نقطہ نظر

لیبر پارٹی سے کوربن کی معطلی اسرائیل کے ناقدین کو خاموش رہنے کا پیغام ہے

طارق علی

جیوئش بورڈ آف ڈپٹیز نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ جب تک جیرمی کوربن کو لیبر پارٹی سے نکلوا نہیں دیتے، سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے قریب ہیں۔

لیبر پارٹی سے ’ناپسندیدہ‘ عناصر کو نکالا جا رہا ہے۔ لیبر پارٹی میں موجود جو لوگ فلسطینیوں کا ساتھ دیتے ہیں، اسرائیل کے جنگی جرائم کی مذمت کرتے ہیں اور روزانہ کی بنیادوں پر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ یا تو پارٹی سے نکال دئیے جائیں گے یا وہ خاموش ہو جائیں۔

جیرمی کوربن کو دایاں بازو وہ خوفناک صورتحال پیدا کرنے کی سزا دے رہا ہے جس کے نتیجے میں، جیرمی کوربن کی قیادت میں، لیبر پارٹی الیکشن جیتنے لگی تھی۔

آپ شائد یہ سمجھے ہوں کہ جیرمی کوربن اب قیادت میں نہیں، دایاں بازو اس سے مطمئن ہو جائے گا۔ ایسا نہیں۔ دایاں بازو جیرمی کوربن کو بدنام کرنا چاہتا ہے، ان کی کردار کشی کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل پر کسی بھی قسم کی سنجیدہ تنقید پر پابندی لگانا چاہتا ہے۔ برطانوی پریس، بعض اسرائیلی اخباروں کے برعکس، فلسطین کی خبر کم ہی دیتا ہے۔

بات صرف جیرمی کوربن کی نہیں، اس وقت ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ کیا برطانوی لیبر پارٹی اس قابل ہے کہ کوئی بڑی ترقی پسندانہ اصلاحات متعارف کرا سکے؟

سکاٹ لینڈ میں تو اس کا کوئی امکان نہیں۔ وہاں لیبر پارٹی کا کوئی وجود ہی نہیں رہا۔ ویلز میں بھی اس کا امکان کم ہے اور انگلینڈ میں تو لیبر پارٹی کے رہنما کیر سٹارمر نے پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد سے لیبر پارٹی کو ریورس گیئر میں ڈال دیا ہے۔

لیبر پارٹی میں موجود بایاں بازو دائیں بازو کی نسبت زیادہ وفادار ثابت ہوا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اب کھیل ختم ہو چکا۔ جو بظاہر تیس لیفٹ ونگ ارکان پارلیمنٹ ہیں، انہوں نے بھی ٹارچر بل کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ جیرمی کوربن کے دو قریبی ساتھیوں نے ’پیپلز ریفرنڈم‘ کے نام پر ہونے والے فریب میں حصہ لیا۔ گویا پانچ سالہ لیفٹ ونگ قیادت کے باوجود پارٹی (صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں) تیزی سے سنٹر اسٹ پارٹی بن گئی ہے۔

جیرمی کوربن کی معطلی اسی بات کی غمازی کر رہی ہے۔

برطانوی حالات کا تقاضا ہے کہ سوشلسٹ پارٹی آف انگلینڈ بنانے بارے سوچا جائے۔ سوچنے کا مطلب یہ نہیں کہ کل اس کا اعلان کر دیا جائے۔ ہاں مگر یہ سمجھنا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا محض ایک مذاق ہی ہو سکتا ہے۔ نئی جماعت بنانے کے لئے ترقی پسند ٹریڈ یونینز کو بھی بات چیت میں شامل کرنا ہو گا۔ اس کے لئے بہت زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے…

Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔