پاکستان

پہلوان کا اعتراف جہالت کافی نہیں

قمر الزماں خاں

پہلوان نے تو برملا نہیں مانا مگراسکے ایک مانے ہوئے ”گرو“ نے مان لیا ہے کہ تحریک انصاف کو ووٹ دینا اسکی جہالت تھی۔ ضروری نہیں کہ یہ اعتراف ہی ہو بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب اس جہالت کے بعد کسی نئی جہالت کے ارتکاب کی تیاری کے مرحلے ہوں اور اس ضمن میں یہ بیان تلاب کی لہروں میں طلاطم پیدا کرنے کیلئے ہو۔

اس بیان کے بعد سماج میں اضطراب گہرا ہورہا ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ ہم کرونا وبا کی وجہ سے جن سنگین ترین حالات کا شکار ہیں شائد اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال کا ادراک اس اعترافی بیان میں پنہاں ہے۔ ”گرو“ پہلوان منجھا ہوا ’گرو“ ہے جس نے ہیرا پھیری کی تمام ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں۔

چند دن پہلے تک وہ پوری ڈھٹائی سے ہر جرم، ہر ستم، ہر ہیراپھیری اور ہر بے انصافی کا دفاع بر سرعام کرتا پایا جاتا تھا۔ اسکی شکل بھی اب ڈبلیو ڈبلیو ایف کے رسوائے زمانہ مکار اور بے ایمان ریسلروں جیسی ہوچکی ہے جوجھوٹ بول بول اپنے چہرے پر”جھوٹے“ کا سائین بورڈ لکھوائے پھرتے ہیں۔

اگر ہم انکے اعتراف جہالت کا جائزہ لیں تو یہاں بھی ہمیں انکی بددیانتی واضح طور پر نظرآتی ہے۔ جہالت یہ نہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، جہالت یہ ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کو خلق کیا اور یہ جہالت یا جرم ماضی میں آپ بار بار نام بدل کر کنگز پارٹیاں تخلیق کرتے ہیں اور عوامی رائے راہ گم گشتہ پر ڈالنے کی کوشش کرتے آئے ہیں مگر ہر تجربہ ناکام ہو کر سنگین نتائج چھوڑگیا۔

اس سے بھی بڑھ کر ووٹ کے عمل کو مجروح کرنے کاعمل ہے جس کے ذریعے مینڈٹ کا تناسب تبدیل کرکے من مرضی کے نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ یہ تو جہالت جیسی معصوم برائی نہیں ہے بلکہ سوچا سمجھا حملہ ہوتا ہے جس کے نتائج یقینا زور آوری کی سوچوں کو تقویت دیتے چلے آرہے ہیں۔ اس عمل سے سیاسی دیانت داری کا جنازہ نکال کرہر کسی کو بدعنوان اور لوٹا بننے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اگر کوئی لوٹا نہیں بنتا تو اسکے ووٹوں میں سے جیتنے والا حصہ چراکرکسی نئے مہرے کو دے دیا جاتا ہے، یوں اس کو سبق سکھایا جاتا ہے۔

مگر یہ سب بھی اتنا سنگین نہیں ہوتا اگر وسائل کو بڑھاکر سماج کو ترقی دی جاتی، پست اور کمتر پرتوں کو بالائی پرتوں کے معیارزندگی کے قریب ترلایا جاتا۔ یہ امر اپنی جگہ پر مسلم اور ناگزیر ہوچکا ہے کہ ایسا کرنا اس طبقاتی سماج میں ممکن نہیں ہے۔ پھر یہ بات اب بالکل واضح ہوچکی ہے کہ موجودہ مالیاتی نظام میں ہمارے جیسے سماجوں کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ ترقی کا ہمیشہ مطلب عوام کی ترقی ہوتا ہے ورنہ طبقہ بالا تو ہر قسم کے بندوبست حکمرانی میں ہمیشہ ہی جانب ترقی پرواز کرتارہتا ہے۔ منڈی کی معیشت کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں اور اب اسکے اظہار میں بھی کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ سابق نو آبادیاتی ممالک کے بیشتر حصے ایک مخصوص دائرے میں ہی ’اوپر نیچے‘ ہوتے رہیں گے، یہی انکی ترقی ہوگی، مخصوص عرصے کی مگر عمومی طور پر وہ مائل بہ پستی ہی رہیں گے۔

اس طرح اسی نظام (سرمایہ داری) کے انتخاب کی وجہ سے آبادی کا بڑا حصہ معاشی، سماجی، طبی، تعلیمی اور ثقافتی پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا جارہا ہے۔ اس نظام میں یکساں اور بہتر انفراسٹرکچر تعمیر نہیں کیا جاتا۔ اسکا ثبوت کرونا عہد کا امریکہ اور یورپ ہے جہاں غریبوں کیلئے وبا سے نمٹنے کیلئے صرف موت کاراستہ ہی بچا تھااور انہیں اسی راستے پر چلنا پڑا لیکن اگر بڑے تناظر میں تجزیہ کیا جائے اور منڈی کے تمام عوامل کے کئی مرحلوں میں ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے کے عمل کو دیکھا جائے توجب تمام تر وسائل کا رخ اپنی طرف جو بھی طبقہ یا گروہ کرتا ہے وہ ان پیدواری عاملین کی بربادی کا بیج بو رہا ہوتا ہے جس نے دولت کی پیدائش میں حتمی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہی نکلے گا جو پاکستان میں نکلا ہے یعنی پیدواری عمل آبادی (کرونا سے قبل ہی) میں اضافے سے کافی نیچے گرچکا تھا۔

اسکے بعدبڑا انحصار صرف (ملکی اور سامراجی) قرضوں پر ہی رہ جاتا ہے۔ اب یہ قرضے بڑھتے ہی جارہے ہیں اور اس کی اصل وجہ کو مخالف سیاسی عناصرکی طرف موڑ کر انکو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس پراپیگنڈے کو اتنے موثر انداز میں ہر سوپھیلادیا جاتا ہے کہ نہ صرف آبادی کابڑاحصہ اس کو سچ سمجھنے لگتا ہے بلکہ کسی حد تک سیاسی عمل میں شامل افراد بھی ایسا ہی سوچنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ یہ بالکل سادہ ریاضی کا عمل ہے کہ وسائل (جنکا ایک بڑاحصہ قرضوں پر محیط ہوتا ہے) لینے کی ضرورت آخر کن بڑے خرچوں کی وجہ سے درپیش آتی ہے۔ اب اگر یہ خرچے اسی طرح بڑھتے ہی چلے جائیں گے بلکہ ساتھ ہی دیگرخرچ والی مدآت جن کے نام اور استعمال کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے، میں سے بھی بڑے بڑے حصے اٹھا کر سب سے بڑے ڈھیر میں شامل کرتے جائیں گے، تو دو بڑے نقصانات ہونگے: عام آبادی کا معیارزندگی، صحت اور تعلیم پست ہوتے جائیں گے اور اسکا اثر بہرحال مجموعی پیداواری عمل پر منفی رونما ہوگا۔

دوسرا ایک ہی شعبے کی ضروریات کو ناگزیر بناکرپیش کرنے اور وسائل کا بڑا حصہ وصول کرنے سے جس مہلک قرض کی ضرورت پیش آتی ہے اس سے سامراجی دباؤ بڑھتا ہی چلاجاتا ہے۔

اسکی مختلف اطراف ہوتی ہیں جیسے کہ سامراجی خارجہ پالسیی کیلئے ہمارے ملک کا خطرناک استعمال۔ حالیہ عرصوں میں ہم دیکھ سکتے ہیں (قرض خواہوں اور بھیک دینے والوں کے سامنے) کہیں معمولی قسم کی ہچکچاہٹ کے کتنے مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بے عزتی اور بے توقیری کے ساتھ ہمارے ملک کاکس قسم کا تصور تمام دنیا میں بنا ہے۔ یمن اور او آئی سی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سب سے سنگین معاملہ افغانستان ہے جس نے پچھلے چالیس سال سے سامراجی دست نگری کے نتائج وضع کئے اور بڑے خطوں کو خونی لوتھڑوں میں تبدیل کیا ہے۔

جیسا کہ اب شدت سے کیا جارہا ہے یعنی اگر معاشی عمل سے پیدواری عاملین کولاغرکرتے کرتے یونہی بے دخل کیا جاتا رہے گا تو سامراجی قرضوں کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ بڑھتی چلی جائے گی۔ شرائط سنگین ہوکر بڑھتی ہی چلی جائیں گی، انہی شرائط کے نتیجے میں عاملین پیداوار کا سب سے اہم عنصر محنت کش طبقہ جو کہ سماج کی سب سے بڑی اکائی ہے پر بوجھ اور حملے بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ بے روزگاری اور مہنگائی کی موجودہ خوفناک شرح آنے والے وقتوں میں حقیر ترین محسوس ہوگی تو نتیجہ کیا نکلے گا؟

پاکستان اس لئے اب تک شام اورعراق نہیں بنایا جاسکاکہ تمام تر آلائشوں، فرقہ ورانہ ہتھکنڈوں کے ساتھ پاکستان ایک جدید طرز پیدوار سے منسلک تمدن ہے جو ماضی کی زندگی کی نعرہ بازی کو پورے سماج پر منطبق کرنے کی مادی وجوہات سے بلند و بالا ہے۔

اگر معاشی گراؤٹ، سامراجی قرضے، مہنگائی، بے روزگاری اور اسکے نتیجے میں سماجی اور ذہنی خلجان اور معاشرتی پسماندگی شدت اختیارکرگئی‘ تب پھر ایک نہ ایک دن پاکستان کو شام اور عراق بننا ہی پڑے گا۔ وہ پہلوان جو اپنے پالنے والوں کی خوراک بھی خود کھانے لگ جائے اسکا کیا حشر ہوگا؟ یہ زیادہ وضاحت طلب نکتہ نہیں ہے۔ جہالت اور غلطیوں میں سے جرائم تلاش کرنا ضروری ہیں اور اسکا تدارک کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے ورنہ شام اور عراق کی مثالیں حقیقت میں بھی بدل سکتی ہیں اور اسکی ذمہ داری ان پر نہیں ہوگی جن کو پراپیگنڈ ہ کے ہتھکنڈوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ ساری ذمہ داری پہلوان پر ہی عائد ہوگی۔

دوسروں کے مال پرکھابے گیری کرنے والا اکھاڑے میں موجود پہلوان اپنی طاقت پر نازاں ہے مگر خوراک کی بندش اسکے تمام کس بل نکال سکتی ہے لہٰذا پہلوان کا اعتراف جہالت کافی نہیں اسکا تدارک ضروری ہے۔