سوشل ڈیسک
مندجہ ذیل ویڈیو کو لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کچھ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس نے شہریوں کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر مرغا بنا رکھا ہے۔
قانون کی خلاف ورزی پر ان شہریوں کو، جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، جرمانے کئے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ قید کیا جا سکتا ہے مگر پولیس کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ شہریوں کی تذلیل کرے؟
بد قسمتی سے بہت سے سوشل میڈیا صارفین اس عمل کو سراہ رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو فسطائی سوچ رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ڈنڈا ہی سب کا پیر ہے۔ یہ سوچ حکمران خود بھی پھیلاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے مرغا بنے ہوئے کچھ شہری بھی یہ سوچ رکھتے ہوں کہ دو چار کو لٹکا دو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
بات یہ ہے کہ بحران کے نام پر بے بس شہریوں کو یوں بے عزت کرنا، بے عزتی کو’نارمالائز‘ کر دیتا ہے۔ یہ ایک معمول بن جاتا ہے۔ کل کلاں جب بحران نہیں ہوگا، تب بھی پولیس شہریوں کو اس طرح کنٹرول کرے گی۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ اس حرکت کا ارتکاب کرنے والے پولیس ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں نے یہ حرکت کی ہو۔ اس شرمناک حرکت کی نہ صرف بھرپور مذمت ہونی چاہئے بلکہ اس کے خلاف ایک بیانیہ تشکیل دیا جانا چاہئے۔ قانون شکنی اور جرم کی ایک سزا ہوتی ہے۔ ریاستی اہل کاروں کے پاس یہ حق کبھی بھی نہیں ہوتا کہ وہ شہریوں کی تذلیل کریں۔
آپ بھی سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والی ویڈیوز ہمیں ارسال کر کے سوشل ڈیسک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اپنی ویڈیوز ہمیں یہاں ارسال کریں۔