دنیا

اردگان نے مغرب کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے: جنگ بندی کا اعلان

فاروق سلہریا

گذشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردگان اور امریکی نائب صدر مائیک پینس کی ملاقات کے بعد، ترکی کی جانب سے پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

روجاوا میں کرد افواج کے کمانڈر، مظلوم کوبانی، نے بھی سیز فائر پر عمل درآمد کا وعدہ کیا ہے۔ یوں یہ کردوں کی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف ابتدائی فتح ہے۔

اس کامیابی کی بنیاد کردوں کی اخلاقی برتری ہے جو انہیں اپنے ترقی پسند کردار کی وجہ سے دنیا بھر کی نظروں میں حاصل ہوئی ہے۔ شام کے المیے کے دوران اگر کوئی امید کی کرن تھی تو وہ روجاوا کا انقلاب تھا۔ اپنے دس ہزار شہیدوں کی قربانیاں دے کر کردوں نے نہ صرف داعش کی بہیمانہ اور بربرانہ آمریت سے لوگوں کو نجات دلائی بلکہ جس قسم کا جمہوری، خواتین دوست اور ماحول دوست نظام انہوں نے قائم کیا، اس نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔

یہی وجہ ہے کہ دس دن قبل جب ترکی کے صدر نے روجاوا پر حملہ کیا تو امریکی صدر سے لے کر، یورپی یونین تک، ترکی کے تمام ناٹو حلیفوں پر اس قدر عوامی دباؤ تھا کہ ایک طرف یورپی یونین نے ترکی پر اسلحے سمیت کچھ اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں تو دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے دوغلے کردار پر سفیدی کرنے کے لئے وہ خفیہ خط پریس کو لیک کرنا پڑا جو انہوں نے طیب اردگان کو لکھا تھا۔ اس خط میں اردگان کو جنگ بندی سے منع نہیں کیا گیا تھا مگر ایک حد سے آگے جانے سے منع کیا گیا تھا۔

ترکی کے خلاف کردوں کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ عالمی سطح پر ترکی بالکل تنہا رہ گیا۔ عمران خان جیسے چند ہی عالمی رہنما ہوں گے جنہوں نے اردگان کی شرمناک جارحیت کا اخلاقی ساتھ دے کر اپنا ہی منہ کالا کیا۔

کردستان پر مسلط ترک جارحیت کے مسئلے پر عمران خان کی شرمناک حمایت سے ایک مرتبہ پھر واضح ہو گیا ہے کہ یہ حکومت خارجہ پالیسی اور عالمی صورت حال سے بالکل نا بلد ہے۔ ایسے موقعوں پر حکومتیں روایتی بیان بازی سے کام چلاتی ہیں۔ اسلام آباد یہ بیان جاری کر سکتا تھا کہ کرد اور ترکی اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اردگان کی خوشامد کے لئے ایسا نہیں کیا گیا۔

وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شمولیت سے ترکی بچا سکتا تھا، وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں دائیں بازو کی حکومتوں نے کبھی انٹرنیشنل ازم کی بنیاد پر محکوم قوموں کی حمایت نہیں کی۔ کردوں کے خلاف ترکی کی حمایت اس ستر سالہ روایت کا تسلسل تھا جس کے مطابق ہمیشہ غیر اصولی موقف اختیار کئے گئے۔ یہی وہ غیر اصولی موقف ہیں جن کی بنیاد پر کشمیر کا مسئلہ بھی عالمی سرد مہری کا شکار ہوتا ہے(دیگر وجوہات بھی یقیناہیں)۔

ادہر ترکی اور بالخصوص اردگان کو اس مہم جوئی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ روجاوا کے خلاف جارحیت اندرونی سیاست کے تناظر میں کی گئی تھی۔ اردگان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ دوسری جانب شامی پناہ گزینوں کے خلاف ایک ماحول پایا جاتا ہے۔ اردگان نے انسانی ہمدردی کے تحت شام سے جان بچا کر آنے والے پناہ گزینوں پر ترکی کے دروازے نہیں کھولے تھے۔ اردگان کے شیطانی ذہن میں یہ منصوبہ بھی تھا کہ ان پناہ گزینوں کو کرد آبادی کو اقلیت میں بدلنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ جس طرح افغان ”جہاد“ کے دوران افغان مہاجرین کی آمد سے بلوچستان میں آبادی کا تناسب بدلا، اسی قسم کی صورت حال ترکی میں کردوں کے حوالے سے جنم لے سکتی ہے مگر ایک جانب شام کے پناہ گزین یورپ پہنچنے کی کوشش میں تھے دوسرا ترکی میں ان کے لئے زیادہ یکجہتی موجود نہیں۔ الٹا اردگان کو تنقید کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں اردگان نے روجاوا پر حملے سے دو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ایک یہ کہ بیرونی جنگ کی مدد سے گرتی ہوئی مقبولیت کو روکا جائے۔ جیسا کہ جنگی ماحول میں اکثر ہوتا ہے: قوم پرستی کی ایسی لہر ابھاری گئی کہ حزب اختلاف نے بھی ’کرد دہشت گردوں‘ کے خلاف اردگان کے شانہ بشانہ جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ حزب اختلاف کے اپنے پچاس ہزار کارکنان اردگان نے دہشت گردی کے الزام میں پابند سلاسل کئے ہوئے ہیں۔

دوسرا اردگان کی کوشش یہ تھی کہ شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ ’حل‘ کر دیا جائے تا کہ اس مقصد میں کامیابی کے ذریعے بھی اپنی مقبولیت کو سہارا دیا جا سکے۔

انہیں ہر محاذ پر زبردست ناکامی ہوئی ہے۔ یہ جارحیت ان کے گرتے ہوئے گراف کو مزید تیزی سے نیچے کی طرف لے جائے گی۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ کردوں کی مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔ گذشتہ دس دنوں میں ہی دو لاکھ کے لگ بھگ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں ترک افواج نے مکانات، فصلیں اور انفرا سٹرکچر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ کردوں کو اورروجاوا کو پہلے سے زیادہ عالمی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے شہریوں، بالخصوص ترقی پسند قوتوں کا فرض ہے کہ وہ کردوں سے اظہار یکجہتی کریں۔ کردستان کی آزادی اور کشمیر کی آزادی ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔ جس طرح دنیا بھر میں کلونیل ازم کے خاتمے نے اسرائیل کو ناجائز ریاست بنا کر رکھ دیا ہے اسی طرح جب دنیا بھر میں قومی آزادیوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا (فلسطین، کردستان اور کشمیر اہم ترین قومی سوال ہیں)تو پھر ہر قابض قوم نہتی ہو جائے گی۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔