مزید پڑھیں...

اقوام متحدہ نے پاکستان کو خشک سالی کا شکار ملک قرار دے دیا

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر زمین کے انحطاط کے موجودہ رجحانات جاری رہے تو خوراک کی فراہمی میں رکاوٹیں، جبری نقل مکانی، حیاتیاتی تنوع میں تیزی سے کمی اور نسلوں کی معدومیت میں اضافہ ہو گا، جس کے ساتھ کووڈ19 جیسی زونوٹک بیماریوں، انسانی صحت میں کمی اور زمینی وسائل کے تنازعات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

آئین کی جیت

جناب آپ تو جانتے ہوں گے کہ آئین کے دس سے زیادہ آرٹیکل ہیں جن میں عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ کروڑوں لوگوں پر حکومت کرنے والے اقتدار میں آنے اور جانے والے آئین سے نابلد ہیں؟ اگر یہ آئین نہیں جانتے۔ آپ نہیں جانتے تو کون جانتا ہے؟ کون جانتا ہے قانون، کون ہے ذمہ دار اس بوڑھی بیوہ کا جو شہر میں پندرہ میڈیکل سٹورز موجود ہونے کہ باوجود رات بھر درد سے بلکتی ہوئی دنیا کو خیر آباد کہہ گئی؟ کیونکہ اس کے پاس گولی کے پیسے نہیں تھے؟ کون ہے ذمہ دار اس کنواری بڑھیا کا جس کی شادی صرف اس وجہ سے نہ ہو سکی کہ اس کے بھیا بھابھی کے پاس جہیز کی رقم نہیں تھی؟ آپ کا وہی مقدس آئین جس کی آج جیت ہوئی جس میں بنیادی حقوق ریاست کی ذمہ داری ہیں؟ یا وہ آئین جو امیروں کی دولت کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے؟

منافقت بھی شرمندہ: طالبان کی بیٹیاں بیرون ملک پڑھتی ہیں، فٹبال کھیلتی ہیں

طالبان کے اساتذہ یعنی ’مجاہدین‘ جو پاکستان میں قائم مہاجر کیمپوں میں لڑکیوں کے اسکول نہیں کھولنے دیتے تھے، ان میں سے بعض کی اپنی بیٹیاں یورپ میں پڑھ رہی تھیں یا رہ رہی ہیں۔ ان مجاہدین کو سی آئی اے اور اختر عبدلرحمن یا حمید گل جیسے جرنیلوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ اختر عبدلارحمن اور حمید گل کی اپنی اولادیں بھی ملک اور بیرون ملک بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ حمید گل کی بیٹی نے تو ایک ٹرانسپورٹ کمپنی بھی چلائی۔

نئی حلقہ بندیوں کے نام پر بی جے پی کی جموں کشمیر میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش

بی جے پی حکومت نے ایک خطے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کر کے اور برادریوں کے درمیان شگاف پیدا کر کے جموں و کشمیر میں تفرقہ ڈالنے والی سیاست کی ہے۔ یہ 5 اگست 2019ء سے صورتحال کو اپنے فائدے کے لئےبنانے کے لئے جوڑ توڑ اور مینوورنگ کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ میں ریاستی اسمبلی کے حق رائے دہی میں ترمیم کی گئی ہے جو صرف مستقل رہائشیوں تک محدود تھا اور اسے غیر ریاستی باشندگان تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انتخابی حلقوں کی دوبارہ تشکیل اس سب کے ساتھ ایک ٹکڑا ہے۔ اس سے جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ اور علاقائی تقسیم مزید گہری ہوگی اور یہ عوام کو بے اختیار کرنے کا پابند ہے اور جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر مضر اثرات مرتب کرے گا۔