خبریں/تبصرے

رحیم یار خان: ڈاکٹر لال خان، حیدر عباس گردیزی، نتھو مل و دیگر کا تعزیتی ریفرس

رحیم یار خان (نامہ نگار) رحیم یار خان میں معروف مارکسسٹ دانشور اور انقلابی رہنما ڈاکٹر لال خان (یثرب تنویر گوندل)، بائیں بازو کے رہنما و دانشور حیدر عباس گردیزی، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئین کے رہنما کامریڈ نتھو مل اور پی ٹی یو ڈی سی رہنما کامریڈ وارثی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس تعزیتی ریفرنس میں ملک بھر سے انقلابی رہنماؤں کے علاوہ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے ڈاکٹر لال خان اور دیگر کامریڈوں کی خدمات کر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے مشن کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تعزیتی ریفرنس کا آغاز کامریڈ لتا نے انقلابی ترانے سے کیا۔ ڈاکٹر لال خان، حیدر عباس گردیزی، نتھو مل اور کامریڈ وارثی کے قریبی ساتھی اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئین (پی ٹی یو ڈی سی) کے سیکرٹری جنرل قمرالزماں خان نے ابتدائی خطاب میں مرحوم قائدین کی خدمات، نظریات اور جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ریفرنس سے پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر حمید خان، مختار الحسن گل شاہ، ڈاکٹر ونود ملک، رؤف لنڈ بلوچ، انور پنہور، خلیل بخاری، محمود الحسن، ایم ڈی گاگا، مسعود افضل، عبدالحمید کاجو، ڈاکٹر ابوالحسن شاہ گیلانی، پیر جی اشرف اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر لال خان نے نہ صرف پاکستان جیسے پسماندہ خطوں کے انقلاب کے کردار کی وضاحت کی بلکہ لیون ٹراٹسکی کے نظریات کے دفاع سمیت سوویت یونین کے ٹوٹنے اور دیوار برلن کے گرنے کے بعدسائنسی سوشلزم کے نظریات کا دفاع کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف عملی جدوجہد کرتے ہوئے مختلف قومیتوں، نسلوں، مذاہب اور زبانوں پرمشتمل پاکستان جیسے خطے میں ایک ہم آہنگ انقلابی قیادت کی تیاری کیلئے بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر لال خان ایک عہد ساز کردار کا نام ہے جن کی زندگی مختلف جہتوں اور جدوجہد مختلف ادوار کی صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں ضیاالحق کی آمریت کے خلاف عہد ساز جدوجہد کی۔ جب سوویت یونین ایک زندہ حقیقت کے روپ میں موجود تھا، ماسکو اور پیکنگ سے شائع ہونے والا لٹریچر پوری دنیا میں پھیلایا جاتا تھا اور بائیں بازو پر سٹالنزم کا غلبہ تھا اس وقت انقلاب مسلسل کے نظریہ کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ سوویت یونین کے کردار کی وضاحت بھی کی۔ جب سوویت یونین ٹوٹ کر بکھر گیا، دیوار برلن گر گئی، پوری دنیا میں تاریخ کے اختتام کی تھیوریاں پیش کی جا رہی تھیں، بڑے بڑے انقلابی این جی اوز میں چلے گئے، جدوجہد کا راستہ ترک کر دیا اور سرمایہ داری کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے تب ڈاکٹر لال خان نے ایک عہد ساز کردار ادا کیا اور سائنسی سوشلزم کے نظریات کا دفاع کرتے ہوئے پورے پاکستان میں انقلابی قیادت کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ انکی تحریریں، انکی جدوجہد سے مزئین پوری زندگی انقلابی نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے، جس پر چلتے ہوئے نہ صرف اس نظام اور معاشرے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کے محنت کشوں کو حقیقی مستقبل کی نوید دی جا سکتی ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ کامریڈ حیدر عباس گردیزی اور کامریڈ نتھو مل نے بھی ساری زندگی انقلابی جدوجہد میں صرف کی۔ حیدر عباس گردیزی کی تحریریں اور ان کی زندگی نوجوان انقلابیوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ کامریڈ نتھو مل بھی زندگی کی آخری سانس تک انقلابی جدوجہد میں مصروف رہے۔ اپنی موت تک وہ انقلابی نظریات پر کاربند اور محنت کشوں اور نوجوانوں کو اس نظام کے خلاف منظم کرنے میں مصروف جہد رہے۔ کامریڈ وارثی نے بھی ٹریڈ یونین کو منظم کرتے ہوئے ساری زندگی گزاری اور اپنی آخری سانسوں تک اس جدوجہد کا حصہ رہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ سال 2020ء نے اس خطے کے انقلابیوں اور محنت کشوں سے عظیم ساتھیوں کو جدا کیا ہے۔ ہم قائدین کو یہ وچن دیتے ہیں کہ ان کی اس جدوجہد کو حتمی فتح تک جاری رکھیں گے۔