی کہا تم ان این جی اوز کے ساتھ کیا کر رہے ہو۔ میں نے بتایا کہ 1997ء میں لیبر پارٹی بنائی ہے پارٹی کے طور پر سوشل تحریکوں کے ساتھ ہیں تو خوش ہوئیں۔ پھر کہنے لگیں ہمارے ساتھ سیاسی اتحاد میں آ جاؤ، لیبر پارٹی کو اس میں شامل کر دو، میں نے جوابی طور پر کہا کہ پارٹی لیڈر شپ سے بات کر کے جواب دوں گا۔ ناہید خان کو بلایا کہ اس کا رابطہ لو ان سے تعلق ٹوٹنا نہیں چاہئے۔ یہ کوئی 10 منٹ بات ہوئی۔ ہم بھی خوش تھے کہ مذہبی جنونی قوتوں کے خلاف بے نظیر بھٹو بھی ہمارا ساتھ دے گیں۔

پھر اچانک وہ جلاوطنی میں دوبارہ چلی گئیں۔ اور جب دوبارہ واپس آئیں تو نومبر کے آخری ہفتہ میں عاصمہ جہانگیر کے گھر ہم ان چند لوگوں میں شامل تھے جن سے بے نظیر نے طویل مشاورت کرنی تھی۔ اب انکے بالوں میں چاندی تھی مگر جذبہ پہلے کی طرح جوان تھا۔ اچھی گفتگو رہی۔ ناہید خان کو ایک بار کہا کہ فاروق کو کراچی بلاول ہاؤس بلاؤ اس سے اقتصادی پالیسیوں پر گفتگو کرنی ہے۔ یہ کوئی دو گھنٹے سے زائد ملاقات تھی۔ اور آخری تھی۔ پھر وہ نہ رھیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی قیادت سے وہ رابطے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔