پاکستان

بحریہ اور ڈی ایچ ایز لیون ٹراٹسکی کے عدسے سے

سعید خاصخیلی

بالشویک انقلاب کے قائد کامریڈ لیون ٹراٹسکی نے مارکسی نظریات کی ترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس میں ان کا ایک انتہائی اہم کام انسانی تاریخ کی ترقی کے قانون کی دریافت ہے۔ جس کو انہوں نے ناہموار اور مشترک ترقی کے قانون کا نام دیا۔ جو دراصل دو قوانین ’ناہمواریت کے قانون‘ اور ’مشترک ترقی کے قانون‘ کا امتزاج ہے۔ اس قانون کی وضاحت کرتے ہوئے ٹراٹسکی اپنی تصنیف انقلاب روس کی تاریخ میں لکھتا ہے،”تاریخ کے قوانین کسی طور بھی بنے بنائے کتابی خاکے نہیں ہوتے۔ ناہمواری، جو تاریخی عمل کا سب سے عمومی قانون ہے، پسماندہ ممالک کی تقدیر میں سب سے پیچیدہ اور واضح انداز میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ بیرونی ضرورت کے کَوڑے کے تحت ان کی پسماندہ تہذیب چھلانگیں لگانے پر مجبور ہوتی ہے۔ یوں ناہمواری کے آفاقی قانون سے ایک اور قانون برآمد ہوتا ہے۔ جسے ہم کسی بہتر نام کی عدم موجودگی میں مشترک ترقی کا قانون بھی کہہ سکتے ہیں۔ جس سے ہماری مراد سفر کے مختلف مراحل کا اکٹھا ہوجانا، الگ الگ قدموں کا مل جانا، قدیم اور جدید صورتوں کا یکجا ہوجانا ہے۔ اس قانون کے بغیر روس یا دوسرے، تیسرے یا دسویں تہذیبی درجے کے کسی ملک کی تاریخ کو سمجھنا ناممکن ہے۔“

یہ فطری، جغرافیائی، ماحولیاتی اور تاریخی اسباب ہوتے ہیں جو انسانی تاریخ کے آگے بڑھنے کے عمل میں پیداواری قوتوں کے کچھ حصوں کو قدرے تیز جبکہ کچھ حصوں کو سست ترقی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان عناصر کی ترقی کا یہ فرق ایک پورے تاریخی عہد کے یا تو پھیلنے کا سبب بنتا ہے یا پھر اس عہد کو اور بھی محدود کر دیتا ہے۔ سماج کی مختلف پرتوں کو ترقی کی مختلف سطحوں پر لا کھڑا کرتا ہے اور یہی کچھ معیشت کے مختلف حصوں، سماجی اداروں، ثقافت کی مختلف قدروں اور طبقات کے ساتھ کرتا ہے۔ پھر یہ فرق سماج میں مختلف تضادات اور مظاہر کے ابھرنے کی بنیاد بنتا ہے اور معاشرے کو ایک نئی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔

ویسے تو ناہمواریت دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کے اندر بھی کسی نہ کسی شکل میں ہمیں نظر آتی ہے جیسے جاپان اور کئی یورپی ممالک میں بادشاہت کے ادارے کا موجود رہنا۔ لیکن پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کے معاشروں میں یہ بہت واضح انداز میں اپنا اظہار کرتی ہے۔ اگر زیادہ دور نہ جایا جائے تو وزیر اعظم ہائوس اور بالخصوص ملکی پارلیمنٹ اس کی واضح مثالیں ہیں جہاں اسمبلی میں بیٹھا ہوا زمیندار بورژوازی کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس سماج کے ہر شعبے اور ادارے میں یہی بے ہنگم ترقی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ جس سے سماجی تضادات کی نئی اشکال جنم لے رہی ہیں۔ ان تضادات کی ایک کیفیت ہمیں ملک میں تیزی سے پھیلتے ہوئے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں اپنی انتہائی بھیانک شکل میں نظر آتی ہے۔ جس تیزی سے ان ہائوسنگ سوسائٹیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اسی تناسب سے لوگ بے گھر بھی ہو رہے ہیں۔ جس رفتار سے شہر پھیلتے جا رہے ہیں اتنی تیزی سے انفراسٹرکچر کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ یوں تو سرمایہ دارانہ نظام ویسے ہی اپنے جوہر میں انارکی پر مبنی نظام ہے مگر یہاں ناہموار انداز میں آگے بڑھنے کی وجہ سے یہ نظام اور بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا جا رہا ہے۔

جھونپڑ پٹیوں اور جدید ہائوسنگ سوسائٹیوں کا تضاد

2020ءکے اعداد و شمار کے مطابق 1990ءمیں دنیا کی 650 ملین آبادی”سلمز“ یعنی جھگیوں میں رہنے پر مجبور تھی اور 2020ءمیں یہ تعداد تقریباً دگنی ہوکر ایک ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اس آبادی کے آدھے سے زیادہ حصے کا تعلق بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس وقت شہروں کی چالیس فیصد آبادی ان جھگیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اس میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سب سے بری صورتحال سب سے متمدن شہرکراچی کی ہے جس کا شمار اب دنیا کے تین سب سے بڑے گنجان آبادی کے شہروں میں ہوتا ہے۔ 1978ءمیں اس شہر کی 55 فیصد آبادی کچی بستیوں میں رہائش پذیر تھی جبکہ آج یہ تعداد ساٹھ فیصدسے تجاوز کر چکی ہے۔ شہر کی اتنی بڑی آبادی زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے نظام سے بالکل محروم ہے۔ یہ اس ملک کے حکمرانوں کی نااہلی اور ناکامی تھی کہ وہ نہ تو زرعی اصلاحات لا کر ملکی زراعت کو سائنسی بنیادوں پر ترقی دے کر شہر اور دیہات کے تضاد کو کم کرسکے کہ جہاں لوگوں کو تعلیم، علاج اور انفراسٹرکچر کی بہتر سہولیات میسر ہوسکتیں اور لوگ دیہات سے اتنی بڑی تعداد میں ہجرت کرنے پر مجبورہی نہ ہوتے۔ ان کی دوسری نااہلی ملک میں ادھوری صنعتکاری اور صنعتکاری کے پھیلائو میں انتہائی ناہموار ترقی تھی۔ ملک بننے کے پہلے چند سالوں میں صرف کراچی میں سات سو سے زائد صنعتی یونٹ لگائے گئے۔ یہ ملک کے دوسرے شہروں (بشمول مشرقی پاکستان) میں لگائے گئے صنعتی یونٹوں کے پچاس فیصد سے بھی زیادہ تھے۔ جس کا ناگزیر نتیجہ اس شہر میں آبادی کے اضافے کی صورت میں نکلنا تھا۔ ستر سال کے عرصے میں کراچی ایک سو مربع کلومیٹر سے بڑھ کر 3527 مربع کلومیٹر تک پھیل چکا ہے اور مزید پھیلتا جا رہا ہے۔ قریب قریب یہی صورت حال ملک کے چند باقی صنعتی شہروں کی بنتی جا رہی ہے۔ 2020ءکے سیلاب کے بعد بھی شہروں کی طرف ہجرت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان جنوب ایشیا میں شہری آبادی کے تناسب سے سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور 2030ءتک ملک کی پچاس فیصد سے زائد آبادی کا شہروں میں رہائش پذیر ہونے کا امکان بتایا گیا ہے۔

شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو چھت میسر کرنے کے لئے ڈان اخبار کے اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں سالانہ تین لاکھ پچاس ہزار گھروں کی ضرورت ہے۔ اسی طلب کو پورا کرنے کے لئے عمران خان کی حکومت نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا جو اس نظام میں نہ تو بن سکتے ہیں نہ کبھی بنیں گے۔ اب ایک طرف انفارمل سیکٹر ہے تو دوسری طرف فارمل سیکٹر (بحریہ، ڈیفنس اور ان جیسے دوسرے بلڈر) جو رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اگر صرف کراچی کی بات کی جائے تو اس شہر میں گھروں کی سالانہ طلب اسی ہزار یونٹوں کی ہے۔ اس میں فارمل ہائوسنگ سیکٹر کا حصہ بتیس ہزار یونٹ ہے جبکہ باقی رسد انفارمل سیکٹر یعنی کچی آبادیوں کی تعمیر سے پوری ہوتی ہے۔ اگر ان دونوں سیکٹروں میں زمین کی تقسیم کا تناسب دیکھیں تو حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔ شہر کی 65 فیصد آبادی محض 22 فیصد قابل رہائش زمین پر آباد ہے اور 90 فیصد آبادی زیادہ سے زیادہ 90 مربع گز کے پلاٹوں پر بنے ہوئے بنکر نما گھروں میں اذیت ناک کیفیت میں جینے پر مجبور ہے۔ دوسری طرف صرف دو فیصد اشرافیہ 2000 اسکوائر یارڈ کے پر آسائش محلات میں رہائش پذیر ہے۔

ان میگا ہائوسنگ پراجیکٹوں کے پھیلائو اور کراچی میں اتنی بڑی بے گھری کے باوجود اس ترقی کا تضاد یہ ہے کہ اس وقت 68 ہزار ایسے گھر اور رہائشی فلیٹ ہیں جو خالی پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اتنی تیزی سے بڑھتے ہوئے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں صرف ایک فیصد ہی ایسی سکیمیں بنائی جاتی ہیں جو ملک کی 68 فیصد آبادی خرید کرنے کی استطاعت رکھتی ہے اور صرف بارہ فیصد کی آبادی کے لئے 56 فیصد اسکیمیں بنائی جا رہی ہیں۔ یہ پلاٹ وہ لوگ خرید کر سکتے ہیں جن کی ماہانہ آمدن دو لاکھ روپے سے زیادہ ہو۔

مغربی طرزِ تعمیر اور جدید سہولیات سے آراستہ یہ ہائوسنگ سوسائٹیاں، جن کو ”Gated Communities“ کا نام دیا جاتا ہے، اس پسماندہ سماج میں طبقاتی تفریق کو اور بھی زیادہ ننگا کر کے غلاظت میں زندگی بسر کرتے ہوئے محنت کش طبقے کے سامنے پیش کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ جب دیوار کے ایک طرف زندگی کی ہر آسائش، ہر خوبصورتی اور ہر سکون موجود ہو اور زندگی کو ہرطرح کا تحفظ فراہم ہو اور اسی دیوار کے دوسری طرف زندگی انتہائی بنیادی ضروریات کے لئے بھی سسک رہی ہو اور گلیاں غلاظت سے بھری ہوئی ہوں تو اس تضاد، ان محلات اور ان کے اندر رہنے والوں سے نفرت اور حقارت کا جنم لینا ناگزیر ہوتا ہے۔ پھر یہ نفرت کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی انداز میں اپنا اظہار ضرور کرتی ہے۔

رئیل اسٹیٹ کا کاروبار اور کالے دھن کی کارگزاری

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں منافع خوری کی شرح سو فیصد تک ہے۔ ملکی معیشت کی بدتر ہوتی ہوئی صورتحال کے باوجود اس کاروبار میں بے تحاشہ اضافہ یقیناً حیرانگی کا باعث ہے۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے جس کو سارے معیشت دان تسلیم کر رہے ہیں کہ ملکی پیداوار کا 70 فیصد تک غیر دستاویزی یا کالے دھن کی معیشت پر مشتمل ہے۔ اگر اس کالی معیشت کو سرکاری دستاویزات میں لانے کی کوشش کی گئی تو ملکی معیشت بیٹھ جائے گی۔ یہ کوشش مختلف حکومتوں کی جانب سے بار بار کی گئی لیکن ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جیسے نواز شریف کے پچھلے دور حکومت میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو ریگولرائز کرنے اور پراپرٹی کی خرید و فروخت پر مختلف قسم کے ٹیکس لگانے کے فیصلے کے بعد یہ مارکیٹ بری طرح سے متاثر ہوئی اور اس کے کاروبار میں پچاسی فیصد کمی واقع ہوئی تو اس کے بعد حکومت کو مجبور ہو کر ٹیکسوں میں چھوٹ دینا پڑی۔

کالے دھن کو سفید کرنے کی واردات اگر معیشت کے کسی حصے میں سب سے زیادہ ہے تو وہ اس رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ کاروبار ملک کی مجموعی جی ڈی پی سے تین گنا زیادہ بڑھ چکا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق رئیل اسٹیٹ کاروبار کی مارکیٹ کیپٹیلا ئزیشن ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ 2017ءمیں ایف بی آر کے ایک نمائندے نے پارلیمان کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ اعتراف کیا تھا کہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر کالا دھن انجیکٹ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو سے بہت اوپر جا رہی ہیں اور پراپرٹی خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے اور یہ بلبلہ کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔مثلاً کراچی کی ایک سب سے بڑی ہائوسنگ سوسائٹی ڈی ایچ اے کے فیز آٹھ میں پانچ سو مربع گز کے پلاٹ کی مارکیٹ میں قیمت ستر ملین روپے ( سات کروڑروپے) ہے۔ اس حساب سے ایک مربع گزکی قیمت ایک لاکھ چالیس ہزار روپے بنتی ہے ۔ جبکہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک مربع گز کی قیمت ایک ہزار نو سو اسی روپے مقرر کی گئی ہے۔ اب گورنمنٹ کو ٹیکس بھی اسی ریٹ کے حساب سے موصول ہوتا ہے جو ریٹ گورنمنٹ کا مقرر کردہ ہے جو تقریباً پچاس ہزار روپے بنتا ہے۔ جبکہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ٹیکس پینتیس لاکھ روپے بن رہا ہے۔ اس سوسائٹی کے صرف ایک فیز میں پانچ سو مربع گز کے روزانہ کی بنیاد پر بیس پلاٹوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور صرف اسی فیز سے بیس ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے اور سالانہ 414 ارب روپے کا کالا دھن اس فیز میں شامل ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک سوسائٹی کے ایک فیز کی کہانی ہے۔

اسی طرز کا پراجیکٹ راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پراجیکٹ ہے جو لاہور ڈسٹرکٹ میں بنایا جا رہا ہے جو 100,000 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے اور پراجیکٹ کا تخمینہ تقریباً5700 ارب روپے یا 36 ارب ڈالر سے زائد کا لگایا گیا ہے۔ پراجیکٹ میں تقریباً 35 ملین لوگوں کی رہائش کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اگست 2020ءمیں افتتاح کے بعد سے اب تک 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے۔ یہ پراجیکٹ لاہور اور اس کے مضافات کے ماحول کو جو نقصان پہچائے گا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ فی الحال چھوٹے پیمانے پر اس پراجیکٹ کے خلاف وہاں کے رہنے والوں نے مظاہرے شروع کیے ہیں لیکن پراجیکٹ کی تفصیلات پبلک نہ ہونے کی وجہ سے ابھی مکمل طور پر لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ پراجیکٹ کس کس کوکس کس طریقے سے نقصان پہنچائے گا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ پراجیکٹ بھی اور تمام دوسرے پراجیکٹوں کی طرح مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو پر تعیش رہائش دینے اور کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے ہی بنایا جا رہا ہے جو آخر کار لاکھوں محنت کشوں اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو برباد اور ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کر ہی تکمیل تک پہنچے گا۔

پورے ملک میں پھیلتی ہوئی ایسی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے اندر کتنا کالا دھن ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اتنے بے پناہ سرمائے کی وجہ سے یہ وہ واحد سیکٹر ہے جو ملک میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ مختلف حکومتوں کی جانب سے بار بار ایمنسٹی سکیمیں دینے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی وجہ سے نہ صرف کنسٹرکشن بلکہ اس کے علاوہ دو سو پچاس صنعتیں ایسی ہیں جو سانس لینے کے قابل ہیں جیسے لوہے، سیمنٹ، پینٹ اور اینٹوں کی صنعت۔ اگر ریاست اس سیکٹر میں ہاتھ ڈالتی ہے تو اس کے ساتھ باقی یہ تمام صنعتیں بھی بیٹھ جائیں گی۔ اسی وجہ سے ان بلڈر مافیاﺅں کو ترقی کے نام پر لوٹ مار کرنے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔

ناہموار ترقی کی قیمت

اس لوٹ کھسوٹ کی واردات میں ہمیں سیاستدان، بیوروکریسی، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ ریاست کا کام ہی سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ انصاف کے ایوان عدالت عظمیٰ نے گجر نالے کے آس پاس آباد محنت کشوں کے گھر غیر قانونی قرار دے دیے ہیں جن کو زمین بوس کرنے کا عمل جاری ہے جس سے ایک لاکھ سے زائد آبادی کے بے گھر ہونے کا امکان ہے۔ ان کے لئے کسی متبادل جگہ کا کوئی بھی بندوبست نہیں کیا گیا ۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اب کیسے اپنے لئے چھت ڈھونڈیں گے یہ ریاست کے سر کا درد نہیں۔ اسی عدالت عظمیٰ نے کچھ عرصہ قبل ملک ریاض کے ہزاروں ایکڑ اراضی کے غیر قانونی قبضے کو قانونی بنایا ہے۔ جس نے ریاستی اداروں، سندھ حکومت اور مقامی جاگیرداروں اور وڈیروں کی معاونت سے سینکڑوں دیہاتوں کو راتوں کے اندھیروں میں زمین بوس کر دیااور اس قبضہ گیری کے خلاف آواز اٹھانے پر انہی کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے۔ اس ترقی کی قیمت محنت کش طبقہ ایک لمبے عرصے سے ادا کرتا آ رہا ہے۔ سینکڑوں کچی آبادیوں کو لیز نہ ہونے کی وجہ سے بلڈوز کیا گیا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ صرف کراچی میں 1997ءسے 2010ءکے تیرہ سال کے مختصر عرصے کے دوران جھگیوں پر مشتمل آبادیوں کو قبضہ مافیا کی طرف سے جلانے کے 3570 واقعات ہوئے ہیں۔ ملیر ایکسپریس وے اور شاہراہوں کو چوڑا کرنے کے نام پر ہزاروں مفلسی کے مارے محنت کشوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایم ایل ون کراچی سے پشاور تک ریل کی پٹری کی تعمیر میں پورے ملک میں دس لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ صرف سکھرڈسٹرکٹ میں ہزاروں گھروں کو منہدم کرکے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا جاچکا ہے اور یہ سلسلہ 2010ءکے سیلاب کے بعد سے جاری ہے۔ یہ ترقی صرف نچلے طبقے کے لئے بربادی نہیں پیدا کر رہی بلکہ اس کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی اور شہروں کی ایکولاجی کی تبدیلی اور پیداواری وسائل کے بے پناہ زیاں کا سبب بھی بن رہی ہے۔

سرمائے کی یہ ہوس ہر آنے والے دن اور زیادہ تکلیف اور اذیت کا باعث بنے گی۔ اس ظالم نظام میں رہتے ہوئے اس تکلیف کو ایک لمحے کے لئے بھی کم یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک طبقاتی مسئلہ ہے جسے طبقاتی بنیادوں پر دیکھنے، سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثریت کی خوشحالی سے بیگانہ ترقی کا خاتمہ صرف سوشلسٹ سماج میں ہی ممکن ہے جہاں ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ بہترین رہائش ہر انسان کو میسر ہو گی، شہر اور دیہات کی تفریق ختم ہوجائے گی، جہاں وسائل ایک مٹھی بھر طبقے کی بجائے پورے معاشرے کے کنٹرول میں ہوں گے اور جہاں کوئی آہنی گیٹوں والی ہائوسنگ سوسائٹی نہیں ہو گی بلکہ پورا سماج گل و گلزار ہو گا۔