شاعری

جبر و اختیار کا نیا موسم!

قیصر عباس

سورج دیوتا
سنگھاسن سے اترا
رات کی دیوی نے
دھرتی پر
سیاہ چادر پھیلائی
تو سارے شہ سوار
باگوں کا رخ
نئی راہوں کی اور
موڑ چکے تھے
اور بوڑھا سردار
تن تنہا
انا کی اونچی چٹان
کے سائے میں
اقتدار کی جلتی چتا پر
کھڑا
آبدیدہ تھا
انا کی اونچی چٹان
سے گرتے ہوئے
سنگ ریزوں
کی آوازیں
اب اور قریب
آ رہی تھیں
اور قبیلہ
جبر و اختیار کے
ایک نئے موسم کا
منتظر تھا!

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔