پاکستان

اداکارہ شبنم کے ریپسٹ فاروق بندیال کو ٹکٹ دینا شرک نہیں تھا؟

فاروق سلہریا

عمران خان کا تازہ فتویٰ آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن ارکان پارلیمنٹ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے الیکشن جیتا اور پھر پارٹی چھوڑ دی، انہوں نے شرک کیا۔

راقم مذہبی بحثوں سے پرہیز میں ہی عافیت جانتا ہے لیکن قائد اعظم ثانی اور قوم یوتھ کو یاد دلانا تھا کہ 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے فاروق بندیال کو ٹکٹ دیا تھا۔

قوم یوتھ کے خیال میں چونکہ تاریخ 1992ء کے ورلڈ کپ سے شروع ہوئی تھی، اس لئے ان کو بتانا پڑے گا کہ فاروق بندیال جنرل ضیا (جنہوں نے عمران خان کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا) کے دور آمریت میں اس وقت کی سینما کوئین، اداکارہ شبنم، کا ریپ کیا تھا۔ یہ گینگ ریپ تھا۔ فاروق بندیال اپنے گینگ کے ہمراہ شبنم صاحبہ کے گھر داخل ہوئے اور ان کے شوہر اور بیٹے کے سامنے یہ گھناؤنا کام سر انجام دیا۔

اس واقعہ نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ فاروق بندیال کا نام پورے ملک میں گونجا۔ پہلے ان مجرموں کو پھانسی کی سزا ہوئی۔ فاروق بندیال کے چچا ٹاپ بیوروکریٹ تھے اور جنرل ضیا کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ سوپھانسی کی سزا عمر قید میں بدل گئی۔

قائد اعظم ثانی اور ضیا الحق ثانی سے صرف اس قدر پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ کیا کسی بدنام ترین ریپسٹ کو ٹکٹ دینا بھی کسی گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔