اداریہ

خاشہ زوان: افغانستان میں اتنا غصہ ہے کہ طالبان بھی تین دفعہ بیان بدل چکے ہیں

خاشہ زوان کے قتل نے ایک بارپھر عیاں کیا ہے کہ بیس سالہ سامراجی تسلط اور افغان بربریت کے عرصہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایساکوئی اقدام سامراجی و طالبان ایجنڈے میں شامل تھا۔ افغانستان کے دکھوں کا مداوا خود افغان عوام کی اکثریت ہی اپنے مقدر اور تاریخ اپنے ہاتھ میں لیکر کر سکتے ہیں۔ اس خطے کے محکوم و مظلوم عوام کے دکھوں اور تکالیف سے نجات سرمایہ دارانہ حاکمیت کے ہر برج، ہر مینارے کو توڑنے اور عوامی شراکت داری پر مبنی وسائل و اختیارات پر اجارے کی صورت ہی ممکن ہے۔

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

عثمان کاکڑ سمیت اس ملک کے محنت کشوں، نوجوانوں اور محکوم قومیتوں کی نجات اور حقیقی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے ہزاروں سیاسی کارکنوں کی طبعی یا سیاسی موت کا انتقام پھر اس نظام کے خلاف ان کی جلائی ہوئی شمع کو جلائے رکھنے اور جدوجہد کو تیز کرتے ہوئے ان کے مشن کی تکمیل، اس خطے میں ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنے پر ہی منحصرہے جہاں کوئی کسی کا کسی نوعیت کا استحصال نہ کر سکے۔

فوجی اڈے دینے سے افغان جنگ طویل ہو گی: یہ غیر مقبول حکومت کا غیر مقبول فیصلہ ہو گا

پاکستان کے شہری، بجا طور پر، اس اقدام کی سخت مخالفت کریں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کو اڈے دینے سے افغان جنگ جاری رہے گی۔ امن ایک سراب بنا رہے گا۔ طالبان اپنی کاروائیاں افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی شروع کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس جواز ہو گا کہ ہم امریکہ اور اس کے حواریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گویا ہم ایک مرتبہ پھر انتہائی خوفناک صورتحال کی جانب جا رہے ہیں۔

اسرائیل بربریت میں کامیاب مگر ’جنگ‘ ہار گیا ہے

عرب خطے پر بلواسطہ سامراجی اقتدار اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کیلئے صہیونی ریاست کے قیام کی وجہ سے نہ صرف فلسطینی محنت کشوں کی زندگیاں تاراج ہوئی ہیں بلکہ پورے عرب خطے کے محنت کشوں زندگیاں اجیرن بنائی گئی ہیں، دوسری طرف اسرائیل کے محنت کش بھی ایک مسلسل خوف کی کیفیت میں سامراجی مقاصد کے حصول کیلئے استحصال کا شکار ہوتے آئے ہیں۔طبقاتی جڑات کی بنیاد پر اس خطے سے سرمایہ دارانہ اقتدارکے خاتمے کے علاوہ مسئلہ فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کے محنت کشوں کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔

فیض آباد سے چوک یتیم خانہ تک: کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

اس لئے ہمارا واضح موقف ہے کہ ہم ٹی ایل پی یا اس قسم کے دیگر گروہوں سے کسی قسم کی نظریاتی و سیاسی ہمدردی رکھے بغیر، انکے متشدد بیانئے اور اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی بربریت کے بھی شدید خلاف ہیں۔

ٹی ایل پی پر پابندی ریاستی منافقت کو نہیں چھپا سکتی

ایسے میں ان بنیاد پرست اور مذہبی جنونی قوتوں سے نپٹنے کا فریضہ ترقی پسند قوتوں اور محنت کش طبقے کو ہی ادا کرنا ہو گا۔ یہ مذہبی جنونی قوتیں محنت کش طبقے کی دشمن ہیں۔ ایک طرف تو یہ گروہ محنت کشوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرتے ہیں دوسری جانب محنت کش طبقے کے غصے کو حکمران طبقے کی طرف موڑنے کی بجائے مخالف فرقے، مذہبی اقلیتوں اور مفروضہ دشمنوں کی طرف موڑ کر موجودہ نطام کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

ٹی ایل پی کا احتجاج 12 جانیں لے چکا: ریاست لاپتہ

سماج پر وحشت مسلط کرنے کیلئے بھی ایک کنٹرول درکار ہوتا ہے، اس طرح کی کیفیت کو لمبا کرنا خود بالادست طاقتوں کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک وقت میں اس خوف کی کیفیت کا خاتمہ کرنا مجبوری ہو جائے گا۔ مسائل پھر سے موجود رہیں گے، آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے ذریعے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے یہ عارضی ہتھکنڈے لمبے عرصے سے حکمران طبقات کیلئے کارگر نہیں رہنے والے ہیں۔ مسائل زدہ محنت کش طبقہ دکھوں سے نجات کیلئے تاریخ کے میدان میں ضرور اترے گا اور سماج پر مسلط ہر مصنوعی خوف اور ریاستی طاقت کو کہیں خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

پی ٹی آئی حکومت کا جمہوریت پر نیا حملہ

ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت انسانی ترقی اور وقار کی ضمانت ہے۔ سوشلزم جمہوریت کی ضمانت ہے۔ آئیے مل کر سوشلزم کی جدوجہد کو تیز کریں۔ آئیے نہ صرف اس حکومت بلکہ اس نظام سے نجات کی جدوجہد تعمیر کریں۔ اقتدار کا اخلاقی جواز صرف محنت کش طبقے کے پاس ہے۔ یہ جواز البتہ جمہوری طاقت حاصل کئے بغیر ممکن نہ ہو گا۔

ویکسین منافع خوری نہیں، شہریوں کی زندگیاں بچانے کیلئے درآمد کی جائے

پاکستان کے حکمران طبقات ویکسین کو منافع کمانے کی ایک جنس سے زیادہ اہمیت دینے سے گریزاں ہیں۔ ویکسین دنیا بھر میں ہر انسان کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ اس وقت تک دنیا میں موجود دولت کا تمام تر ارتکاز، تمام تر ترقی اور ایجادات انسانیت کا مشترکہ ورثا ہیں۔ ویکسین کی ہر سطح پر مفت فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے نسل انسانی کو اس موذی وبا کے خلاف مدافعت کی صلاحیت پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر: حکمران طبقات کا ہر قدم سامراجی مقاصد کا شاخسانہ

جموں کشمیر سمیت اس خطے کی تمام مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو طبقاتی بنیادوں پر جڑت اختیار کرتے ہوئے اس خطے سے سرمایہ دارانہ نظام حکمرانی کے خاتمے کیلئے منظم ہونا ہو گا تا کہ اس خطے سے محکومی، غلامی اور استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کیا جائے اورتمام قومیتوں کے حق خودارادیت اور حق علیحدگی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک سوشلسٹ فیڈریشن میں اس خطے کی تمام قومیتوں کو پرویا جا کر انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے اور ایک طبقات سے پاک منصفانہ معاشرے کی بنیادیں قائم کی جا سکیں۔