اداریہ

فیض آباد سے چوک یتیم خانہ تک: کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

اس لئے ہمارا واضح موقف ہے کہ ہم ٹی ایل پی یا اس قسم کے دیگر گروہوں سے کسی قسم کی نظریاتی و سیاسی ہمدردی رکھے بغیر، انکے متشدد بیانئے اور اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاستی بربریت کے بھی شدید خلاف ہیں۔

ٹی ایل پی پر پابندی ریاستی منافقت کو نہیں چھپا سکتی

ایسے میں ان بنیاد پرست اور مذہبی جنونی قوتوں سے نپٹنے کا فریضہ ترقی پسند قوتوں اور محنت کش طبقے کو ہی ادا کرنا ہو گا۔ یہ مذہبی جنونی قوتیں محنت کش طبقے کی دشمن ہیں۔ ایک طرف تو یہ گروہ محنت کشوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرتے ہیں دوسری جانب محنت کش طبقے کے غصے کو حکمران طبقے کی طرف موڑنے کی بجائے مخالف فرقے، مذہبی اقلیتوں اور مفروضہ دشمنوں کی طرف موڑ کر موجودہ نطام کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

ٹی ایل پی کا احتجاج 12 جانیں لے چکا: ریاست لاپتہ

سماج پر وحشت مسلط کرنے کیلئے بھی ایک کنٹرول درکار ہوتا ہے، اس طرح کی کیفیت کو لمبا کرنا خود بالادست طاقتوں کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک وقت میں اس خوف کی کیفیت کا خاتمہ کرنا مجبوری ہو جائے گا۔ مسائل پھر سے موجود رہیں گے، آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے ذریعے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا اور مسائل سے توجہ ہٹانے کے یہ عارضی ہتھکنڈے لمبے عرصے سے حکمران طبقات کیلئے کارگر نہیں رہنے والے ہیں۔ مسائل زدہ محنت کش طبقہ دکھوں سے نجات کیلئے تاریخ کے میدان میں ضرور اترے گا اور سماج پر مسلط ہر مصنوعی خوف اور ریاستی طاقت کو کہیں خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

پی ٹی آئی حکومت کا جمہوریت پر نیا حملہ

ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت انسانی ترقی اور وقار کی ضمانت ہے۔ سوشلزم جمہوریت کی ضمانت ہے۔ آئیے مل کر سوشلزم کی جدوجہد کو تیز کریں۔ آئیے نہ صرف اس حکومت بلکہ اس نظام سے نجات کی جدوجہد تعمیر کریں۔ اقتدار کا اخلاقی جواز صرف محنت کش طبقے کے پاس ہے۔ یہ جواز البتہ جمہوری طاقت حاصل کئے بغیر ممکن نہ ہو گا۔

ویکسین منافع خوری نہیں، شہریوں کی زندگیاں بچانے کیلئے درآمد کی جائے

پاکستان کے حکمران طبقات ویکسین کو منافع کمانے کی ایک جنس سے زیادہ اہمیت دینے سے گریزاں ہیں۔ ویکسین دنیا بھر میں ہر انسان کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ اس وقت تک دنیا میں موجود دولت کا تمام تر ارتکاز، تمام تر ترقی اور ایجادات انسانیت کا مشترکہ ورثا ہیں۔ ویکسین کی ہر سطح پر مفت فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے نسل انسانی کو اس موذی وبا کے خلاف مدافعت کی صلاحیت پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر: حکمران طبقات کا ہر قدم سامراجی مقاصد کا شاخسانہ

جموں کشمیر سمیت اس خطے کی تمام مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو طبقاتی بنیادوں پر جڑت اختیار کرتے ہوئے اس خطے سے سرمایہ دارانہ نظام حکمرانی کے خاتمے کیلئے منظم ہونا ہو گا تا کہ اس خطے سے محکومی، غلامی اور استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کیا جائے اورتمام قومیتوں کے حق خودارادیت اور حق علیحدگی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک سوشلسٹ فیڈریشن میں اس خطے کی تمام قومیتوں کو پرویا جا کر انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے اور ایک طبقات سے پاک منصفانہ معاشرے کی بنیادیں قائم کی جا سکیں۔

عدالت آج علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کرے گی

علی وزیر اور ریاستی جبر کے شکار دیگر سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جبری گمشدگیاں اور قربانیاں ٹھہرے ہوئے اور مایوسیوں میں دھنسے ہوئے سماج میں روشنی کی وہ پہلی کرنیں ہیں جو ایک نئی روشن صبح کی نوید سنا رہی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب چھوٹی چھوٹی بغاوتیں اور تحریکیں محنت کش طبقے کی ایک بڑی بغاوت کی شکل اختیار کرتے ہوئے اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کا مقدر بدلنے کا باعث بنیں گی۔

نئے سال کا المناک آغاز

ہمارا ریاست سے بھی مطالبہ ہے کہ مسلح فرقہ پرست اور مذہبی جنونی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔ 2 جنوری کو ہزارہ مزدوروں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس تاثر کو ختم ہونا چاہئے کہ مذہبی جنونی قوتوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ ہر شہری کی جان کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

سر تن سے کوئی بھی جدا کر سکتا ہے، کمال تو کٹے سر کو تن سے جوڑنا ہے

گویا ملک بھر میں عوامی شعور کی کئی پرتیں ہیں۔ بحرانی کیفیت میں شعور تیزی سے سفر کرتا ہے۔ کسی بھی ترقی پسند متبادل کے سامنے آتے ہی حالات تیزی سے بدل بھی سکتے ہیں مگر متبادل تعمیر کرنا ہو گا۔ اس متبادل کی کیا شکل ہو گی اس پر بحث اور غور و خوض کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کی قوتیں مختلف پلیٹ فارموں سے اس کوشش میں مصروف ہیں۔