تاریخ

اگر میرے نانا فیض احمد فیض زندہ ہوتے تو فلسطین کے لئے آواز اٹھا رہے ہوتے

میرا ہاشمی

میرے نانا…فیض احمد فیض…کئی سالوں کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد 1984ء میں وطن لوٹنے کے لگ بھگ ایک سال بعد ہی وفات پا گئے۔ لبنان کے دارلحکومت بیروت میں وہ کئی سال ادبی جریدے لوٹس کے مدیر کے طور پر مقیم رہے اور وہیں میں انہیں اور ماما (ایلس فیض) کو اپنے بھائی یاسر اور والدہ کے ہمراہ ملنے گئی۔ یہ 1980ء،موسم گرما کی بات ہے۔ اس وقت میری عمر چھ سال تھی۔

بچپن کی کوئی یاد آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے تو وہ نانا نانی سے بیروت میں ہونے والی ملاقات ہی ہے۔

مجھے چھٹی منزل پر واقع وہ چھوٹا سا مگر آرام دہ اور مہمان نواز فلیٹ آج بھی یاد ہے جس کے سامنے کی جانب ایک چھوٹی سی بالکونی تھی جہاں سے بحیرہ روم کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ میرے نانا شام کو اس بالکونی سے شام ڈھلنے کا نظارہ دیکھتے۔

اتنا چھوٹا باورچی خانہ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا جبکہ باتھ روم کی ٹونٹیوں سے کھارا پانی بہتا تھا۔ نانا کے پاس ایک ڈرائیور بھی تھا، موسیٰ اور ایک سیکرٹری تھی جس کا نام تھا ریٹا۔ میں اکثر ریٹا کے ساتھ وقت بتاتی۔ وہ بہت خوبصورت بھی تھی اور خوش مزاج بھی۔

ہر اتوار ماما ہم دونوں بچوں کے لئے ساسیج بناتیں، ساتھ چپس ہوتے۔ ہم دونوں ٹیلی ویژن پر ’دی انکریڈیبل ہلک‘ (The Incredible Hulk) دیکھتے ہوئے یہ ڈنر ہڑپ کرتے۔

نانا زیادہ وقت اپنے دفتر میں بتاتے۔ یہ دفتر اس ہال کی دوسری جانب تھا جو گھر اور دفتر کے بیچ میں حائل تھا۔ زیادہ دور نہیں جانا پڑتا تھا۔ کاغذ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ میں کاغذوں پر ڈرائنگ کرتی رہتی اور جب بھی ریٹا سے مزید کاغذ مانگتی وہ بخوشی میری فرمائش پوری کر دیتی۔ ریٹا اپنے ملحقہ دفتر میں ٹائپ رائٹر پر انگلیاں چلاتی رہتی جبکہ نانا اپنے بڑے سے میز پر کام کر رہے ہوتے اور میں نیچے قالین پردراز کاغذ پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتی رہتی۔

ایک بار نانا بولے: ’جاو! ریٹا سے پوچھو میری کافی تیار ہوئی کہ نہیں؟‘ عمر کے اس حصے میں مسلسل سگریٹ نوشی کی وجہ سے ان کی آواز تھوڑی کھردری سی ہو چکی تھی۔ میں سمجھی، انہوں نے کہا ہے: ’جاؤ! ریٹا سے پوچھو میری کاپی تیار ہوئی کہ نہیں؟‘

میں اچھے بچے کی طرح ریٹا کے پاس گئی اور پوچھا کہ کاپی تیار ہوئی کہ نہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ریٹا کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کس کاپی کی بات ہو رہی ہے۔ اس نے حیرت سے پوچھا ”کس چیز کی کاپی“۔

یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ تھا۔ اس لئے میں نے اپنا سوال اور زور سے دہرایا۔ اتنے میں مجھے ساتھ والے کمرے سے نانا کے ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ پہلے وہ ہنسے اور پھر ان کا زبردست قہقہہ سنائی دیا۔ وہ میری ناکام پیغام رسانی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

یقینا اور خوش قسمتی سے، ان دنوں مجھے ہرگزیہ ندازہ نہیں تھا کہ میرے نانا نانی لاہور سے بیروت کس مجبوری کے تحت چلے آئے تھے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ لبنان میں بھی خانہ جنگی چل رہی تھی گو جب ہم وہاں گئے تو عارضی جنگ بندی تھی۔ اس خانہ جنگی میں فلسطین کے لئے ہونیوالی جدوجہد ایک اہم عنصر تھی۔

مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ نانا پاکستان میں ضیا آمریت کے نشانے پر ہیں۔ دن بدن خطرناک اور جنونی ہوتی ہوئی یہ آمریت نانا کو اپنے لئے خطرناک سمجھتی تھی۔ یاسر عرفات اور فلسطین کے لئے تحریک آزادی فلسطین (پی ایل او) کے ساتھ نانا کی وابستگی کا بھی مجھے کوئی اندازہ نہ تھا۔ مجھے یہ تو اندازہ تھا کہ شہر کی اکثر سڑکوں کی دونوں جانب ریت کی بوریاں قطار اندر قطار پڑی ہیں، سڑکوں کے دونوں جانب خاردار تاریں کھنچی ہوئی ہیں اور ہر دم وہاں وردی میں ملبوس مسلح پہرے دار کھڑے رہتے ہیں جبکہ نانا کی بالکونی سے سمندر کے پانیوں کے اوپر اسرائیلی گن شپ پرواز کرتے بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

مجھے یہ بھی اندازہ تھا کہ اکثر لوگ جو نانا سے ملنے آتے یا شام کو نانا جن کی دعوت پر جاتے، ان کے گلے میں سکارف ہوتا اور سکارف کے کنارے سبز، سیاہ اور سرخ رنگ کے ہوتے۔ گو مجھے اس سکارف بارے تجسس تو بہت تھا مگر ایک شرمیلا بچہ ہونے کی وجہ سے کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ پوچھوں آپ لوگ ہمیشہ یہ سکارف کیوں پہنتے ہیں۔ ہاں ایک بار مجھے بھی یہ سکارف تحفے میں ملا تو بدن میں سنسنی سے دوڑ گئی۔

بیروت کا یہ سفر کئے 41 سال بیت گئے۔ اب تو خیر مجھے بخوبی معلوم ہے اس سکارف کو کفایہ کہتے ہیں اور اور اس کے کنارے پر تین رنگ فلسطینی عوام کی آزادی، وقار، غلامی سے نجات اور تشدد سے پاک مستقبل کی غمازی کرتے ہیں۔ اب تو مجھے معلوم ہے کہ تاریخ میں ان کا کیا نقصان ہوا اور کس طرح وہ اَسی سال سے اسرائیلی نسل پرست نظام کا شکار ہیں۔ اب مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ فلسطینیوں کی کئی نسلیں مہاجر کیمپوں میں پیدا ہوئیں اور دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یہ بھی میرے علم میں ہے کہ گذشتہ سولہ سال سے غزہ ایک بد ترین ناکہ بندی کا شکار ہے۔ اس ناکہ بندی کے دوران کتنے ہی لوگ اسرائیلی صوابدید پر بے گھر کر دئیے گئے، گرفتار ہوئے اور ان کے ساتھ ایسے سلوک کیا گیا گویا ان کا وجود ہی بے معنی ہے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ عالمی طاقتیں جنہوں نے ہولوکاسٹ کے خوفناک مظالم کے بعد کہا تھا ’ایسا پھر کبھی نہیں ہو گا“، اسرائیلی مظالم پر نہ صرف چپ سادھے ہوئے ہیں بلکہ وہ ان مظالم میں شریک ہیں۔

اور مجھے یقین ہے اگر میرے نانا زندہ ہوتے تو وہ اہل فلسطین کے لئے آج بھی آواز اٹھا رہے ہوتے۔ مجھے معلوم ہے وہ فلسطین کے لئے کیسا درد دل رکھتے تھے۔ یہ مجھے اس لئے بھی معلوم ہے کہ میرے دل میں بھی فلسطین کے لئے ایسا ہی درد ہے۔ اگر کسی بھی شخص میں انسانیت اور ضمیر ہے تو اسے بھی یہ درد ایسے ہی شدت سے محسوس ہوتا ہو گا۔

جدجہد جاری ہے۔ جیت بھی زیادہ دور نہیں…

دور دیس کی بے مہر گزرگاہوں میں
اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں
جس زمیں پر بھی کھلا میرے لہو کا پرچم
لہلہاتا ہے وہاں ارض فلسطیں کا علم
تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطین برباد
میرے زخموں نے کئے کتنے فلسطین آباد

Mira Hashmi

میرا ہاشمی لاہور سکول آف اکنامکس میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور فلم اسٹڈیز پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے کنکورڈیا یونیورسٹی مونٹریال کے میل ہوپن ہیم اسکول آف سینما سے گریجویشن کی۔ وہ مختلف جرائد میں عرصہ تیس سال سے فلم کے موضوع پر لکھ رہی ہیں۔ وہ الفریڈ ہچکاک اور انڈین فلموں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں، ایک کا نام انہوں نے اپنے نانا کے نام پر رکھا ہے۔ دوسرے کا نام ”Buffy The Vempire Slayer“ نامی فلم کے ایک کردار پر رکھا گیا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ”Gulzar's Ijazat: Insights into the Film“ سال 2019ء میں شائع ہوئی۔