مزید پڑھیں...

15 نومبر: جنرل باجوہ نے عمران خان کو ڈیڈ لائن دیدی

صحافتی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے سے خوش نہیں ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ انکا تبادلہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے گریزاں ہیں اور وزیراعظم ہاؤس اور ’راولپنڈی‘ کے مابین تناؤ کی کیفیت کو کم کرنے کیلئے 3 وفاقی وزرا مسلسل 4 سے 5 روزتک متحرک رہے، جس کے بعد پیر کے روز وزیر اعظم اور آرمی چیف کے مابین طویل ملاقات ہوئی۔

سوشلسٹ جموں کشمیر کنونشن: وادی مظفر آباد میں لال لال کی گونج

گزشتہ روز ’سوشلسٹ جموں کشمیر کنونشن‘ کے نام سے منعقدہ این ایس ایف کے اکیسویں مرکزی کنونشن میں جموں کشمیر کے مختلف اضلاع سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے سیکڑوں نوجوان مرد و خواتین شریک ہوئے۔ کنونشن کا آغاز ہفتہ کے روز مختلف شہروں سے قافلوں کی مظفرآباد آمد سے ہوا، جس کے بعد ڈگری کالج مظفرآباد سے ’طلبہ حقوق کارواں‘کے عنوان سے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

افغان خواتین بربریت کی بند گلی میں

اب پلک جھپکتے ہی افغان خواتین وہ تمام حقوق کھو چکی ہیں۔نہ صرف وہ حقوق جن کیلئے وہ انتھک اور تندہی سے لڑی تھیں بلکہ خواتین کارکنوں کو اب طالبان تلاش کر رہے ہیں۔

شیخ رشید نے عمران خان کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا

دی فرائیڈے ٹائمز کے معروف کالم ’سچ گپ‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم عمران خان کے الیکشن کمیشن کی سکیورٹی واپس لینے کے احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب انہوں نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ وہ عمران خان کے کہنے پر کوئی متنازعہ کام نہیں کرینگے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری: 3 وزیراسلام آباد راولپنڈی تناو ختم کرانے میں متحرک

صحافی اسد علی طور نے اپنے ’وی لاگ‘میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے بطور کور کمانڈر پشاور تبادلے اورنئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم اور راولپنڈی کے مابین تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور 3 وفاقی وزراء پیغام رسانی کے کام میں مشغول ہیں۔

فیڈل کاسترو بنام عبدالقدیر خان

سچ پوچھئے تو آپ کا نام میں نے کافی سال پہلے بھی سنا تھا جب آپ نے پاکستانی ٹیلی ویژن پر آ کر اپنے کچھ جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ کمیں نے کیا،پوری دنیا نے وہ اعتراف ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔ اسمگلنگ ہمارے ہاں لاطینی امریکہ میں بھی بہت ہوتی ہے مگر جو خیال آپ کو سوجھا‘ وہ تو کبھی پابلو ایسکوبار کو بھی نہ سوجھا ہو گا۔

کشمیر کی مذہبی اقلیتیں ہمارا حصہ ہیں،ان کے خلاف ظلم قبول نہیں، کے جی سی

یاد رہے گذشتہ ہفتے ’نامعلوم بندوق بردار دہشت گردوں‘کی فائرنگ سے اقلیتی برادریوں کے ارکان سمیت پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں ایک غیر مسلح شہری مارا گیا۔ رواں سال اب تک کشمیر میں دو درجن سے زائد شہری ہلا کتیں ہو چکی ہیں۔