اداریہ

یوم یکجہتی کشمیر: حکمران طبقات کا ہر قدم سامراجی مقاصد کا شاخسانہ

جموں کشمیر سمیت اس خطے کی تمام مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو طبقاتی بنیادوں پر جڑت اختیار کرتے ہوئے اس خطے سے سرمایہ دارانہ نظام حکمرانی کے خاتمے کیلئے منظم ہونا ہو گا تا کہ اس خطے سے محکومی، غلامی اور استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کیا جائے اورتمام قومیتوں کے حق خودارادیت اور حق علیحدگی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک سوشلسٹ فیڈریشن میں اس خطے کی تمام قومیتوں کو پرویا جا کر انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے اور ایک طبقات سے پاک منصفانہ معاشرے کی بنیادیں قائم کی جا سکیں۔

عدالت آج علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کرے گی

علی وزیر اور ریاستی جبر کے شکار دیگر سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جبری گمشدگیاں اور قربانیاں ٹھہرے ہوئے اور مایوسیوں میں دھنسے ہوئے سماج میں روشنی کی وہ پہلی کرنیں ہیں جو ایک نئی روشن صبح کی نوید سنا رہی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب چھوٹی چھوٹی بغاوتیں اور تحریکیں محنت کش طبقے کی ایک بڑی بغاوت کی شکل اختیار کرتے ہوئے اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کا مقدر بدلنے کا باعث بنیں گی۔

نئے سال کا المناک آغاز

ہمارا ریاست سے بھی مطالبہ ہے کہ مسلح فرقہ پرست اور مذہبی جنونی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔ 2 جنوری کو ہزارہ مزدوروں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس تاثر کو ختم ہونا چاہئے کہ مذہبی جنونی قوتوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ ہر شہری کی جان کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

سر تن سے کوئی بھی جدا کر سکتا ہے، کمال تو کٹے سر کو تن سے جوڑنا ہے

گویا ملک بھر میں عوامی شعور کی کئی پرتیں ہیں۔ بحرانی کیفیت میں شعور تیزی سے سفر کرتا ہے۔ کسی بھی ترقی پسند متبادل کے سامنے آتے ہی حالات تیزی سے بدل بھی سکتے ہیں مگر متبادل تعمیر کرنا ہو گا۔ اس متبادل کی کیا شکل ہو گی اس پر بحث اور غور و خوض کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کی قوتیں مختلف پلیٹ فارموں سے اس کوشش میں مصروف ہیں۔

لاپتہ افراد سیاسی کارکنوں کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہو رہا ہے

’روزنامہ جدوجہد‘ کا موقف بالکل واضح ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ریاستی اداروں کی جانب سے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنا بنیادی شہری و انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے اور ایسی خلاف ورزیاں معاشرے میں مزید بد امنی کو جنم دیتی ہیں۔

جے کے ایل ایف کا لانگ مارچ: ’آزاد‘ کشمیر میں آزادی پسندوں پر تشدد

ہم جے کے ایل ایف کے لانگ مارچ کے خلاف ریاستی تشدد اور قیادت کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم قائدین کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ جوطبقے ریاست جموں کشمیر کے باشندگان کے چھوٹے سے پر امن جمہوری اظہار کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ ان کے استصواب رائے کے حق کی بات کرنے کا بھی حق نہیں رکھتے۔

کوئٹہ جلسہ: سخت گیر تقریروں کا مقابلہ

نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر کھل کر فوجی قیادت کا نام لے کر ذکر کیا البتہ انہوں نے چالاکی کے ساتھ جرنیلوں اور سپاہیوں میں فرق کیا اور فوجی جوانوں اور افسروں سے اپیل کی کہ وہ آئین کی حفاظت بھی اسی طرح کریں جس طرح سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

علی آباد دھرنے کا گومگو التوا: 30 نومبر تک بابا جان اور ساتھیوں کو رہا کرنے کا وعدہ

ہمیں امید ہے کہ اگر حکومتی وعدے ایفا نہ ہوئے تو تحریک پھر سے جنم لے گی۔ تحریک کے موجودہ مرحلے سے نہ صرف گلگت بلتستان کے لوگوں کو مندرجہ بالا سبق سیکھنے ہوں گے بلکہ اگلی بار پاکستان بھر میں بابا جان کی رہائی کے لئے کوشاں قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

پی ڈی ایم کی قیادت مولانا کو سونپ کر حزبِ اختلاف نے خواتین اور اقلیتوں سے دھوکا کیا ہے

گو ہمیں اس اتحاد میں کوئی زیادہ خوش فہمی نہیں ہے۔ اتحاد کی تشکیل کا اعلان ہوتے ہی جی ایچ کیو میں ہونے والے خفیہ اجلاسوں کی خبر نے اس اتحاد بارے شکوک و شبہات کو بھی جنم دیا۔ ایسا ہونا لازمی امر اس لئے بھی تھا کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں موقع پرستی کے لئے مشہور ہیں۔