مزید پڑھیں...

جموں کشمیر: 300 سے زائد افراد کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم، احتجاج جاری

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام آج 5 اگست کو بھی اسی سلسلے میں ایک احتجاجی پروگرام راولاکوٹ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاجی ریلی اور جلسہ سے چیئرمین سردارمحمد صغیر خان ایڈووکیٹ کے علاوہ دیگر رہنما خطاب کرینگے۔

جوزف سٹالن کو گرفتار کر لیا گیا

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں لگتا کہ قانون ملک میں سب کیلئے یکساں ہے۔ رانیل وکرما سنگھے کا تقرر اس ملک کے لوگوں نے نہیں بلکہ راجاپکسا کے پارٹی اراکین پارلیمان نے کیا ہے۔ اب صدر مناسب اصلاحی ایجنڈا سامنے لائیں، نہ کہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔ عوام جانتے ہیں کہ صدر کا اصلاحی ایجنڈا سامنے لانے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔

مسئلہ سرمایہ داری، حل اجتماعیت: 9 یورو ٹکٹ کا تازہ جرمن تجربہ

اس تجربے کی روشنی میں، دنیا بھر کے شہریوں کو اپنی اپنی حکومتوں سے ایسی اجتماعی ٹریفک کا مطالبہ کرنا چاہئے جس میں شہری سہولت کے ساتھ با آسانی سفر کر سکیں۔ ہر نئی ذاتی گاڑی اور موٹر سائیکل سرمایہ داری کے لئے آکسیجن مگر انسانوں کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

ایمن الظواہری: ڈرون اڑا کہاں سے؟

وار آن ٹیرر اور سٹریٹیجک ڈیپتھ، متعلقہ حکمران کے لئے ارب کھرب ڈالر کا کاروبار ہے۔ اس کاروبار کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی ایمن الظواہری دستیاب نہ ہو تو ایجاد کر لیا جائے۔

تحریک انصاف پھنس گئی ہے: ’ہم خیال جج‘ بھی بچا نہ پائیں گے

تحریک انصاف پھنس گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مقدمہ ہے جس سے نکلنا تحریک انصاف کے لئے مشکل ہو گا۔ ابھی تو ایک عمل شروع ہوا ہے۔ اس کی کئی شکلیں سامنے آئیں گی…لیکن اب ہر ایک جگہ یہ تو بات ہو گی کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف دیا ہے۔ اس کے سیاسی اثرات نظر آئیں گے۔

’پی ٹی آئی نے سیاسی کلچر کو گالم گلوچ بنا دیا، یوں طنز سمجھنا بھی مشکل ہو گیا‘

زیادہ تر میرا مواد عمران خان اور ان کے فالوورز کے حوالے سے ہوتا ہے۔ تاہم مجھے جو بھی چیز غلط نظر آئے گی، بلاتفریق سب کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے گا۔ کسی کی تضحیک کئے بغیر اس کو اپنی نیچرل کمنٹری کی شکل میں منافقت کو سامنے لایا جائے۔ آہستہ آہستہ سب پر تنقید ہو گی۔

ناکام نظام کا بوسیدہ انفراسٹرکچر: سیلاب نے 419 زندگیاں نگل لیں

سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں سیلابی کیفیت پر قابو پانے اور ہر سال برباد ہونے والی زندگیوں کو محفوظ رکھنے سمیت اس خطے کے کسی بھی ایک سنجیدہ مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔ نسل در نسل سے سرمائے کے جبر کا شکار محنت کشوں کی بغاوت اور اپنے مقدر کو اپنے ہاتھوں میں لینے کاعمل ہی اس خطے سے ہر طرح کی بربادی کے خاتمے کی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔