پاکستان

قرضے واپس دینے سے انکار کرو! ملک کے اندر موجود دولت استعمال کرو

فاروق سلہریا

حکمران روز ہمیں ٹیلی ویژن پر نمودار ہو کر بتاتے ہیں کہ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان منافقانہ بیانات سے اب کسی کو قائل نہیں کیا جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ مشکل فیصلے نہ لئے گئے: یعنی عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا گیا…تو پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔

سچ تو یہ ہے کہ عام پاکستانی کے لئے تو پاکستان کئی مہینوں سے ڈیفالٹ کر چکا ہے۔ جب چھ ہزار من آٹا ملے تو سمجھیں مزدور اور سفید پوش شہری کے لئے تو پاکستان ڈیفالٹ ہی کر چکا ہے۔

ہمارا موقف: ہونے دو ڈیفالٹ۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہوتا تو یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ ہوتا ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔

ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے شہباز شریف کی بے رحم حکومت روز نئے سے نیا ٹیکس ہم پر لگائے گی۔ مقصد یہ ہے کہ عوام کا خون نچوڑ کا قرضے واپس کئے جائیں۔ جتنے قرضے ادا کئے جائیں گے، اتنی ملکی دولت کم ہو گی۔

ہونا یہ چاہئے کہ قرضے دینے سے انکار کیا جائے۔ اگر انکار نہیں کر سکتے تو کم از کم پانچ سال کے لئے عالمی قرضوں کی ادائیگی موخر کر دی جائے۔ کئی ممالک ایسا کر چکے ہیں۔ ان صفحات پر ہم بارہا ایسے ممالک، بالخصوص ایکواڈور، کی مثال دے چکے ہیں۔ اب جبکہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے پاکستان کے لئے دنیا بھر میں ایک ہمدردی موجود ہے، قرضے دینے سے انکار اخلاقی لحاظ سے بھی درست موقف ہے۔ عالمی حالات سے ناواقف اور سیاسی لحاظ سے بزدل حکومت میں نہ دانش ہے نہ حوصلہ کہ ایسا کرنے کا اعلان کرے۔

پاکستان کو قرضوں کی ضرورت ہی نہیں۔ ملک کے اندر دولت موجود ہے، اسے قومی ملکیت میں لیا جائے۔ تما م بڑے کاروبار قومی ملکیت میں لئے جائیں۔ امیر طبقے کو ملنے والی سترہ ارب ڈالر کی سبسڈی ختم کی جائے۔ یہ سبسڈی کسانوں اور کم آمدن والے لوگوں کو دی جائے۔ فوج کا بجٹ کم کیا جائے۔ جرنیل، جج اور بیوروکریٹ کی مراعات ختم کی جائیں۔ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار پر پابندی لگا کر زراعت، صنعت اور ماحول دوست توانائی کے منصوبے شروع کرنے کے لئے ریاستی اقدامات کئے جائیں۔

یہ ہیں وہ اقدامات جن کی مدد سے ہم ڈیفالٹ سے نپٹ سکتے ہیں۔

شہباز شریف ہو یا عمران خان، کوئی بھی گروہ یہ اقدامات نہیں کرے گا۔ کم از کم اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ایک مرتبہ سری لنکا کی طرح لوگ ان کا تختہ نہیں الٹ دیتے۔ سر ی لنکا اب ریاستی اخراجات کم کرنے کے لئے اپنی فوج آدھی کر رہا ہے۔

ہم بار بار لوگوں سے اپیل کرتے آ رہے ہیں کہ ان گروہوں کی طرف مت دیکھو! اٹھو! اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لو! سڑکوں پر نکلو! محنت کش تنظیموں کا حصہ بنو! اپنے شہری اور معاشی حقوق کے لئے دھرنے دو!اپنی عزت نفس کے لئے لانگ مارچ کرو!

ہونے دو ڈیفالٹ۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہوتا تو یہ عام شہریوں کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ ہوتا ہے تو یہ حکمرانوں کا مسئلہ ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔