خبریں/تبصرے

پیرو انتخابات: 10 روز بعد بھی نتائج پر تنازعہ، منتخب صدر کو اقتدار نہ دینے کی چہ مگوئیاں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لاطینی امریکہ کے ملک پیرو میں رواں ماہ 6 جون کو منعقد ہونیو الے انتخابات کے نتائج ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ بائیں بازو کے نظریات کے حامل سکول ٹیچر پیڈروکاسٹیلو کی فتح کے خلاف دائیں بازو کی امیدوار کیکوفوجیموری کے حامیوں کی سیکڑوں کی تعداد میں بے ضابطگیوں کی درخواستیں بھی خارج کر دی گئی ہیں۔ مسلح افواج نے بھی فوجی بغاوت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ابھی بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ پیرو میں ’کو‘ کروانے کی کوشش کرے گا۔

ٹیلی سور کے مطابق مسلح فوج نے ملک میں فوجی بغاوت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”انتخابات میں مسلح افواج کا مثالی کردار انتخابی امیدواروں کے ووٹرز کے تحفظ اور انہیں آزادانہ ووٹ کے استعمال کی ضمانت دیتا ہے۔ اس انتخابی عمل میں ان کا مشن پورا ہو چکا ہے۔“

ابھی تک انتخابی حکام نے 99.95 فیصد ووٹوں کے نتائج شائع کر دیئے ہیں جس میں آزاد امیدوار اور سکول ٹیچرز کی یونین کے سابق رہنما پیڈروکاسٹیلو 50.14 ووٹ حاصل کر چکے ہیں اور انہو ں نے سابق ڈکٹیٹر کی بیٹی اور ارپ پتی دائیں بازو کی امیدوار کیکوفوجیموری کے خلاف 48220 ووٹوں کی برتری حاصل کی ہے، جنہیں 49.86 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

انتخابی حکام کے جاری نتائج کے باوجود دائیں بازو کی سیاستدان اپنی شکست قبول نہیں کر رہی ہیں اور انہوں نے انتخابی ریکارڈ کے کمپیوٹرآئزڈ آڈٹ کی درخواست بھی دی ہے۔ اس سے قبل کیکو فوجیموری کے حق میں 2 لاکھ ووٹ منسوخ کروانے کیلئے 800 سے زائد مقامات پر درخواستیں دائر کیں لیکن اکثریتی درخواستوں کو ثبوت نہ ہونے پر انتخابی جیوریوں نے مسترد کر دیا۔

پیرو میں ہونے والے حالیہ انتخابات ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ سیاسی تقسیم (پولرائزیشن) کو بھی واضح کیا ہے۔ دونوں امیدواروں کے حق میں ہزاروں کی تعداد میں حمایتیوں کے جلوس منعقد کئے جا رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق بین الاقوامی مبصرین نے انتخابات میں کسی بھی سنگین بے ضابطگی کے امکان کو رد کر دیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن فاتح امیدوار کا باضابطہ اعلان کب تک کرے گا۔ کاسٹیلو نے غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کیلئے گنتی کا عمل جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پیرو اس وقت کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک کے ساتھ ساتھ سنگین معاشی اور سیاسی بحران کے علاوہ گہری سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ تاہم شہری ابھی تک انتظار کر رہے ہیں کہ اس ملک کے مسند اقتدار پر بائیں یا دائیں بازو کے امیدواروں میں سے کون براجمان ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کے امیدواروں کی فتح کے خلاف امریکہ کی جانب سے معاشی اور سیاسی پابندیاں لگوانے، فوجی بغاوتیں کروانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے سازش کا حصہ بننے کا ایک پرانا ریکارڈ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیرو کے انتخابی نتائج میں ہونے والی تاخیر اور فوجی سے مداخلت کے مطالبات کے بعد یہ صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ وینزویلا میں بائیں بازو کی حکومت کے خلاف معاشی پابندیوں اور حکومت گرانے کیلئے دائیں بازو کے رہنماؤں کی حمایت کے علاوہ بائیں بازو کے حکومتی سربراہوں کو قتل کروانے جیسی سازشوں کے انکشافات بھی ہو چکے ہیں۔ 2019ء میں ایک لاطینی ملک بولیویا کے انتخابات میں فتح حاصل کرنے والے بائیں بازو کے امیدوار ایوا مورالس کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد انہیں سے زبردستی استعفیٰ لیکر ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ پیرو کے انتخابی نتائج کے باضابطہ اعلان اور نومنتخب صدر کے مسند اقتدار سنبھالنے تک یہ خدشات بھی موجود رہیں گے۔