دنیا

یوکرین کے خلاف روسی جارحیت: سوشلسٹ نقطہ نظر

فاروق سلہریا

۱۔ بطور سوشلسٹ ہم سامراجی جنگوں کے خلاف ہیں۔ ہم ملکوں کے مابین قومی و لسانی یا دھرم وادی بنیادوں پر جنگیں شروع کرنے کے خلاف ہیں۔ ہم طبقاتی جنگ کے علاوہ ہر جنگ کے خلاف ہیں کیونکہ طبقاتی جنگ کی کامیابی ہی جنگوں کو ختم کرنے کی بنیاد فراہم کرے گی۔ سوشلزم عالمی امن کی بات کرتا ہے اور ایک سوشلسٹ ورلڈ آرڈر ہی پائیدار عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ نوے کی دہائی میں (جسے عموماً یونی پولر مومنٹ کہا جاتا ہے) ایک مرتبہ پھر کارل کاٹسکی کی الٹرا امپیریلزم یا سوپر امپیریلزم کی تھیوری کا بہت چرچا ہوا تھا اور کہا گیا تھا کہ لینن غلط تھا۔ لینن وادی نقاد اس وقت بھی کہہ رہے تھے کہ سرمایہ داری کا ’اصل ‘مقابلہ ہے۔ مقابلہ اس کے خمیر میں ہے۔ نئی سامراجی قوتیں آپس میں پھر سے ٹکرائیں گی اور امن ِعالم تباہ ہو گا۔ عالمی سرمایہ داری، اس کا بنایا ہوا ورلڈ آرڈر اور گلوبل پیس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مزید یہ کہ ایٹمی ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں عالمی قوتیں آپس میں نہیں لڑتیں۔ وہ پراکسی وار کرتی ہیں جس میں کبھی افغانستان شکار بنتا ہے تو کبھی یوکرین۔

۲۔ روس کی یوکرین کے خلاف جارحیت درا صل ناٹو اور روس کے درمیان لڑائی ہے جس میں نشانہ یوکرین بن رہا ہے۔ اس کا موازنہ کسی حد تک کیوبا کے میزائل بحران (1962ء) سے کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کیوبا سے نہیں کہہ رہا تھا کہ وہ روسی میزائل اپنی سرزمین سے ہٹائے۔ وہ سویت روس سے کہہ رہا تھا کہ ماسکو کیوبا کی سر زمین سے اپنے میزائل ہٹائے۔ اسی طرح روس یوکرین سے نہیں کہہ رہا کہ وہ ناٹو کا رکن نہ بنے۔ وہ ناٹو سے کہہ رہا ہے کہ ناٹو مشرق کی جانب بڑھنے سے باز رہے۔ پیغام ناٹو کو دیا جا رہا ہے۔ بم یوکرین پر گرائے جا رہے ہیں۔ حسب معمول اس بے رحم ورلڈ آرڈر میں ایک کمزور ملک سامراجی سیاستوں کی سزا محض اس لئے بھگت رہا ہے کہ وہ ایک بفر سٹیٹ ہے۔

۳۔ پوتن کو بھی ایک جنگ چاہئے۔ ادہر پوتن کے خلاف ناٹو کی جانب سے سخت ترین موقف اختیار کرنے والے امریکہ اور برطانیہ کے رہنما، جوبائڈن اور بورس جانسن، کو بھی اپنے اپنے ممالک کی اندرونی سیاست کی وجہ سے جنگ چاہئے۔ اگر بائڈن افغانستان میں شکست سے یا نیم دلانہ معاشی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے تو بورس جانسن کرونا کے دوران پارٹی کرنے پر جس سکینڈل کا شکار ہے، اس سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ پوتن کو اپنی اگلی ٹرم کی بھی فکر ہے اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی سے بھی نپٹنا چاہتا ہے (سوویت یونین کے بعد،پہلی بارروس گذشتہ دو سال سے تاریخی طور پر بڑے مظاہروں اور احتجاج کا مرکز رہا ہے)۔ دلچسپ بات ہے کہ جرمنی اور فرانس اتنا سخت موقف نہیں لے رہے جتنا لندن یا واشنگٹن۔ گویا محض ناٹو کی سیاست کو سمجھنا ہی ضروری نہیں، ایم سامراجی ممالک کی اندرونی سیاست پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

۴۔ اگر ناٹو ایک سامراجی اور جارحانہ اتحاد ہے تو روس بھی ایک سامراجی طاقت ہے۔ کم از کم ابھرتی ہوئی سامراجی طاقت۔ بائیں بازو کے بعض حصے اور پاکستان میں دائیں بازو کے بہت سے حلقے بھی غالباً امریکہ دشمنی میں روس کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے زیادہ بے اصول موقف ممکن نہیں۔ سوشلسٹ موقف یہ نہیں کہ ’دشمن کا دشمن دوست‘۔ سوشلسٹ موقف محنت کش طبقے کے مفاد کو، عالمی یکجہتی کو مد نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ بلاشبہ امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں پر بے شمار خون جما ہے۔ روس کے خلاف حالیہ شور شرابہ منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ شور شرابہ اس لئے بھی بھرپور منافقت کا آئینہ دار ہے کہ جب پوتن چیچنیا میں خون کی ندیاں بہا رہا تھا تو یہی سامراج پوتن کے کندھے تھپتپا رہا تھا۔ اس کے باوجود پوتین کی حمایت کرنا بد ترین انسانیت دشمنی اور بے اصولی کے سوا کچھ نہیں۔ ایڈولف ہٹلر یا سامراجی جاپان کی حمایت محض اس لئے نہیں کی جا سکتی کہ ہم برطانوی یا فرانسوی سامراج کے خلاف تھے۔ پوتن کے یوکرین پر حملے میں کسی قسم کا کوئی اصولی پہلو ہے نہ ترقی پسندانہ پہلو۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے: ایک کمزور ملک دو ہاتھیوں کی لڑائی میں کچلا گیا ہے۔

مندرجہ بالا نقاط کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بالکل واضح ہے کہ سوشلسٹ اور مزدور تحریک کو کھل کو مطالبہ کرنا چاہئے:

۱۔ یوکرین پر روس کا حملہ نامنظور۔ پوتن شاہی مردہ باد۔

۲۔ ناٹو اتحاد یوکرین کا دوست نہیں، جنگ کی بنیادی وجہ ہے۔ ناٹو نامنظور۔ ناٹو شاہی مردہ باد۔ یہ اتحاد سرد جنگ کے ساتھ ہی ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ اسے ختم کیا جائے۔

۳۔ فوری امن کے لئے دنیا بھر کے مزدور اُسی طرح سڑکوں پر نکلیں جس طرح عراق پر امریکی حملے سے قبل دنیا بھر میں تاریخی امن مارچ کئے گئے تھے (انسانی تاریخ کے یہ سب سے بڑے مارچ تھے۔ آج پھر سے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی ضرورت ہے)۔

۴۔ یوکرین میں ہلاک یا زخمی ہونے والے بے گناہ شہریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کی ضرورت ہے۔ جنگ سے فرار ہونے والوں کے لئے یورپ اپنے بارڈر کھولے۔

اب آئیے اس جنگ کے کچھ سیاسی اثرات پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں۔

جنگ کے نتیجے میں ہر متعلقہ ملک کے اندر دائیں بازو کی شاونسٹ قوتیں زور پکڑیں گی۔ جنگ کا بہانہ بنا کر محنت کشوں کے معاشی حقوق اور شخصی آزادیوں کا گلا گھونٹا جائے گا۔ جن حقوق کو حاصل کرنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، حکمران طبقہ جنگ کا بہانہ بنا کر، ایمرجنسی کے نام پر، یک مشت وہ آزادیاں چھین لیتا ہے۔

اگر امریکہ کو چھینک آنے سے عالمی معیشت کو بخار ہو جاتا ہے تو یاد رہے اس بار امریکہ ہی نہیں، یورپ اور روس بھی چھینکیں لگا رہے ہیں۔ معاشی اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے۔ گذشتہ چند روز سے خبریں ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

آخر میں صرف اتنا عرض ہے کہ جنگ اور امن پر اردو کے عظیم شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنی نظموں ’اے شریف انسانو‘ اور ’پرچھائیاں‘ میں سوشلسٹ نقطہ نظر کو آفاقی طور پر ہمیشہ کے لئے واضح کر دیا ہے۔ اگر کسی ’انقلابی‘ کو کوئی نظریاتی متلی ہو رہی ہے تو ان نظموں کا مطالعہ کر لے۔ افاقہ ہو گا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔