پاکستان

عمران خان اتنے ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں، جتنے ماضی میں نواز شریف تھے

فاروق طارق

منگل 8 نومبر سے عمران خان نے ایک دفعہ پھر لانگ مارچ کا اعلان کر کے یہ بتا دیا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کے موقع پر وہ سڑک پر ہوں گے۔ انہوں نے خود کچھ دن بعد راولپنڈی سے مارچ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

عمران خان پر حملے کی ایف آئی آر اس وجہ سے نہیں کاٹی جا رہی کہ وہ چاہتے ہیں میجر جنرل فیصل نصیر، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کا نام وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ایف آئی آر میں نا مزد ملزمان میں شامل کیا جائے۔

پنجاب کے پولیس سربراہ مستعفی ہو چکے ہیں اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے منہ میں کنگھنیاں ڈال رکھی ہیں۔ وہ اس مسئلے پر ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں۔ ابتدا میں جب اقتدار سنبھالا تو وزیر اعلیٰ کہتے تھے کہ اگر عمران خان چاہیں گے تو استعفیٰ دینے میں ایک منٹ نہیں لگاؤ ں گا، مگر اب عمران خان بھی کھل کر نہیں کہہ رہے کہ کس کے کہنے پر ایف آئی آر نہیں کاٹی جا رہی۔

عمران خان کے حملے کے ایشو پر ریاستی تقسیم عروج پر ہے۔ عمران خان کا سارا فوکس اب چیف جسٹس آف پاکستان پر ہے۔ وہ بھی اب عمران خان کی زد میں ہیں کہ سپریم کورٹ اسکا نو ٹس کیو ں نہیں لے رہا۔ ایف آئی آر اگر تینوں کے خلاف کٹ بھی جائے،تو سزا کے لحاظ سے عمران خان کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا۔ یہ ایف آئی آر اب ضد کی جنگ میں بدل گئی ہے۔ ایک مغرور، گھمنڈی، زخمی عمران خان اور دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔

عمران خان پر حملہ بظاہر ایک مذہبی جنونی شخص نے کیا، جس کی اعترافی ویڈیو فوری سامنے آ گئی اور پھر دوسری ویڈیو بھی آ گئی۔ یہ سب اتنا سادہ اور سیدھا معاملہ نہیں ہے۔ عمران خان کے اس موقف میں کوئی جان نہیں کہ انہیں دو دن پہلے ہی حملے کی معلومات مل گئی تھی۔ یہ کہہ کر وہ اپنی پنجاب حکومت کی کمزوری اور اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

عمران خان فوری انتخابات کا مطالبہ کرنے اور لانگ مارچ پر کیوں بضد ہیں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عمران خان موجودہ حکومت کو ٹک کر حکومت کرنے نہیں دینا چاہتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ حکومت کسی طور پر مضبوط ہو جائے یا کسی طور پر عوام میں مقبول ہونے کی کوشش کرے۔ وہ ایک سیا سی حربہ استعمال کر رہے ہیں، جو اس سے پہلے مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کر چکی ہیں۔

اگر یہ ایک صرف لانگ مارچ ہو تا تو موجودہ حکومت کو اسکے خلاف بعض اقدامات یا دھمکیاں دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ مقصد لانگ مارچ سے حکومت کا خاتمہ ہے، عمران خان نے لانگ مارچ کی ابتدا میں اپنی سیاسی ٹون نرم کرلی تا کہ انہیں اسلام آباد پہنچنے کا موقع مل جائے۔

فرق یہ ہے کہ ماضی میں عمران خان کے 2014ء کے لانگ مارچ کو اس وقت کے آئی ایس آئی چیف کی مکمل حمائیت حاصل تھی اور اب آئی ایس آئی ہی انکے خلاف پریس کانفرنس کر رہی ہے۔

عمران خان نہ تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اور نہ ہی اینٹی سامراج۔ پاکستان کی سیا ست میں اس قسم کا سیا سی رو یہ صرف اپوزیشن کے دوران ہی رکھا جاتا ہے۔ عمران خان اتنے ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں جتنا نواز شریف ماضی میں اپوزیشن کے دوران رہ چکے ہیں۔ وہ بھی اس وقت جرنیلوں کا نام لے کر ان کی مخالفت کرتے تھے، جس طرح آج کل عمران خان کر رہے ہیں۔

پاکستان کے حکمران طبقات کا کو ئی حصہ بھی پروگریسو نہیں اور نہ ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ وہ یہ سب نعرے بازی صرف سیا سی مقبولیت کے فوری نتائج لینے کے لیے کرتے ہیں۔ شہری زند گی میں فوجی مداخلت کو ئی مقبول عام عنصر نہیں ہے۔ بار بار مارشل لا کے نفاذ اور سویلین اقتدار کو کنٹرول کرنے کی کھلے عام یا خفیہ کوششوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو عوام میں غیر مقبول کیا ہے۔ اسی لئے کبھی ہمیں نواز شریف جرنیلوں کے خلاف بات کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی عمران خان۔ یہ دونوں دل سے نہیں، منافقت سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔

ان دونوں کے اقتدار میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرے لگانے والوں کے خلاف شدید اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ ان دونوں کی اس نعرہ بازی کا منظور پشتین اور علی وزیر سے بھی کوئی موازنہ نہیں کیاجا سکتا۔ عمران خان اور نواز شریف جعلی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں جبکہ علی وزیر اور منظور پشتین نظریاتی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔

ہمیں عمران خان کی موجودہ جعلی نعرہ بازی کی رو میں نہیں بہنا چا ہیے۔ جس دن فو جی جرنیل انہیں فون کریں گے یا انگلی اٹھائیں گے، تو ان کی یہ نعرہ بازی خودہی زمین بوس ہو جائے گی۔ یہ حقیقی نظریاتی لڑائی نہیں ہے۔ یہ اقتدار کی رسہ کشی میں عوامی مقبو لیت حاصل کرنے کا ہی ڈھو نگ ہے۔

آخر اس کا کیا فوری اور لانگ ٹرم نتیجہ نکلے گا؟

فوری طور پر عمران خان کے تمام سیاسی حربے اور نعرہ بازی کامیاب نظر نہیں آتی۔ یہ واضح ہے کہ عوام امریکہ مخا لف اورفوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف نعرہ بازی پر ووٹ تو دے سکتی ہے جان نہیں دے سکتی۔ جلسوں میں آ سکتی ہے مگر ملیٹنٹ جلو سوں میں نہیں۔ جو لوگ لانگ مارچ میں اب تک شریک ہوئے، ان کی تعداد تمام اندازوں کے مطابق کسی ایک وقت میں 20 ہزار سے زائد نہ ہو گی۔

عمران خان کو شوق ہے کہ 20 یا 30 لاکھ عوام کو کسی ایک جگہ اکٹھا کر کے اپنا نام پاکستانی سیاسی تاریخ میں رقم کرنے کیا جائے۔ وہ بار بار یہ دعوی کرتے ہیں کہ لاکھوں لوگ آئیں گے۔ تاہم آتے ہزاروں میں ہیں اور وہ بھی کھینچ کھانچ کر لائے جاتے ہیں۔

عمران خان کی عوامی حمایت مڈل کلاس کے اکثریتی حلقوں میں ہے، جو سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں، ورکنگ کلاس میں یہ حمایت نہیں ہے۔ لہٰذا سوشل میڈیا کا آسمان عمران خان کی تعریفوں میں بھرا نظر آتا ہے، مگر زمین پر اسکے پاؤں نہیں ہیں۔ اسی لیے عوامی مارچوں سے حکومت سے اپنے مطالبے منوا نا ممکن نظر نہیں آتا۔ تاہم عمران خان عوامی دباؤ قائم کر سکتے ہیں۔ وہ ایک ان تھک سیاست دان ہیں جو ہر وقت مخالف کو نیچا دکھانے کے منصوبے گھڑتے رہتے ہیں۔

یہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا یا نہیں یقین سے نہیں کہا جا سکتا، مگر اس کے ذریعے موجودہ حکومت کا خاتمہ مشکل نظر آتا ہے اور نہ ہی فوری انتخابات کا کوئی مطالبہ حقیقت اختیار کرے گا۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اتحاد بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے بغیر حکومت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ان سامراجی اداروں کے اشاروں پر ناچنے والی شہبازشریف حکومت عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کی حمایت میں ہے اور دوسری جانب عا لمی سامراجی ادارے اور ممالک، اسکے باوجود سرما یہ داری نظام کا بحران، کورونا اور سیلاب کی تباہیوں کے بعد جو معیشت کی بری حالت ہے۔ اس صورتحال کو غیر ملکی قرضہ جات دینے سے انکار کے بغیر تھوڑا سا بھی ٹھیک کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ اور یہ ریڈیکل قدم شہباز شریف حکومت اٹھانے کو تیار نہیں۔

سرمایہ داری نظام میں چلنے والے غریب اور ترقی پذیر ممالک ایسے ہی چلاکرتے ہیں جیسے اس وقت پاکستان چل رہا ہے۔ تھوڑی جمہوریت، تھوڑا سیاسی اور ریاستی جبر، منافقانہ نعرہ بازی اور میڈیا و تحریر و تقریر کی آزادیوں کو سلب رکھنا۔

آج ضرورت ہے کہ اس سرمایہ داری، جا گیرداری نظام میں چلنے والی منافقانہ نعرہ بازی اور مخالف ریاستی جابرانہ اقدامات کے پیش نظر ایک نئی انقلابی، ریڈیکل، سوشلسٹ، فیمنسٹ اور ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ کرنے والی ایک سیاسی قوت کی تعمیر کی جائے جو ہم حقوق خلق پارٹی کی صورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔