تاریخ

اسلم رحیل مرزا کی وائرل ویڈیو: انقلابی بوڑھے کی رومانوی واپسی

فرخ سہیل گوئندی

اسلم رحیل مرزا کا یہ کلپ پچھلے دو چار دنوں سے وائرل ہوا ہے۔

وہ احباب جو ان کو جانتے نہیں اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جس شخص کا کلپ وہ مجھ سے شیئر کر رہے ہیں، وہ میرا انقلابی ساتھی ہے، جن کا انتقال چند سال قبل ہوا۔ وہ ایک محنت کش تھے۔ تمام عمر صرف اور صرف کمیونسٹ نظریات کے لئے جئے۔ ساری عمر سائیکل کی سواری کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ وہ مجھے جب بھی ملتے تو، مجھے دیکھ کر میری جدوجہد کو دیکھ کر داد دیتے۔ ایک دن جب میں معروف ترقی پسند دانشور کی ایک کتاب ’The Heroic Traditions of Punjab‘ کا ترجمہ ’پنجاب کی انقلابی تحریکیں‘ کا مسودہ پریس میں اشاعت کے لئے بھجوانے لگا تو آخری دن اسے ایکدم روک دیا۔ میں نے سوچا اس کتاب کا انتساب پنجاب کے ایک عظیم انقلابی سپوت اسلم رحیل مرزا کے نام کرتے ہیں اور پھر وہ کتاب اس انتساب کے ساتھ شائع ہو گئی۔

کتاب ان تک پہنچی تو میرے دفتر آ گئے۔ ہاتھ میں کتاب تھی بیٹھتے ہی کہنے لگے:’میں آپ کے ساتھ ایک گلہ کرنے آیا ہوں‘۔

میں نے کہا:’حکم؟‘

کہنے لگے: ’گوئندی صاحب! آپ نے اس کتاب کا انتساب میرے نام کیوں کیا ہے، اس کا انتساب تو پنجاب کے عظیم انقلابی بھگت سنگھ کے نام ہونا چاہئے تھا۔‘

میں نے عرض کیا:’آپ بھی بھگت سنگھ ہیں‘۔

اب یہ کلپ آیا تو سوچا لوگوں کویہ اطلاع کر دوں کہ ایک مارکسسٹ اسلم رحیل مرزا مرحوم بستر مرگ پر اس گیت میں محبوب کے جس عشق میں گرفتار ہیں وہ محبوب ان کا نظریہ (مارکسزم) ہی ہے۔

ایسے لوگوں کو جاننے والے کم ہیں۔ انہی کے بارے گیت ہے نا ’یار ڈاہڈی عشق آتش لائی ہے‘۔ ایک نظریاتی آدمی جس رومانس کا شکار ہوتا ہے وہ مارکسسٹ انقلاب سے رومانس کرنے والا ہی جان سکتا ہے۔ اسلم رحیل مرزا اس گیت کو بستر مرگ پر اس محبوب (مارکسزم) کے رومانس میں ہی اسے واہ واہ کہہ کر سن رہے ہیں، کسی حسینہ کے عشق میں نہیں۔ مارکسزم انسان، انسانیت اور اجتماعیت کا عاشق ہوتا ہے۔ انہوں نے جو ٹوپی پہن رکھی ہے اس پر مارکسسٹ ستارہ دیکھیں۔ یہ ہے عشق و محبوب اسلم رحیل مرزا جیسا۔