خبریں/تبصرے

روس: صدر پیوٹن کیخلاف 109 شہروں میں احتجاج، 3 ہزارسے زائد گرفتار

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اتوار کے روز روس کے 109 سے زائد شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں، پولیس تشدد اور جھڑپوں کے دوران 3 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مظاہرین صدر ولادی میر پیوٹن کی کرپشن اور کرپشن کے خلاف تحریک کے محرک اپوزیشن رہنما ایلکسی اے ناوالنی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق 11 ٹائم زونز والے ملک کے مشرقی علاقوں میں یہ مظاہرے شروع ہوئے اور پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی اور ریاستی میڈیا پر احتجاج میں شرکت سے روکنے کی خوفناک دھمکیوں کے باوجود پورے ملک میں ایک لہر کی طرح پھیل گئے۔

علاقائی حکومتی عمارات کے سامنے جمع ہونے والے ہزاروں افراد نے ”پیوٹن ایک چور ہے“ سمیت دیگر نعرے لگائے۔ پولیس نے مظاہرین کو تشدد کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر برف کے گولوں سے جوابی وار کئے۔

مظاہروں کے دوران گرفتاریوں کی معلومات اکٹھی کرنے والے ایک سرگرم گروپ او وی ڈی انفو کے مطابق کم از کم 109 شہروں میں 3 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ناوالنی کے حامیوں کے علاقائی دفاتر سے متعدد ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس ہفتے کے آخر میں مزید احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ مظاہرے کرپشن کے خلاف مہم کے محرک 44 سالہ ناوالنی کو جرمنی سے ماسکو پہنچنے کے بعد گرفتار کئے جانے کے بعد شروع ہوئے۔ ناوالنی کو روسی ایجنٹ کے ذریعے مبینہ زہر کھلائے جانے کے بعد کئی ماہ جرمنی میں گزارنے پڑے تھے۔ انہوں نے گزشتہ سال اگست میں سائبیریا میں زہر کھلائے جانے کو روسی ریاست کی طرف سے قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا تاہم حکومت نے اس کی تردید کر دی تھی۔

ناوالنی نے ملک بھر میں اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں سڑکوں پر نکلیں اور بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کریں۔ ناوالنی طویل عرصہ سے صدر پیوٹن کے شدیدنقاد ہونے کی وجہ سے روس کے واحد اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں انکی مقبولیت میں اسوقت مزید اضافہ ہو گیا جب وہ زہر خورانی کے حملے سے بال بال بچ گئے اور روس واپس بھی لوٹے، حالانکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ انہیں ماسکو واپس جانے پر گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

روسی سرکاری میڈیا نے احتجاج کے ذریعے حکومت کے کسی بھی قسم کے دباؤ میں آنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کو جارحیت کی لہر قرار دیا اور شرکا کو جیلوں میں ڈالے جانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سرکاری ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس افسر پر حملہ کرنا ایک جرم ہے، سینکڑوں ویڈیوز موجود ہیں، تمام شر پسندوں کے چہرے صاف نظر آ رہے ہیں۔

امریکہ نے روس میں مظاہرین اور صحافیوں کے خلاف سخت ہتھکنڈوں کی مذمت کی جبکہ روسی وزارت خارجہ نے مظاہرین کو بنیاد پرست عناصر قرار دیتے ہوئے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ احتجاج کو بھڑکانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ماسکو جیل کے باہر مظاہروں اور تشدد کے دوران کم از کم 39 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ماسکو جیل کے باہر مظاہرین پر پولیس تشدد اور مارپیٹ کی کئی ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔