اداریہ

سر تن سے کوئی بھی جدا کر سکتا ہے، کمال تو کٹے سر کو تن سے جوڑنا ہے

گویا ملک بھر میں عوامی شعور کی کئی پرتیں ہیں۔ بحرانی کیفیت میں شعور تیزی سے سفر کرتا ہے۔ کسی بھی ترقی پسند متبادل کے سامنے آتے ہی حالات تیزی سے بدل بھی سکتے ہیں مگر متبادل تعمیر کرنا ہو گا۔ اس متبادل کی کیا شکل ہو گی اس پر بحث اور غور و خوض کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کی قوتیں مختلف پلیٹ فارموں سے اس کوشش میں مصروف ہیں۔

لاپتہ افراد سیاسی کارکنوں کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہو رہا ہے

’روزنامہ جدوجہد‘ کا موقف بالکل واضح ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ریاستی اداروں کی جانب سے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنا بنیادی شہری و انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے اور ایسی خلاف ورزیاں معاشرے میں مزید بد امنی کو جنم دیتی ہیں۔

جے کے ایل ایف کا لانگ مارچ: ’آزاد‘ کشمیر میں آزادی پسندوں پر تشدد

ہم جے کے ایل ایف کے لانگ مارچ کے خلاف ریاستی تشدد اور قیادت کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم قائدین کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ جوطبقے ریاست جموں کشمیر کے باشندگان کے چھوٹے سے پر امن جمہوری اظہار کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ ان کے استصواب رائے کے حق کی بات کرنے کا بھی حق نہیں رکھتے۔

کوئٹہ جلسہ: سخت گیر تقریروں کا مقابلہ

نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر کھل کر فوجی قیادت کا نام لے کر ذکر کیا البتہ انہوں نے چالاکی کے ساتھ جرنیلوں اور سپاہیوں میں فرق کیا اور فوجی جوانوں اور افسروں سے اپیل کی کہ وہ آئین کی حفاظت بھی اسی طرح کریں جس طرح سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

علی آباد دھرنے کا گومگو التوا: 30 نومبر تک بابا جان اور ساتھیوں کو رہا کرنے کا وعدہ

ہمیں امید ہے کہ اگر حکومتی وعدے ایفا نہ ہوئے تو تحریک پھر سے جنم لے گی۔ تحریک کے موجودہ مرحلے سے نہ صرف گلگت بلتستان کے لوگوں کو مندرجہ بالا سبق سیکھنے ہوں گے بلکہ اگلی بار پاکستان بھر میں بابا جان کی رہائی کے لئے کوشاں قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

پی ڈی ایم کی قیادت مولانا کو سونپ کر حزبِ اختلاف نے خواتین اور اقلیتوں سے دھوکا کیا ہے

گو ہمیں اس اتحاد میں کوئی زیادہ خوش فہمی نہیں ہے۔ اتحاد کی تشکیل کا اعلان ہوتے ہی جی ایچ کیو میں ہونے والے خفیہ اجلاسوں کی خبر نے اس اتحاد بارے شکوک و شبہات کو بھی جنم دیا۔ ایسا ہونا لازمی امر اس لئے بھی تھا کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں موقع پرستی کے لئے مشہور ہیں۔

مولانا طارق جمیل سی سی پی او عمر شیخ کی مذہبی شکل ہیں

قصہ مختصر، ہماری نظر میں مولانا کا یہ بیان ان کی روایتی عورت دشمنی کا ایک اور اظہار ہے۔ انہیں اس بیان پر نہ صرف پاکستان کی عورتوں سے معافی مانگنی چاہئے بلکہ ایسے موضوعات پر بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے جن کے بارے میں ان کا علم انتہائی محدود ہے۔

خان صاحب! نامرد بنانے سے جرم ختم نہیں ہو گا مگر درندگی بڑھ جائے گی

ہر سنگین جرم کے بعد پاکستانی معاشرہ سکتے میں آ جاتا ہے اور پھرسخت سزاؤں کا شور بھی اٹھتا ہے۔ موٹر وے پر ہونے والے ریپ کیس نے ایک مرتبہ پھر لٹکا دو، سر عام پھانسی دو، والے بیانئے کو بڑھاوا دیا۔ اس بار البتہ خطرناک بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم (گو ان سے اسی کی توقع تھی) نے بھی اس بیانئے کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے تو نہ صرف ریپ کے مجرم کے لئے پھانسی بلکہ نامرد بنانے کی بھی تجویز دی ہے۔

جب محافظ عمر شیخ جیسے ہوں تو خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں

ہم اس ظلم کا شکار بننے والی خاتون اور ان کے خاندان سے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں نہ صرف انصاف ملنا چاہئے بلکہ اس خاندان کی بحالی کے لئے ریاستی سطح پر اقدامات ہونے چاہئیں۔ پاکستان کی سڑکیں، عوامی مقامات، کھیت، فیکٹریاں، سکول، یونیورسٹیاں، دفتر اور بازار…دن ہو کہ رات…ہر عورت اور ہر بچے کے لئے محفوظ ہونی چاہئیں۔

مسئلے کی جڑ کرپشن نہیں، طاقت ہے

تحریک انصاف جیسی جماعتوں نے یہ سامراجی اور آمرانہ بیانیہ عام کیا کہ پاکستان میں ہر مسئلے کی جڑ بدعنوانی ہے (تا کہ سرمایہ داری، طبقاتی اونچ نیچ اور قومی جبر کی بات نہ ہو سکے)۔ عمران خان کا بیانیہ یہ تھاکہ اگر پارسا لوگ حکومت میں آ جائیں تو بدعنوانی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا یہ بیانیہ پچھلے دو سال میں دھڑام سے زمین پر آ چکا۔