مزید پڑھیں...

ہرات: سکول کی لڑکیوں کا طالبان کے خلاف مظاہرہ

تین دن قبل افغان بچوں نے مہم شروع کی تھی کہ وہ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے تھے۔ ان بچوں نے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ہم اپنی بہنوں کے بغیر سکول نہیں جائیں گے۔

خواتین کیلئے افغان کمیونسٹوں کا دور کہیں بہتر تھا: امریکہ مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کے بعد سے امریکہ کی پوری سیاسی اشرافیہ افغان خواتین کے تاریک مستقبل کے غم میں رنج والم کی تصویر بنی بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظارہ آج سے بیس برس قبل کی صورتحال سے بڑی مماثلت رکھتا ہے جب گیارہ ستمبر کو القاعدہ کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں امریکہ نے القاعدہ کو فوری ختم کرنے اور افغان خواتین کو طالبان کے ظلم و اِستبداد سے آزاد کرانے کے مقاصد کو افغانستان پر لشکر کشی کے دو کلیدی محرکات کے طور پر پیش کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے ذمہ دار شیخ رشید ہیں، اسد علی طور کا دعویٰ

انکا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کو اس موقع پر نہیں بھولنا چاہیے، انہوں نے بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کے نام ایک پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان مت جاؤ ٹی ٹی پی کوئی بڑا ٹارگٹ ڈھونڈ رہی ہے اور وہ آپ کو ٹارگٹ بنا سکتے ہیں۔

’میرے بیٹے آج سکول گئے، بیٹی گھر پر رہی: میں اسکے ساتھ آنکھ نہیں ملا پا رہا‘

”جیسا کہ لگتا ہے کہ طالبان افغان خواتین اور لڑکیوں سے بہت نفرت کرتے ہیں اور ان کو (سماجی سرگرمیوں سے) خارج کرتے اور انہیں محروم کرتے رہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ تمام 17-18 ملین خواتین اور لڑکیاں اس ملک کو چھوڑ دیں اور طالبان کو اپنے آپ اور بندوق برداروں کے ہمراہ چھوڑ دیں۔ وہ ہمارے لائق نہیں ہیں۔“

البانیہ: نئی حکومت میں مردوں کی بھی نمائندگی ہے

البانیا نیٹو کا رکن ہے اور اس کا مقصد ایک دن یورپی یونین میں شامل ہونا ہے، لیکن اصلاحات کی کمی اور یورپی یونین کے ارکان کی جانب سے مزید توسیع کے لیے ہچکچاہٹ نے الحاق کے عمل کو سست کر دیا ہے۔

بچے بھی طالبان کیخلاف احتجاج میں شامل، وزارت خواتین بند کرنے پر عورتوں کا مظاہرہ

کابل میں وزارت خواتین کے سامنے ایک درجن سے زائد خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، احتجاج کرنے والی خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت کے مختلف مطالبات درج تھے، اس کے علاوہ خواتین کو ایک فعال کردار سے روکنے والے معاشرے کو بیمار معاشرہ قرار دیا گیا تھا۔

انڈیا: سامراج کی نظر میں، شکاری یا شکار؟

آج کل دنیا اور خاص طور پر پاکستان میں یہ تاثر خاصا مضبوط ہے کہ انڈیا اور سامراج یعنی امریکہ باہم بہت زیادہ شیر و شکرہیں۔ انڈین سیاسی قیادت نے تو اندرون ملک اپنے عوام کو کامیابی سے اسطرح کا تاثر دے رکھا ہے کہ امریکہ اپنے ملکی اور عالمی اہم فیصلے بھی انڈین قیادت سے پوچھ کر کرتا ہے۔

افغانستان کے مسئلے پر ہالینڈ کی وزیر خارجہ سے استعفیٰ لے لیا گیا

ان پر تنقید کی جا رہی تھی کہ وہ ان افغان شہریوں کو بر وقت یا مناسب طریقے سے ملک سے نکالنے کا بندوبست نہ کر سکیں جنہوں نے افغانستان میں تعینات ہالینڈ کی فوک کے ساتھ بطور مترجم یا ہالینڈ کے ساتھ کسی بھی حیثیت میں کام کیا۔

’نیا افغانستان‘: وزارت خواتین کو امر بالمعروف کے مرکز میں بدل دیا

”طالبان ہم سے مسلسل جھوٹ بول رہے تھے۔ ہم سے کہہ رہے تھے کہ آپ خواتین ملازمین کو اگلے ہفتے بلوایا جائے گا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اس وزارت کو ہی ختم کر دیا جائے گا۔ خواتین کے نام پر کچھ باقی نہیں بچے گا۔ تمام خواتین جو اس احتجاج میں شامل ہیں، ہم سب اپنے اپنے کنبے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ہم میں سے بعض بیوہ ہیں۔ بعض کے شوہر نشہ کرتے ہیں۔ ہم نے تعلیم حاصل کی ہم گھر پر نہیں بیٹھنا چاہتیں۔ وہ ہمیں وزارت میں داخل نہیں ہونے دے رہے۔ ہم تین ہفتے سے یہاں آ رہے ہیں۔ افغانستان میں عورت نام کی کوئی ذات نہیں بچی“۔