خبریں/تبصرے

بولیویا: امریکی سامراج کو دھچکا، سوشلسٹ امیدوار لوئس آرکے صدارتی انتخاب جیت گئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ’تحریک برائے سوشلزم‘کے امیدوار لوئس آرکے (Luis Arce) پچاس فیصد سے زائد ووٹ لے کر پہلے ہی مرحلے میں صدر منتخب ہو گئے۔

ان کے مقابلے پر فوج اور امریکی سامراج کی کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے کھڑے کئے گئے امیدوار بری طرح ناکام رہے۔

یاد رہے گذشتہ سال ایک فوجی بغاوت، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی، میں منتخب سوشلسٹ صدر ایوو مورالس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ صدر مورالس پندرہ سال سے مسلسل منتخب ہوتے چلے آ رہے تھے۔ فوج کی مدد سے ایک نام نہاد حکومت مسلط کی گئی جس نے ایک سال بعد انتخابات کرائے مگر ان انتخابات میں پھر سے ’تحریک برائے سوشلزم‘ کے امیدوار لوئس آرکے 52.4 فیصد ووٹ لے کر پہلے ہی مرحلے میں جیت گئے۔

لوئس آرکے صدر مورالس کے وزیر خزانہ تھے۔ بولیویا کے آئین کے مطابق اگر پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکے توسب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدوار دوسرے مرحلے میں دوبارہ مد مقابل ہوتے ہیں۔

لوئس آرکے کے قریب ترین حریف کارلوس میسا کو 31 فیصد ووٹ ملے جبکہ دیگر تین امدواروں کو بالترتیب 14 فیصد، 1.6 فیصد اور 0.4 فیصد ووٹ ملے۔

سابق صدر ایوو مورالس جلا وطنی میں چلے گئے تھے۔ ان دنوں وہ ارجنٹینا میں ہیں۔ گذشتہ دو دہائی سے کیوبا کے علاوہ وینزویلا اور ایوو مورالس کی صدارت کے دوران بولیویا لاطینی امریکہ میں متحد ہو کر امریکہ کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔

امریکہ نے کیوبا اور وینزویلا پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ صدر مورالس کا ایک سازش کے تحت تختہ الٹ دیا گیا۔ ان کی جماعت کی دوبارہ کامیابی سے خطے کی سیاست ایک مرتبہ پھر ترقی پسند رخ اختیار کر سکتی ہے۔