خبریں/تبصرے

ڈہرکی ٹرین حادثہ: پاکستان کی’ہیرو فیملی‘ پر الجزیرہ کی رپورٹ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سندھ کے ضلع گھوٹکی کے نزدیکی علاقے ڈہرکی میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو گئے تھے۔ جائے حادثہ شہر سے 25 کلومیٹر دور واقع ہونے اور روڈ انفراسٹرکچراور موبائل فون سروس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہنگامی امداد پہنچنے میں بہت تاخیر ہوئی۔ تاہم جائے حادثہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر ایک درجن افراد پر مشتمل محمد نواز کے خاندان نے ابتدائی طبی امداد اور زخمیوں کو ریسکیو کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

الجزیرہ نے محمد نواز کے خاندان کو پاکستان کی ’ہیرو فیملی‘ قرار دیتے ہوئے انکی امدادی سرگرمیوں سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق محمد نواز کے خاندان نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچتے ہوئے شدید زخمی مسافروں کو ایک کار کے ذریعے ہسپتال پہنچانا شروع کیا جبکہ بظاہر کم زخمی افرادکو ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے سے ہسپتال پہنچایا گیا۔

گھر میں موجود خواتین نے پانی بھرکر لانے کی ذمہ داری سنبھالی تاکہ زخمیوں کو پانی فراہم کیا جا سکے۔

63 سالہ نواز نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ”ہم نے فوری طور پر ایک چین بنائی، خواتین آدھے راستے تک پانی لاتی تھیں جہاں سے مرد مسافروں تک پانی لے کر جاتے تھے۔ حادثے میں محفوظ رہنے والے مسافر بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے جنہوں نے بوگیوں میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے میں مدد کی۔ بوگیوں کی سیٹوں کو بستروں میں تبدیل کیا گیا تاکہ زخمیوں کو لٹایا جا سکے جبکہ لاشیں زمین پر رکھ کر انہیں احترام کے ساتھ ڈھانپنا شروع کر دیا گیا۔“

نواز کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ”میں نے دن رات کام کیا اور مسلسل کھانا اور چائے بناتی رہی اور میرے شوہر اور خاندان کے دیگر مرد متاثرین اور امدادی کارکنوں تک ترسیل کرتے رہے۔“

انکا کہنا تھا کہ ”فجر کے بعد ایک زخمی مسافر اور اس کے تین بچے ہمارے گھر لڑکھڑاتے ہوئے پہنچے، مسافر خاتون کی چھوٹی بیٹی کو اپنی گائے کا دودھ پلایا، عورت کے چہرے پر دھول جمی تھی جسے دھلوایا اور اس کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے لہٰذا میں نے اسے اپنے جوتے دیئے۔“

ایک فوجی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امدادی سرگرمیوں میں غیر معمولی کردار ادا کرنے پر اس خاندان کو 50 ہزار روپے انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محمد نواز کی اہلیہ حبیبہ مائی کے بہنوئی نے کہا کہ ”وہ ایک ہیرو ہیں“، حبیبہ مائی اپنی بیٹی کے پاس کھڑی منگل کی شام کو بھی گھر کے باہر جمع ہونے والے افراد کو چائے دے رہی تھی، مسلسل آگ جلنے کی وجہ سے دھوئیں سے ان کے گھر کی دیواریں سیاہ ہو چکی تھیں۔

حبیبہ مائی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ”میری انگلیاں دن رات چولہے کے پاس بیٹھے رہنے کی وجہ سے جل چکی ہیں، ہم سے جو کچھ ممکن ہو سکا ہم نے کیا۔“