مزید پڑھیں...

’جالب جمہوری میلہ‘ اتوار کو کاسمو پولیٹن کلب باغ جناح لاہور میں ہو گا

جالب جمہوری میلہ میں کلام جالب پیش کیا جائے گا، جس میں طاہرہ حبیب جالب، عمار رشید اور حسنین جمیل فریدی حبیب جالب کا کلام پیش کریں گے۔ ’فکر جالب اور آج کا نوجوان‘کے عنوان سے تقریب منعقد ہو گی، جس میں مزمل خان کاکڑ، کامریڈ سنبل، علی آفتاب، ابوذر مادھو، اویس قرنی اور آمنہ چوہدری گفتگو کریں گے۔

عوامی مینڈیٹ کو بے شرمی سے چوری کیا گیا اور ڈھٹائی سے برقرار رکھا گیا: پتن کولیشن 38

•ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عام انتخابات 2024 میں دھاندلی، دھوکہ دہی اور ہیرا پھیری کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لئے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔
•الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا جنہوں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر عام انتخابات 2024 میں انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔ ہم ای سی پی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے۔

کسان مارکیٹ کے رحم و کرم پر: حکومت نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت ختم کر دی

گندم کی کم از کم امدادی قیمت کے خاتمے کا سب سے زیادہ اثر کسانوں پر پڑے گا۔ چھوٹے کسان کم از کم امدادی قیمت پر حکومت کو گندم فروخت کرتے تھے،جبکہ حکومتی مداخلت ختم ہونے کے باعث چھوٹے کسان مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہو جائیں گے اور کارپوریٹ سیکٹر گندم کی خریداری کو روک کر کسانوں کو اونے پونے داموں گندم بیچنے پر مجبور کرے گا، جس کے باعث چھوٹے کسانوں کی بقاء کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت نے چھوٹے کسانوں کا معاشی قتل کرنے کا بھی باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

یوم یکجہتی پر مسلح جتھوں کی یلغار: میڈیا اور عوام کے لیے الگ الگ تقریبات

غیر معمولی اقدام ریاست کی جانب سے ہی کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے زیر اہتمام خصوصی تقریبات کا انعقاد تھا۔ کالعدم قرار دی گئی جماعۃ الدعوۃ ’یونائیٹڈ موومنٹ‘ کے نام سے کام کرنے والی سیاسی جماعت اور حریت کانفرنس کے زیر اہتمام دارالحکومت مظفرآباد میں جلسہ منعقد کیا گیا۔ اسی طرح پونچھ ڈویژن کے صدر مقام راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے اشتراک سے ریلی اور جلسہ منعقد کیا گیا۔

یو ایس ایڈ کی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ، اثرات کیا ہوں گے؟

تیسری دنیا میں حال ہی میں یورپی تسلط سے آزاد ہوئے ممالک سیاسی آزادی کے ساتھ ساتھ معاشی آزادی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے خواہشمند تھے۔ 1950 کی دہائی میں امریکی اسٹیبلشمنٹ پریشان تھی کہ یہ ملک امریکہ اور یورپ کی ”آزادیوں“کی خواہش رکھنے کے بجائے سوشلسٹ ممالک کی معاشی پلاننگ سے زیادہ متاثر نظر آرہے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ سامراج مخالف انقلابی تحریکیں سیاسی اور معاشی آزادی کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھتی تھیں اور جن مشکل معروضی حالات میں سوویت یونین نے ہٹلر کو شکست دے کر معاشی ترقی کی،اس کی مثال نہرو سے لے کر فیڈل کاسترو تک تمام تیسری دنیا کے لیڈران دیا کرتے تھے۔

امریکی امداد پر روک: 12 لاکھ افغان مہاجرین سمیت 17 لاکھ پاکستانی متاثر ہونگے

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے امریکہ کی غیر ملکی امداد روک لگانے سے پاکستان میں 17لاکھ افراد متاثر ہونگے، جن میں 12لاکھ افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کو میسر60سے زائد سہولیات بند ہونے کے علاوہ زندگی بچانے اور تولیدی صحت کی خدمات بھی منقطع ہو جائیں گی۔

طالبان کے ایک سینئر وزیر کو طالبان سے ہی جان کا خطرہ، افغانستان سے فرار ہو گئے

طالبان کے ایک سینئر وزیرمبینہ طور پر گرفتاری کے خوف کی وجہ سے افغانستان سے فرار ہو گئے ہیں۔ وزارت خارجہ میں طالبان کے سیاسی نائب شیر عباس ستانکزئی نے گزشتہ ماہ جنوری میں اپنی ہی حکومت سے لڑکیوں اور خواتین کے لیے سکول کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ سکولوں پر پابندی کا حکم شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ شیر عباس ستانکزئی نے خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کی کھلے عام مذمت کی تھی۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 42 فیصد اضافہ

رواں سال جنوری میں بھی بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب رہی۔ 5جنوری کو ضلع کیچ کے صدر مقام تربت میں ایک بس پر خود کش دھماکے میں چار افراد ہلاک جبکہ36سے زائد زخمی ہوئے۔9جنوری کو خضدار کی تحصیل زہری ٹاؤن میں ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے لیویز تھانہ پر قبضہ کیا اور اس کے بعد نادرا آفس، نجی بینک اور موبائل ٹاور کو بھی نذر آتش کر دیا۔