دنیا

امریکی جمہوریت پر ٹرمپ کا شب خون اور سرمایہ دارانہ نظام کا کھوکھلا پن!

قیصر عباس

اس سال 6 جنوری کا دن امریکی سیاست میں کئی لحاظ سے اہم تھا۔ اس دن کانگریس نے الیکٹورل کالج کے نتائج کی منظوری دے کر جو بائیڈن اور ان کی پارٹی کی جیت کو قانونی شکل دی لیکن ایک خوں ریز بحران سے گرزنے کے بعد۔

کانگریس کے ارکان جب انتخابی نتائج کی منظوری دے رہے تھے، صدر ٹرمپ عین اس وقت وائٹ ہاؤس کے باہر اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے کے لئے اکسا رہے تھے۔ نتیجے کے طورپر اسی عمارت میں جہاں کانگریس کا اجلاس ہو رہا تھا ٹرمپ کے حامیوں کے پر تشدد حملے اور ہنگامہ آرائی میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ حملے کے دوران عوامی نمائندوں کو محفوظ مقام تک پہنچا کر ان کی جان بچائی گئی۔ سکیورٹی کے اہلکار اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد بلوایؤں کو رات گئے عمارت سے نکالا جا سکا۔ کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور علی الصبح تمام ریاستوں کے انتخابی نتائج کی منظوری کے بعد جو بائیڈن کو نیا صدر قرار دیا گیا۔

اسی دن جارجیا میں سینٹ کے ضمنی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دونوں امیدواروں کی کامیابی کا اعلان بھی کیا گیا۔ ان انتخابات کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کو سینٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل ہو گئی ہے جونئے صدر کے فیصلوں کی منظوری کے لئے ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

امریکہ کی سیاسی تاریخ میں اس دن کو جمہوری روایات کی پاسداری کے لئے نہیں، کیپٹل ہل پر شب خون اور جمہوریت کے لئے ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور ریاست میں جسے اب تک جمہوریت کا ناقابل تسخیرقلعہ سمجھا جاتا رہاہے یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے امریکی ریاست کے موجودہ سیاسی اورا قتصادی ڈھانچے کا تجزیہ ضروری ہے۔

امریکی سول وار کے اختتام پر 1865ء سے اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغازا ہوا جس نے جلد ہی برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ بین الاقوامی سطح پر ایک ناقابل شکست فوجی اور اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اس ترقی میں بلا شک و شبہ سرمایہ داری نظام کا ہاتھ تھا لیکن یہ سب ایک مخصوص طبقے کی طاقت کو مزید طاقتور بناتے ہوئے عمل میں آیاتھا۔

اس نظام کے زیر اثر مزدوریونینز کو حتی الامکان کمزور سے کمزور تر بنایا گیا تا کہ وہ سرمایہ داروں کے ہتھ کنڈوں کو چیلنج کرنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ ادھر بڑی کارپوریشنز نے ایک طرف تو سرمایہ دار وں کو امیر سے امیر تر بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور دوسری جانب مزدوروں اور غریب طبقات کا استحصال بھی جاری رہا۔

رفتہ رفتہ اس نظام نے جمہوری اداروں میں بھی جڑیں پھیلائیں اور آج عوامی نمائندے، جن کا کام کارپوریشنز کو لگام دینا تھا، پوری طرح اس کے دام میں گرفتارہیں۔ الیکشن میں کارپوریشنز کی کھلی مداخلت کے علاوہ سیاسی مقاصد کے لئے پارٹیوں اور لیڈروں کی مالی امداد اور مختلف طریقوں سے رشوتوں کے جال نے آج قانون سازی کے اداروں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

امریکی دانشور ایرک لیوٹز کے مطابق آج صورت حال یہ ہے کہ ”سپریم کورٹ بھی کارپوریشنز کے اختیارات کو توسیع دے رہا ہے اوریونینز کے اختیارات کم کئے جا رہے ہیں۔ عدالتی نظام بینکوں کی منشیات کی لانڈرنگ پر تو خاموش رہتا ہے مگر نچلی سطح پر منشیات کی فروخت پر لوگوں کو عمر قید کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ ملک کا سنٹر ل بینک فنانس کمپنیوں کو چھوٹ دے رہاہے لیکن گھروں کے مالکین کی مدد نہیں کرتا جنہیں یہ ادارے قرضہ دے کر ان کااستحصال کرتے ہیں۔ دفاعی اداروں کے بجٹ میں کمی نہیں کی جاتی جو ملٹی ملین ڈالر کی جنگوں کے ذریعے عالمی مسائل کو حل نہیں کرتے بلکہ اکثر ان میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔“

اس غیر منصفانہ نظام کے تحت ملک میں سرمایے کی تقسیم کا نظام سماج میں عام آدمی کی مالی مشکلات میں بے حد اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ احتجاجی جلسوں کا یہ نعرہ کہ امریکہ کی ایک فیصد آبادی ملک کی زیادہ تر دولت کی مالک ہے ایک کھلی حقیقت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں غریب اور امیر کے درمیان سرمایے کی تقسیم برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

عام طور پر اقتصادی بحرانوں کا اثر اقلیتوں پر زیادہ ہوتا ہے لیکن امریکہ میں مینوفیکچرنگ شعبوں کی تبا ہی سے اکثریتی طبقے بھی متاثر ہوئے ہیں جو فیکٹریاں بند ہونے کے بعد بڑی تعداد میں بے روزگاری کا شکار نظر آتے ہیں۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2020ء میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہو چکی تھی۔

اس سرمایہ دارانہ نظام میں تاریخی طور پر جب کبھی اقتصادی بحران ہوتا ہے تو اس کا نزلہ ہمیشہ کمزور اقلیتوں اور تارکین پر گرتا ہے۔ یہ رجحان آج نہ صرف امریکہ بلکہ یورپی ممالک میں بھی صاف نظر آ رہا ہے جہاں مذہبی اور نسلی انتہا پسندی کا نشانہ اقلیتیں اور تارکین بن رہے ہیں۔ ان حالات میں وہ قوتیں جو اقتصادی بحران کا شکار ہوئی ہیں اپنی مالی بد حالی کا ذمہ دار اقلیتوں اور ان شہریوں کو قرار دیتی ہیں جو ان کے بقول دوسرے ملکوں سے آ کر ان کی ملازمتوں پر’قبضہ‘ جمائے ہوئے ہیں۔

ان اقتصادی مسائل کے علاوہ ملک میں بڑھتی ہو ئے سماجی تصادم کا تعلق آبادی میں بدلتے ہوئے رجحانات سے بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک میں نسلی اقلیتوں کی تعداد سفید فام اکثریت کے مقابلے میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے رائے شماری بیورو (U.S. Census Burau) نے پیش گوئی کی ہے کہ 2050ء تک امریکہ کی سفید فام آبادی اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔

اس صورت حال میں آج کی اکثریت خود کو اقلیت میں تبدیل ہوتے دیکھ رہی ہے جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مستقبل میں اقتصادی ذرائع پر ان کی گرفت او رسیاسی طاقت میں خواطرخواہ کمی ہو سکتی ہے۔ یہ طبقے معاشرے میں اپنا کھویا ہوا وقار اور گھٹتی ہوئی طاقت کا ذمہ دار اقلیتوں کو ٹھہراتے ہیں۔ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر براک وبامہ کے بعد سے اب تک سیاہ فام اقلیت کے خلاف پولیس کا تشدد اور تارکین وطن کے خلاف بیانیے اسی پس منظر کی پیداوار ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں دو عناصر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، خارجہ پالیسی اور اندرونی مسائل۔ خارجہ پالیسی تو صرف اس صورت میں کارفرما ہوتی ہے جب یا تو امریکہ کسی اہم بین الاقوامی واقعے کا حصہ ہو یا پھر امریکی صدر اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی غرض سے کسی ملک کو قربانی کا بکرا بنا کر فوجی کاروائی کرے۔

ایرانی انقلاب کے بعد صدر کارٹر اپنا دوسرا صدارتی انتخا ب اس لئے ہار گئے تھے کہ وہ امریکی سفات کاروں کو ایرانی انقلابیوں کی حراست سے رہا نہیں کرا سکے تھے۔ کہاجاتا ہے کہ جو نیئر بش کا عراق پر قبضہ اور براک وبامہ کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد اسامہ بن لادن کی ہلاکت بھی انتخابی سیاست کا حصہ تھی۔

اندرونی معاملات میں اقتصادی ترقی، بے روزگاری، سماجی ٹکراؤ، صحت عامہ، اقلیتوں کے مسائل، تعلیم اور خواتین کے مسائل اہم ہوتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اندرونی اقتصادی مسائل اکثر و بیشتر امریکی انتخابات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اقتصادی بد حالی کے دور میں انتہا پسند اور نسلی تعصب کی تحریکیں ہمیشہ ان لیڈروں کی تلاش میں رہتی ہیں جو ان کے جذبات کی نمائندگی کریں۔ امریکہ میں یہ لیڈر انہیں صدر ڈونلڈٹرمپ کی صورت میں ملا جسے انہوں نے 2016ء کے انتخابات میں ووٹ دے کر کامیاب بنایا۔ صدر ٹرمپ نے بر سر اقتدار آتے ہی سخت امیگریشن قوانین بنائے، میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر شروع کی اور تارکین وطن کو جرائم پیشہ افراد کہہ کر ان پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ تمام اقدامات ان ہی تحریکوں کے نظریات کی نمائندگی کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے ہر سطح پر ان قوتوں کے سازشی نظریات کی نمائندگی تو کی لیکن وہ سیاسی طور پر نااہل بھی ثابت ہوئے اور اپنے چار سالہ دور میں غیر مستحکم انتظامیہ کی صدارت کے علاوہ کچھ حاصل نہ کر سکے۔ اسی دوران جب گزشتہ سال کرونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لیا تو صدر ٹرمپ کی ناقص کارکردگی نے ان کی غیر فعالیت کو اور بھی واضح کر دیا۔

کیپٹل ہل پر چھ جنوری کے خوں ریز حملے نے امریکہ میں جمہوری روایات اور سرمایہ دارانہ نظام کی قلعی کھول دی ہے اور لوگ یہ پرانا سوال پھر اٹھا رہے ہیں کہ کیا امریکہ کی جمہوری روایات اس کے سرمایہ دارانہ نظام سے مطابقت رکھتی ہیں؟ جس نظام نے ملکی اداروں پر مکمل طور پر اپنا تسلط جما لیا ہے، ملک کو معاشی بد حالی تک پہنچا دیا ہے، قومی دولت کو ایک خاص طبقے تک محدود کر دیا ہے، غربت میں اضافہ کیاہے اور سماجی رشتوں میں منافرت کے جال بن دئے ہیں، اس سے نجات کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے؟

بد قسمتی سے 6 جنوری کے شب خون کے بعد دونوں پارٹیوں کے بیشتر سیاسی لیڈر اور لبرل دانشور جمہوری روایات اور نظام کومستحکم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو اصل مسائل سے روگردانی کے مترادف ہے۔ آج امریکہ کا اصل مسئلہ جمہور ی روایات کا استحکام نہیں، لوگوں کو اقتصادی مساوات اور سماجی انصاف کی فراہمی اور جمہوریت میں عام آدمی کی شرکت ہے۔

امریکہ کے دو پارٹیوں کے سیاسی نظام میں اگرچہ رپبلکن پارٹی رجعت پسند اور ڈیموکریٹک پارٹی لبرل نظریات کی حامل ہے لیکن کچھ مسئلوں پر اختلافات کے علاہ دونوں جماعتوں کی اقتصادی پالیسیوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس سال ٹرمپ کی رجعت پسند پالیسیوں کے رد عمل کے طورپر اور پارٹی میں ایک فعال ترقی پسند دھڑے کی موجودگی کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا جھکاؤ بائیں جانب کچھ حد تک بڑھ سکتاہے۔

جو بائیڈن 20 جنوری کو ملک کی صدارت سنبھالیں گے جنہیں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت بھی حاصل ہو گی۔ ملک کے 81 ملین سے زیادہ ووٹروں نے انہیں منتخب کر کے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دور رس اقدامات کے ذریعے اقتصادی مساوات، سماجی ہم آہنگی اور دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دیں۔ اس کے لئے انہیں پارٹی کے ترقی پسنددھڑے کی رائے کو اہمیت دینی ہو گی۔

یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ امریکہ میں ابھی صدر ٹرمپ کا سیاسی عہدہ ختم ہوا ہے، ان کی سیاسی قوت نہیں۔ ملک کے غیر منصفانہ اقتصادی اور سماجی نظام کی موجودگی میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی یا کسی اور ٹرمپ کی آمد کے امکانات ختم نہیں کئے جا سکتے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔