اداریہ

مولانا طارق جمیل سی سی پی او عمر شیخ کی مذہبی شکل ہیں

قصہ مختصر، ہماری نظر میں مولانا کا یہ بیان ان کی روایتی عورت دشمنی کا ایک اور اظہار ہے۔ انہیں اس بیان پر نہ صرف پاکستان کی عورتوں سے معافی مانگنی چاہئے بلکہ ایسے موضوعات پر بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے جن کے بارے میں ان کا علم انتہائی محدود ہے۔

خان صاحب! نامرد بنانے سے جرم ختم نہیں ہو گا مگر درندگی بڑھ جائے گی

ہر سنگین جرم کے بعد پاکستانی معاشرہ سکتے میں آ جاتا ہے اور پھرسخت سزاؤں کا شور بھی اٹھتا ہے۔ موٹر وے پر ہونے والے ریپ کیس نے ایک مرتبہ پھر لٹکا دو، سر عام پھانسی دو، والے بیانئے کو بڑھاوا دیا۔ اس بار البتہ خطرناک بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم (گو ان سے اسی کی توقع تھی) نے بھی اس بیانئے کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے تو نہ صرف ریپ کے مجرم کے لئے پھانسی بلکہ نامرد بنانے کی بھی تجویز دی ہے۔

جب محافظ عمر شیخ جیسے ہوں تو خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں

ہم اس ظلم کا شکار بننے والی خاتون اور ان کے خاندان سے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں نہ صرف انصاف ملنا چاہئے بلکہ اس خاندان کی بحالی کے لئے ریاستی سطح پر اقدامات ہونے چاہئیں۔ پاکستان کی سڑکیں، عوامی مقامات، کھیت، فیکٹریاں، سکول، یونیورسٹیاں، دفتر اور بازار…دن ہو کہ رات…ہر عورت اور ہر بچے کے لئے محفوظ ہونی چاہئیں۔

مسئلے کی جڑ کرپشن نہیں، طاقت ہے

تحریک انصاف جیسی جماعتوں نے یہ سامراجی اور آمرانہ بیانیہ عام کیا کہ پاکستان میں ہر مسئلے کی جڑ بدعنوانی ہے (تا کہ سرمایہ داری، طبقاتی اونچ نیچ اور قومی جبر کی بات نہ ہو سکے)۔ عمران خان کا بیانیہ یہ تھاکہ اگر پارسا لوگ حکومت میں آ جائیں تو بدعنوانی ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا یہ بیانیہ پچھلے دو سال میں دھڑام سے زمین پر آ چکا۔

بلاسفیمی کے نام پر فرقہ واریت

’روزنامہ جدوجہد‘ کی ملک بھر کے تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ دوسروں کے عقیدے کا احترام کریں۔ بطور شہری ہمیں مذہبی رواداری کی شاندار مثالیں قائم کرنی چاہئیں۔ ایسی سیاسی جماعتوں اور گروہوں سے ہوشیار رہنا ہو گا جو فرقہ واریت اور مذہبی جنون پھیلا کر دراصل اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں۔

عاصم باجوہ کو بچاتے ہوئے عمران خان خود ڈوب جائیں گے!

ہم نے چند دن پہلے ایک ادارتی نوٹ میں کہا تھا کہ احمد نورانی کی رپورٹ پر حکومت کے لئے خاموش رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ جنرل عاصم کو خود یہ خاموشی توڑنی پڑی۔ موقع پرست حزب اختلاف کو بھی لب کشائی کرنی پڑی۔ تردید کے بہانے ہی سہی، میڈیا کو بھی رپورٹ کرنا پڑا۔ تضاد اتنا کھلا ہے کہ روایتی جوڑ توڑ، زور زبردستی، سنسر اور ہیرا پھیری سے مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔

پاکستان کے لئے یہ واٹر گیٹ والا لمحہ ہے

پاکستان تحریک انصاف کا تو نعرہ ہی بدعنوانی کا خاتمہ، شفافیت اور انصاف تھا۔ اب اگر عمران خان کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے تو ان کی رہی سہی ساکھ بھی چلی جائے گی۔ پہلے ہی جہانگیر ترین کی لوٹ مار نے ان کے نعروں کا کھوکھلا پن ظاہر کر دیا ہوا ہے۔

توہین مذہب کے نام پر تشدد کیوں بڑھ رہا ہے؟ محنت کش طبقہ کیسے متاثر ہوتا ہے؟

ریاست اور حکمران طبقہ بوقت ِضرورت اور حسبِ ضرورت خود توہین مذہب کا کارڈ استعمال کرتے آئے ہیں۔ پچھلے چند سالوں کا ہی جائزہ لیجئے۔ گورنر سلمان تاثیر سے مسلم لیگ نواز خاصی تنگ تھی۔ جب گورنر تاثیر اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو ہم نے دیکھا کہ آرمی چیف اور صدر زرداری سے لے کر وزیر اعلیٰ شہباز شریف تک، کوئی بھی جنازے پر موجود نہیں تھا۔

نصاب نہیں یکساں نظام تعلیم چاہئے: مدرسے اور پرائیویٹ سکول قومی ملکیت میں لئے جائیں

طبقاتی نظام کا خاتمہ کئے بغیر حقیقی معنوں میں غیر طبقاتی نظام تعلیم ممکن نہیں۔ ایک غیر طبقاتی نظام تعلیم کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی مگر محنت کش اور سفید پوش طبقے سے پچھلی چار دہائیوں میں وہ حقوق بھی چھین لئے گئے ہیں جو انہیں موجودہ گلے سڑے نظام میں حاصل تھے۔ ان میں سے ایک حق مفت تعلیم کا تھا۔

مطیع اللہ جان کی ’گمشدگی‘ اور رہائی

یہاں حکمران طبقہ کسی قسم کے اختلاف رائے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ سلیم شہزاد، عمر چیمہ، حامد میر، احمد نورانی اور اب مطیع اللہ جان۔ جو صحافی سرکاری احکامات سے رو گردانی کرتا ہے، اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اور قانون بے بس دکھائی دیتا ہے۔