مزید پڑھیں...

شہباز گل کے بیان پر گرفتاری نہیں، عدالتی فیصلہ ہونا چاہئے

آمریت کی کوئی شکل بھی سیاسی مضبوطی کی نہیں، کمزوری کی نشانی ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کو جن کی کوئی مادی بنیاد بھی نہ ہو کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کتنی کمزور حکومت ہے کہ وہ شہباز گل جیسے وارداتئے کے اشتعال انگیز بیانات سے بھڑک اٹھی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ایسا ہی کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

’الظواہری پر ڈرون حملہ تاجکستان سے ہوا‘: نجم سیٹھی کا متنازعہ دعویٰ

نجم سیٹھی کا یہ دعویٰ حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تاجکستان میں کوئی امریکی اڈا موجود نہیں۔ الجزیرہ کی اس رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے کرغستان اور ازبکستان میں فوجی اڈے قائم کئے تھے۔ ازبکستان سے اڈہ 2005ء میں ختم کر دیا گیا تھا۔ کرغستان سے امریکی اڈہ 2014ء میں ختم ہو گیا تھا۔ الجزیرہ کی مندجہ بالا رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں امریکی اڈہ کبھی قائم ہی نہیں ہوا تھا۔ جس طرح سے روس نے سابق سوویت ریاستوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے، اس کے پیش نظر یہ بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ تاجکستان ایسی جرات کرے گا کہ امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرے۔

ہیروشیما ناگا ساکی: امریکی ایٹم بم بمقابلہ کمیونسٹ تحریک کی امن فاختہ

اس جنگ کے خاتمے پر پوری دنیا امن کی خواہاں تھی۔ دنیا بھر کی ماسکو نواز کمیونسٹ پارٹیوں نے سوویت یونین کی ہدایت پر عالمی امن کی مہم شروع کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں ورلڈ پیس کانگرس کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا پہلا اجلاس 1949ء میں پیرس میں ہوا۔ اس کانگرس کے پوسٹر کے لئے پکاسو کے ایک سکیچ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ اسکیچ دنیا بھر میں امن اورایک وقت پر کمیونسٹ تحریک کی علامت بن گیا۔

سرمائے کا انتشار

ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی بحران خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو جب بھی کسی سماج کو اپنے شکنجے میں جکڑتا ہے تو صرف بیروزگاری، مہنگائی، غربت اور لا علاجی نہیں بڑھتی بلکہ معیشت کا بحران سماج میں موجود ہر چیز میں اپنا اظہار کرتا ہے پھر چاہے وہ آپ کی سیاست ہو، اخلاقیات ہوں، دوستیاں ہوں، رشتے، کلچر، موسیقی، ادب، آرٹ حتیٰ کہ سماج کی ہر چیز میں اسکا اظہار ہوتا ہے۔

چلئے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح: شکیب جلالی

”اردو غزل کی روایت میں شکیب کا مقام منفرد ہے۔ اس کے دور میں فیض اور ناصر کاظمی خوبصورت غزلیں کہہ رہے تھے مگر وہ شکیب ہی تھا جس نے غزل کو موضوع و اظہار کے حوالے سے ایک متوازن جدت کا موڑ دیا۔ یوں وہ جدید غزل نگاروں کا سالار ہے۔“