فن و ثقافت

[molongui_author_box]

رقص کا عالمی دن

رقص آرٹ اور کلچر کے قدیم ترین اظہار میں سے ایک ہے اور یہ جذبات اور مزاج کے اظہار کا ایک بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ رقص کی مختلف شکلیں تمام ثقافتوں میں موجود ہیں اور اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ رقص قدیم ترین انسانی معاشروں کا حصہ رہاہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق تہذیبوں کی ابتدا سے ہی رقص تقریبات اور رسومات کا ایک اہم حصہ رہا ہے تاہم اسے دنیا کے بعض حصوں میں منفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور حکام کی طرف سے اسے کم ترجیح دی جاتی ہے۔

یوم عالمی تھیٹر

ہر سال 27 مارچ عالمی تھیٹر ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس کاآغاز 1962ء میں انٹرنیشنل تھیٹر انسٹیٹیوٹ نے کیاتھا۔ بین الاقوامی تھیٹربرداری اس دن کومنانے کیلئے مختلف تقریبات کا اہتمام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل تھیٹر انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ایک نمایاں شخصیت کوتھیٹر اور بین الاقوامی ہم آہنگی پر اپنے تاثرات شیئر کرنے کیلئے دعوت دی جاتی ہے، جسے ”عالمی تھیٹرڈے پیغام“ کے نام سے جانا جاتاہے۔

ایسے معاشروں کی کہانی جہاں اقلیتیں وفاداری اور توقعات کی چکی میں پستی ہیں

بات دراصل جدید تھیٹر کے ذریعے کثیرالثقافتی معاشرے، انسانی رویوں، نفسیاتی الجھنوں اور ہجرت کے متعدد پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے، مگر میں مرزا غالب کے ایک مصرعے سے نارویجن ڈرامہ ”سوفی صد“ پر انپے اس مضمون کاآغاز کرنا چاہتا ہوں: ”ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں توکیا ہوتا۔“

’پاکستانی نارویجن کمیونٹی کے مشکل سفر کو ٹونی عثمان کے فن نے آسان بنایا‘

تاہم ٹونی عثمان کو ایسے لوگوں میں یوں امتیاز حاصل ہو جاتا ہے کہ انہوں نے کمزوریوں اور سماجی برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان عوامل کو چھاننے پھٹکنے کی کوشش بھی کی ہے جن کی وجہ سے یہ رویے جنم لیتے ہیں۔

اُدھر ہوتے تو…!

امی کریب کے سفید ڈوپٹے کو اپنی آنکھ کے کونے پر ملتے ہوئے بڑبڑائے جارہی تھیں۔ ۔ ۔ پھر وہی شور برپا ہوا، اگست کے مہینے والے”اخگر“کی آواز کی گونج نے امی کی دھیمی مگر حواس باختہ بڑبڑاہٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ”تم بے قدرے لوگ اگر یہاں نہ آتے تو وہاں پتا ہے کہ کتنا برا حال ہوتا۔ وہاں تم چپڑاسی لگے ہوتے ‘سمجھے کچھ‘ چپڑاسی“۔ مجھے لگا کہ لوہے کی رگڑ سے شل ہاتھ بے جان ہورہے ہیں، میرے خالی دماغ میں چلنے والی لہریں کسی طوفان کی زد میں آکر بہت تیز ہوکر اوپر نیچے اور دائیں بائیں گھومنے لگیں۔ وہاں ”بندہ“ چپڑاسی لگ جاتا ہے !!ہیں ہیں تو پھر یہ چپڑاسی کیسے ”اِدھر“آگیا؟ کیا یہاں پر ساری چپڑاسی ”اُدھر“ کے ہیں؟ اگریہ ”اُدھر“ کے ہیں تو پھریہ ”یہاں“ کیا کررہے ہیں؟میرا سر اور تیزی سے گھوما، ہاتھ اکھڑنے لگے۔ پاﺅں‘ اس بڑے ہوئے چبوترے سے پھسل رہے تھے۔ مجھے لگ رہا تھاکہ اب میرا یہاں کھڑا رہنا مشکل ہے۔ ۔ ۔ اوریہ کیا؟ میں تو اُڑرہا ہوں…. ہوا میں ….چھپاکے کی آواز آتی ہے۔ ۔ اخگرصاحب تھوک میں لپٹے لفظوں کی دھول اڑاتے ہیں….تم۔ ۔ تم ”آزادی“کی قدر نہیں کرتے، شکوے کرتے ہو!ادھر ہوتے توتم چپڑاسی ہوتے!

افسانہ: سریلی آبشار

اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور نئی آنکھیں لیے سریلی آبشار کی طرف چل دی تاکہ آبشار کے حسن کو دیکھ سکے۔

سعادت حسن منٹو: طاقت کا امتحان

یہاں کے مزدور بھی گدھوں سے کیا کم ہیں۔ گیہوں کی دو تین بوریاں اٹھانا تو انکے نزدیک معمولی کام ہے۔ مگر تمہیں کیا پتہ ہو سکتا ہے۔ کہو تو، تمھارے کل والے کھیل سے کہیں حیرت انگیز اور بہت سستے داموں ایک نیا تماشا دکھاؤں۔

برقعے

ظہیر جب تھرڈ ایئر میں داخل ہوا تو ایک دن اس نے محسوس کیا کہ اسے عشق ہو گیا ہے…اور عشق بھی بہت اشد قسم کا۔ جس میں اکثر انسان اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔