پاکستان

بحریہ ماہانہ 7 ارب ناجائز ذرائع سے ہتھیاتا ہے: فائلوں کو لگے پہیوں کی کہانی

رانا سیف

کچھ عرصہ قبل، ملتان سے پاکستان کے رکن قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ نے ایوان زیریں میں تقریر کرتے ہوئے ہاؤسنگ کالونیوں میں مختص پبلک بلڈنگ کی جگہ کو سستے گھروں کی تعمیر کے لئے استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تو متعدد بڑے ڈویلپرز نے اس تجویز کی مخالفت کی جبکہ چھوٹے ڈویلپرز نے اس حوالے سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

انہوں نے یہ تجویز جنوبی پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کے دوران 50 لاکھ سستے مکانوں کی تعمیر کے اعلان کی نسبت وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی اور کہا کہ ہر منظور شدہ رہائشی کالونی میں ایک فیصد جگہ مفاد عامہ کی عمارات کی تعمیر کے لیے مختص ہوتی ہے، اگر اس جگہ کو سستے گھروں کی تعمیر کے لئے استعمال کر لیا جائے تو حکومت اضافی ترقیاتی اخراجات اور زمین کی قیمت ادا کئے بغیر لاکھوں گھروں کی تعمیر فوری طور پر شروع کر سکتی ہے۔ اس طرح مکانوں کی قیمت میں سے بچنے والی رقم کو نئی زمین خریدنے اور ترقیاتی کاموں کی بنیادی سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ملک احمد حسین ڈیہڑ نے اس موقع پر بحریہ ٹاؤن راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور لیک سٹی لاہور کی مثال دیتے ہوئے وزیر اعظم کو بتایا کہ فوری طور پر ان پراجیکٹس میں پبلک بلڈنگ کے لئے مختص جگہ کو استعمال کیا جائے تو 250 ایکڑ سے زائد زمین پر فی ایکڑ 96 اپارٹمنٹ بنا کر سستے مکانوں کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیز والے اپنے اپنے پراجیکٹس کی منظوری کے حوالے سے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں، اگر ان منصوبوں کی منظوری دے دی جائے تو وہ سستے مکانوں کی تعمیر کے لئے ڈیویلپ شدہ ایک فیصد کے علاوہ مزید اضافی اراضی دینے کو بھی تیار ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو یہ تجاویز پسند آئی تو انہوں نے اجلاس میں موجود تحریک انصاف کے رہنما ارشد داد کو یہ ذمہ داری سونپی کہ ملک احمد حسین ڈیہڑ کے ساتھ مشاورت کے بعد اس حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔

بعد ازاں اس سلسلہ میں ملک احمد حسین ڈیہڑ اور راقم الحروف کی ارشد داد سے ایک میٹنگ ہونے کے بعد ہم نے ابتدائی کام شروع کرنے کے لئے ہاؤسنگ کالونیوں کے اعداد و شمار جمع کرنے شروع کئے، تو پتہ چلا کہ صرف لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملک ریاض کی نجی ہاؤسنگ سکیم بحریہ ٹاؤن میں مفاد عامہ کے لئے گورنمنٹ کے نام منتقل شدہ جگہ پر متعدد عمارات قائم ہیں، جن کا تمام تر کمرشل فائدہ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے ماہانہ کمایا جا رہا ہے۔ یہی عالم ان تمام سوسائٹیوں کا ہے، جن کے مالکان بے پناہ سیاسی، سماجی اور معاشی اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر منظور شدہ کالونی میں شاہرات، گلیات، سبزہ زاروں، کھلی جگہ، قبرستان، سالڈ ویسٹ، واٹر سپلائی، سیوریج ڈسپوزل پمپ اور ایک فیصد مفاد عامہ کے لئے مختص جگہ تمام بڑے ڈویلپرز کے نجی استعمال میں ہے۔ وہ اس کی آڑ میں رہائشیوں سے سیکورٹی، پانی، بجلی اور دیگر مراعات میں اربوں روپے ماہانہ لوٹ رہے ہیں۔

اگر بحریہ کا ریکارڈ ہی اٹھا کر دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ جس قیمت پر ابتدائی طور پر زمین خریدی گئی تھی، اس سے کئی زیادہ رقم اب رہائشیوں کو سیکورٹی، تعمیر و مرمت، پانی اور دیگر متعدد اقسام کے ماہانہ بل بھیج کر جمع کی جا رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف بحریہ ٹاؤن اسلام آباد، راولپنڈی میں سالانہ 7 ارب روپے سے زائد غیر قانونی طور پر کما رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہو گی کہ وہ اپنے زیر نگین علاقوں میں ٹریفک خلاف ورزی کی مد میں جرمانہ کر کے از خود وصولی بھی کر رہا ہے۔ آپ یہ جان کر بھی حیران ہوں گے کہ بحریہ کے سکیورٹی اہلکار کسی بھی غریب آدمی یا مزدور کو بغیر کوئی وجہ بتائے گرفتار کر کے نجی عقوبت خانوں میں قید کر دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے حساس ادارے کے ریٹائرڈ افسران کو عموماً استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں کا بھی ہے۔ اس حوالے سے تمام حکومتیں مجرمانہ طور پر ہاؤسنگ مافیا کا مہرہ بنتی رہی ہیں۔

وزیر اعظم عمران کی ہدایت پر رپورٹ کی تیاری کی خبر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مافیا تک پہنچی تو نجانے کیا چکر چلا کہ کچھ عرصہ بعد ملک احمد حسین ڈیہڑ نے اس موضوع پر وزیر اعظم سے ذاتی طور ملنے کی درخواست کی تو انہیں ملاقات کا وقت ہی نہ دیا گیا۔ تاہم اس دوران جو حقائق ہمارے سامنے آئے، وہ جان کر ہم حیران رہ گئے کہ ہاؤسنگ مافیا کیسے عوام کو لوٹ رہا ہے۔

اگر ہم صرف اس ایک سیکٹر کو ہی کنٹرول کر لیں، تو نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے، بلکہ منی لانڈرنگ پر بھی باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی اثنا میں ہاؤسنگ مافیا نے ملک ریاض کو آگے کر دیا کہ وہ سستے مکانوں کی پوش علاقوں میں تعمیر روکنے کے لئے آگے آئیں کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو ہمارے منصوبوں کی وہ اہمیت نہیں رہے گی، جو ایک پوش آبادی کی بنیادی ضرورت ہے۔ پھر القادر یونیورسٹی کا جال پھینک دیا گیا اور عمران خان اسی ملک ریاض کا اسیر ہوتا چلا گیا اور سستے مکانوں کی تعمیر کا خواب ہاتھوں سے پھسلتا چلا گیا۔

سیف الرحمن رانا لاہور میں مقیم سینئیر صحافی ہیں۔ وہ لاہور کے مختلف اردو اخباروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ یوٹیوب چینل ’دیکھو‘ سے وابستہ ہیں۔