خبریں/تبصرے

جی بی الیکشن: ترقی پسند رہنما نواز ناجی کامیاب، بائیں بازو کو فورتھ شیڈول کے نام پر انتخاب سے روکا گیا

راولا کوٹ (نامہ نگار) گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ترقی پسند قوم پرست رہنما اور بلاورستان نیشنل فرنٹ کے سربراہ نواز خان ناجی مسلسل تیسری مرتبہ انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ نواز خان ناجی حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 سے انتخاب میں حصہ لے رہے تھے اور 6208 ووٹ حاصل کر کے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ انکے مد مقابل پاکستان پیپلزپارٹی کے سید جلال شاہ نے 4967 ووٹ حاصل کئے۔ اس حلقہ سے حکمران جماعت پی ٹی آئی کے امیدوار ظفر محمد تین ہزار ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

نواز خان ناجی قوم پرست جماعت بلاورستان نیشنل فرنٹ کے اپنے نام سے قائم دھڑے کے چیئرمین ہیں۔ گلگت بلتستان کو صوبائی طرز حکومت دیئے جانے کے بعد مجموعی طور پر تین الیکشن ہوئے ہیں اور نواز خان ناجی نے تینوں مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔ رواں الیکشن میں نواز خان ناجی کو شکست دینے کیلئے وفاق سے آپریٹ کرنیوالی تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادتوں نے بھرپور کوشش کی۔ سابق گورنر گلگت بلتستان کے بیٹے کو الیکشن میں سامنے لانے کے باوجود نواز خان ناجی کو زیر نہیں کیا جا سکا۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پابندیوں اور فورتھ شیڈول کی زد میں آنے کی وجہ سے قوم پرست اور ترقی پسند رہنماؤں کی کارکردگی کوئی خاطر خواہ نہیں رہی ہے۔ عوامی حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کی پاداش میں چالیس سال سے زائد کی سزا کاٹنے والے عوامی ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے رہنما بابا جان کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں مل سکی تھی۔

عوامی ورکرز پارٹی نے بابا جان کے آبائی حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ سے آصف سعید سخی کو امیدوار نامزد کیا تھا۔ انہوں نے 2612 ووٹ حاصل کئے اور انکی مجموعی پوزیشن پانچویں رہی۔ قبل ازیں بابا جان نے جیل سے ہوتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور چار ہزار سے زائد ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ واضح رہے کہ بابا جان کے آبائی حلقہ سے ہی معروف ترقی پسند رہنما و قانون دان احسان علی ایڈووکیٹ نے بھی انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ محض 215 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں شیڈول فور میں شامل سیاسی رہنماؤں کو بطور امیدوار حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے متعدد قوم پرست و ترقی پسند کارکنان اور نوجوان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔ شیڈول فور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت متعارف کروایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد مسلح دہشت گردی کرنے والے بنیاد پرست گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کیلئے اقدامات کرنا تھا۔ گلگت بلتستان میں شیڈول فور اور انسداد دہشت گردی کے دیگر قوانین کو آزادی پسند اور ترقی پسند کارکنان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ عوامی حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرنیوالے بائیں بازو کے رہنماؤں بابا جان، افتخار کربلائی اور دیگر ساتھیوں کو چالیس سے ستر سال تک کی سزائیں انہی قوانین کے تحت دی گئی ہیں۔

گزشتہ ماہ ہنزہ میں بابا جان اور دیگر کی رہائی کیلئے احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا۔ دھرنے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی تھی۔ تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے الیکشن میں حصہ نہ لینے اور احتجاج کا حصہ بننے کا اعلان کر لیا تھا۔ تاہم حکومتی ذمہ داران سے کامیاب مذاکرات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے بابا جان کے آبائی حلقہ سے انتخابات میں حصہ لیا۔ بابا جان کے نمائندہ کے ہی خلاف بائیں بازو کے رہنما احسان علی ایڈووکیٹ نے بھی الیکشن میں پنجہ آزمائی کی کوشش کی، لیکن کامیابی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کے حصے میں آئی۔