تاریخ

سندھ: قوم پرست سیاست اور طبقاتی جدوجہد کا المیہ

نوید علی

بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو موت کے بعد بھی اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہیں۔ عطا محمد بھنبھرو ایسے ہی اشخاص میں گنے جائیں گے۔ وہ جاتے جاتے اپنے نظریات اور خیالات کی ترویج کرتے گئے اور کچھ ایسا احساس ہوا کہ جیسے ٹہرے پانی میں کسی نے کنکر پھینک دیا ہو۔ تھوڑی دیر ہلچل رہی مگر چونکہ ہم تیزی سے بھولنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اس لئے ان کی وصیت اور تدفین کے پس منظر کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک بار پھر ایسے حالات بھی پیدا کئے گئے کہ لوگ خوفزدہ رہیں اور زیادہ بات نہ ہو سکے، عرفانہ ملاح اور ساجد سومرو گواہ رہیں گے کہ کیسے بھنبھرو صاحب کے اصل مقصد پر سے توجہ ہٹا دی گئی اور سول سوسائٹی بھی کچھ نہ کر سکی۔ ڈاکٹر مبارک علی کے الفاظ میں سندھ خاموشی کی آواز ہی بن کر رہ گیا ہے۔ اس مضمون کا مقصد یہ دعوت ہے کہ خاموشی کی آواز کو دبنے نہ دیا جائے اور سندھ میں قوم پرستی اور ترقی پسند سیاست پر بات ہوتی رہے، سوال اٹھائے جائیں اور جمود کو توڑا جائے۔

ایک وقت تک سندھ میں عوامی سیاست بہت پر شور اور سحر انگیز تھی، خاص طور پر قوم پرست، ترقی پسند اور جمہوریت پرست تحریکیں جنہوں نے خصوصاً ایک زمانے تک سندھی نوجوانوں کو خوب متاثر کیا۔ یہاں میروسلاو ھروخ کا حوالہ دینا ضروری ہے کہ اس نے قوم کی تشکیل کے حوالے سے ایک بنیادی تھیوری پیش کی تھی۔ اس کے مطابق قوم کی تشکیل میں تین اہم مراحل آتے ہیں، پہلے مرحلے میں فلسفی یا دانشور ایک قومی شناخت کی تشکیل کرتے ہیں، دوسرے مرحلے میں مختلف (سیاسی) گروہ نمودار ہوتے ہیں جو عوام کو ساتھ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قومی شناخت اور وطنیت کی تشکیل ہو سکے، تیسرے مرحلے میں ایک قومی تحریک تشکیل پاتی ہے۔ ھروخ نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ کس طرح جاگیرداری سماج سے صنعتی معاشرے کی طرف تبدیلی ان سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی عوامل کی تشکیل کرتی ہے کہ جن میں قوم کے خیال کی تشکیل ہو سکے خاص طور پر برابری کا تصور اور شہری حقوق کہ جن کا تصور جاگیرداری میں محال ہے۔

ھروخ کی توجہ یورپ پر مرکوز رہی۔ فرحان صدیقی صاحب نے ھروخ کی تھیوری کے حوالے سے بلوچستان اور سندھ میں قوم پرست سیاست کا اچھا جائزہ لیا ہے جو ہر طالب علم کو پڑھنا چاہئے۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران ہندوستانی قوم پرستی کی تشکیل کو ھروخ کے خیالات کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

کانگریس کی تشکیل بنیادی طور پر ہندوستانی قوم پرستی کی ترویج کا دوسرا مرحلہ تھا جو بتدریج تیسرے مرحلے میں تحریک آزادی کی شکل اختیار کر گیا، اس دوران مسلم قوم پرستی کی بھی تشکیل ہوئی جس کا انجام ہندوستان کی تقسیم پر منتج ہوا۔

سندھ میں سیاسی تحریکوں کا آغاز برطانوی راج میں ہوتا ہے۔ سندھ کی سیاست دوسرے صوبوں اور علاقوں سے یوں مختلف رہی کہ یہاں طبقاتی اختلافات فرقہ وارانہ اختلافات کی شکل اختیار کر گئے۔ سندھ کا بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدگی کا مطالبہ بڑی حد تک سندھی مسلمانوں کا مطالبہ بن گیا، کانگریس کی طرف سے علیحدگی کی مخالفت بھی کی گئی۔ سندھ میں رہنے والے ہندو بڑی تعداد میں تاجر طبقات سے تھے، سندھ کے تاجر تاریخی طور پر بڑے مستحکم اور فعال رہے ہیں، شکارپور کے تاجروں کی ہنڈیاں روس تک میں قبول کی جاتی تھیں۔ آج بھی سندھی تاجر ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سندھی مسلمان بنیادی طور پر زمیندار، کسان یا ہاری تھے۔ مسلمان زمیندار اور عوام کا ہندو عاملوں کا مقروض ہونا عام بات تھی۔ ہندو شہروں میں زیادہ فعال تھے اور سندھ میں تجارت اور صنعت کاری میں بھی ہراول کا کردار ادا کرتے تھے، ہندو زیادہ تعلیم یافتہ بھی تھے۔

سندھ میں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان سیاست طبقاتی فرقہ وارانہ سیاست بن گئی۔ سندھی زمینداروں میں ایسے رہنما ابھرے جو عام سندھی کے حقوق کی بات کرتے تھے۔ سائیں جی ایم سید ایسے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ جی ایم سید سندھ کی ہاری تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں تھے، ان کے علاوہ حیدر بخش جتوئی، عبدل مجید سندھی اور عبدالقادر وغیرہ بھی شامل تھے۔ جی ایم سید اور عبدل مجید سندھی، مسلم لیگ کے بھی سرکردہ رہنما رہے اور تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی تشکیل کے ساتھ ہی ہونے والی دو طرفہ ہجرت نے سندھی ہندوؤں کے فعال طبقاتی کردار کو ختم کر دیا کیونکہ زیادہ ترہندو ہندوستان چلے گئے۔

تقسیم کے بعد سندھ کا سیاسی منظر نامہ بڑی تیزی سے بدل گیا، شہروں میں خاص کر شمالی ہندوستان سے آئے مسلمان آباد ہوئے اور سندھ شہری اور دیہاتی سندھ میں تقسیم ہو گیا جہاں بڑے شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص اور لاڑکانہ میں بڑی تعداد میں اردو بولنے والے مہاجر آباد تھے اور دیہات اور چھوٹے شہروں میں سندھی۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں ہی حکمراں کانگریس اور مسلم لیگ نے ایک مضبوط مرکز کی پالیسی اپنا لی جس کے نتیجے میں دونوں طرف ہی چھوٹے صوبوں میں مرکز بیزاری اور احتجاج کی تحریکیں پیدا ہوئیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد سندھ کی سیاست میں یہ دونوں عوامل یعنی مہاجر آبادی اور قوم پرست مرکزی سیاست بہت اہم اور متنازعہ ہیں۔ ہمیں ان دونوں ہی موضوعات پر زیادہ سے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔

تقسیم کے بعد سندھ کی قوم پرست سیاست ایک نئے رخ پر آگے بڑھی، ایک طرح سے یوں ہوا کہ ہندوؤں کی جگہ پنجابی اور مہاجر آبادکاروں نے لے لی، حالانکہ قوم پرست سیاست کا مقصد طبقاتی فرق کا خاتمہ اور حقوق کی برابری تھا مگر یہ فرقہ وارانہ تضادات میں گھر کر طبقاتی جدوجہد سے دور ہو گئی۔ اس نکتے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر شواہد ہیں کہ سندھی قوم پرست سیاست، سندھ کے عوام کی طبقاتی بنیادوں پر حقوق کی جدوجہد کا ساتھ نہیں دے سکی اور مہاجر یا پنجابی نچلے اور متوسط اور محنت کش طبقے سے دور رہی۔

اس تناظر میں دو رہنما اور ان کے خیالات بہت اہم ہیں، جناب جی ایم سید اور جناب رسول بخش پلیجو جیسا کہ فرحان صدیقی ذکر کرتے ہیں۔ دونوں ہی حضرات کٹر قوم پرست تھے، ان کی عمروں میں تقریباً پچیس سال کا فرق ہے، جیسا کہ بتایا گیا جی ایم سید سندھی ہاری تحریک میں شریک رہے، مسلم لیگ کا حصّہ بنے، پھر مسلم لیگ سے اختلاف ہوا تو اس کے خلاف سندھ اسمبلی میں اتحاد بنایا۔ پاکستان کے قیام کے بعد ون یونٹ کے قیام کے خلاف متحرک رہے اور پھر سندھ متحدہ محاذ کی تشکیل کی، دیگر عوام دوست سیاسی تحریکوں کا ساتھ دیتے رہے تاآنکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مرکز سے مکمل مایوس ہو کر ایک علیحدہ سندھو دیش کا مطالبہ کیا اور سندھی قومی تحریک کا آغاز کیا۔ جسے جئے سندھ کہا جاتا ہے۔ پلیجو شروع میں جی ایم سید کے ساتھ رہے اور ون یونٹ کے خلاف تحریک میں حصہ لیا، پھر انہوں نے اپنی جماعت سندھ عوامی تحریک کی بنیاد رکھی جو آگے جا کے عوامی تحریک بنی۔ اگر پلیجو اور جی ایم سید کے نظریات و خیالات اور فیصلوں کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پلیجو ایک کٹر ماؤسٹ اور طبقاتی جدوجہد پر یقین رکھنے والے سیاست دان تھے، جی ایم سید سوشلزم کے حامی تو تھے مگر سندھو دیش کے لئے طبقاتی تضادات کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جی ایم سید اور بھٹو میں اختلافات نے بھی ان کی سن ستر کے بعد کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا، وہ بھٹو کی موت کے بعد ضیا آمریت کے دوران بحالی جمہوریت کی تحریک سے دور رہے جبکہ پلیجو نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ طبقاتی تضادات اور سوشلزم کے نفاذ کے حوالے سے پلیجو سندھ دیش کی تحریک کے ناقد رہے اور تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔ مگر دونوں حضرات سندھ میں پنجابی آباد کاروں اور مہاجروں کے حوالے سے ایک مربوط اور ہمدردانہ رائے نہیں رکھتے، جی ایم سید تو ایک کتاب میں مہاجروں کے لئے سمندر کا انتخاب کرتے ہیں، دونوں کا مطالبہ یہ ہے کہ تمام غیر سندھی مکمل طور پر سندھ میں ضم ہو جائیں۔ یہ مطالبہ ہندوستان میں مہاجر سندھیوں سے نہیں کیا گیا کہ وہ گجرات یا مہاراشٹر کی تہذیب، زبان اور کلچر اپنا کر اپنی شناخت گم کر دیں مگر سندھی قوم پرست آج بھی ایسا کہتے ملتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سندھ میں آباد مہاجر یا پنجابی غلطیوں سے مبرا رہے، نہیں، بلکہ سندھیوں سے نفرت یا کم از کم مکمل بیگانگی کا شکار رہے اور اس طرح ایک بڑی سیاسی اور سماجی غلطی کے مرتکب بنے۔

سیاسی سطح پر شہری اور دیہی سندھ کی تقسیم دونوں طرف سے ہوئی جس سے عوام اور طبقاتی سیاست کو بے پناہ نقصان پہنچا۔ شہری سندھ کی طرف سے ایسی تحریکیں بھی چلیں جو سندھی عوام کی توقعات اور مفادات سے ٹکراتی تھیں، جیسے کہ کوٹہ سسٹم یا سندھی کے سرکاری زبان ہونے کے خلاف مہم۔ مگر ہم یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ اسی شہری سندھ میں عوامی سیاست، جماعتیں اور تحریکیں بھی جنم لیتی رہیں ہیں۔ ایوب آمریت سے لے کر ضیا تک کے خلاف سندھ کے شہر تحاریک کے مرکز رہے، فاطمہ جناح کو یہاں سے حمایت ملی۔ انہی شہروں نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کو جنم دیا، عوامی نیشنل پارٹی یہاں مقبول رہی۔ ان شہروں نے ہر آمر کے خلاف سینہ سپر کیا۔ یہاں سے پیپلز پارٹی کو کارکن ملے۔ سندھی قوم پرستوں سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ سندھ کے عوام کو طبقاتی بنیادوں پر منظم نہیں کر سکے۔

حالات میں بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب اے پی ایم ایس او (آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن) کا قیام عمل میں آیا جو آگے چل کر مہاجر قومی موومنٹ بنی۔ یہ جماعت لسانی بنیادوں پر سندھ کی تفریق پر بضد اور مہاجروں کے لئے آئینی ترامیم، حقوق اور مراعات کا مطالبہ کرتی تھی۔ ایک بار پھر سندھ کی تقسیم کی کوشش کی گئی اور طبقاتی حقیقتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ سندھی، مہاجر ہاری اور مزدور بدستور اپنے حقوق سے محروم رہے، متوسط طبقہ پستا رہا اور سندھ ترقی کو ترستا رہا۔ سندھی اور مہاجر سب کچھ چھوڑ کر ایک دوسرے کے پیچھے لگ رہے۔ سندھ کو اسلحے، بارود، منشیات اور تشدد کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی اور نوے کی دہائیاں سندھ کا بد ترین وقت تھا، تعلیمی ادارے مسلح جتھوں کا ڈیرہ تھے، سندھی اداروں میں مہاجر اور مہاجر اداروں میں سندھی طالب علموں کا داخلہ قریباً ممنوع تھا۔ جنرل ضیا نے اس صورت حال سے نہ صرف فائدہ اٹھایا بلکہ اس کو مکمل ترویج بھی دی۔ افسوس یہ ہے کہ سندھی قوم پرست اس سازش کے آگے بند نہ باندھ سکے اور شکار ہو گئے۔ اس صورت حال کا فائدہ سندھی وڈیروں اور جاگیر داروں کو بھی ہوا کہ جو عوامی توانائی ان کے خلاف استعمال ہوتی وہ نفرت اور فرقہ پرستی کی نذر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی نے بھی صورت حال کے آگے سپر ڈال دی اور دیہی اور شہری سندھ کی تقسیم کی توثیق کر دی، شہری سندھ ایم کیو ایم اور باقی سندھ پیپلز پارٹی کی انتخابی عملداری بن کر رہ گئے۔ اس پر تحقیق کی ضرورت ہے کہ شہری سندھ میں پیپلز پارٹی کا کیا کردار و عمل رہا۔ بہر حال انیس سو اسی کی دہائی میں سندھی قوم پرستی کی تحریک ھروخ کے خیال کے بر عکس تیسرے مرحلے میں آنے کے بجائے رجعت پسندی کا شکار ہو کر، طبقاتی جدوجہد سے دور ہوتی چلی گئی اور اپنا آپ کھو بیٹھی۔ جئے سندھ کی تحریک ٹکڑے ٹکڑے ہو بیٹھی، پلیجو کا یہ حال ہوا کہ ان کے اپنے صاحبزادے سے اختلافات ہوئے اور عوامی تحریک کے بھی دو ٹکڑے ہوگئے۔ ان تمام حالات، تبدیلیوں اور واقعات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

Naveed Ali

نوید علی ٹیکنالوجی اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ تاریخ اور فلسفے سے دلچسپی رکھتے ہیں، دو ماسٹر ڈگریاں مکمل کر چکے ہیں۔