خبریں/تبصرے

چین پاکستان سے نالاں: ’سی پیک‘ جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کا اجلاس ملتوی کر دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ’سٹریٹیجک برین‘ سمجھی جانیوالی ’جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی‘ (جے سی سی) کا جمعہ کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کر دیا گیا۔ یہ اقدام ان چیلنجوں کی نشاندہی کر رہا ہے جو علاقائی سلامتی کی صورتحال میں تبدیلیوں کی وجہ سے دونوں ممالک کو درپیش ہیں۔

اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ ایک حادثے میں 9 چینی اور 5 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے ایک روز بعد کیا گیا۔ مذکورہ حادثے کو چین کے حکام نے بم حملے سے تعبیر کیا ہے لیکن ابتدائی طور پر پاکستان نے اسے گاڑی کے حادثے سے تعبیر کیا۔

’ایکسپریس ٹربیون‘ کے مطابق توقع کی جا رہی تھی کہ چین سی پیک کو دوبارہ سے منظم کرنے سی پیک لانگ ٹرم پلان کو موثر بنانے اور سی پیک منصوبہ جات پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو درپیش مسائل کو اٹھائے گا اور بجلی پیدا کرنے کے واجبات کو ختم کرنے میں تاخیر پر بھی بات کی جائیگی۔

سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹ کیا کہ ”سی پیک کے بارے میں دسواں جے سی سی اجلاس جو 16 جولائی 2021ء کو ہونا تھا اس کو عید کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔“

انکا کہنا تھا کہ’’حتمی شکل آنے پرنئی تاریخ شیئر کی جائیگی لیکن اس دوران تیاری جاری ہے۔“

ایک سینئر عہدیدار نے کے مطابق ”عاصم سلیم باجوہ کو جمعرات کے روز اس وقت جے سی سی اجلاس کے التوا کے بارے میں فون موصول ہوا جب وہ اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر جے سی سی کے معاملات حل کرنے کیلئے صوبوں کے اجلاس میں شریک تھے۔ عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے بس حملے کے معاملے کو جس طرح سنبھالا تھا اس سے چینی خوش نہیں ہیں۔

دسویں جے سی سی اجلاس کے ایجنڈے میں چینی شہریوں اور سی پیک کے اثاثوں کو سکیورٹی کی فراہمی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ مسودے میں تجویز کیا گیا تھا کہ چینی حکام کو اس بات پر تشویش ہے کہ علاقائی سلامتی کی صورتحال میں تبدیلیوں سے سی پیک کو درپیش سکیورٹی خطرات کو مزید تقویت ملے گی۔

واضح رہے کہ جے سی سی کا یہ اجلاس 20 ماہ کے وقفے کے بعد طے ہوا تھا، گزشتہ اجلاس نومبر 2019ء میں ہواتھا۔

چینی شہریوں کی ہلاکت کی وجوہات سے متعلق بھی متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ کوہستان میں سانحہ داسو بس میں دہشت گردی کے عنصر کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں دھماکہ خیز مواد کے آثار کی تصدیق ہوئی ہے۔

قبل ازیں پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ مکینکل ناکامی کی وجہ سے گیس کا اخراج ہوا جس کے نتیجے میں یہ دھماکہ ہوا۔

14 جولائی کو ہونے والے اس حادثہ میں 9 چینی شہریوں سمیت 13 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک کوچ انہیں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی زیر تعمیر سرنگ والی جگہ پر لے کر جا رہی تھی کہ ایک دھماکے کے بعد کھائی میں گر گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے اجلاس میں ان تمام امور پر غور کرنے کا فیصلہ کیا تھا جن کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں میں سی پیک سست روی کا شکار ہوا۔ 7 سال قبل سی پیک کے پہلے مرحلے کے تحت مجموری طو رپر 27 منصوبوں، 17 فاسٹ ٹریک اور 10 ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ فاسٹ ٹریک منصوبوں کو پہلے سال کے اندر مکمل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور ترجیحی منصوبوں کو دو سے تین سال میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

تاہم سی پیک کے 7 سال بعد صرف 4 فاسٹ ٹریک منصوبے مکمل ہو سکے ہیں جبکہ باقی 6 پر کام جاری ہے۔

وفاقی حکومت نے کورونا وبا کو سی پیک منصوبوں میں سست پیش رفت کا ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے سی پیک کو پالیسی کے طور پر بیک برنر پر دھکیل دیا ہے۔

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ سی پیک نے ابتدائی اہم اہداف حاصل کر لئے ہیں اور ترقی کے ایک نئی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک متفقہ ٹائم لائنز کے مطابق جلد عملدرآمد کیلئے تازہ ترین وعدے کرنے کو تیار تھے۔

عوام کی باہمی رابطہ کاری، میری ٹائم سیکٹرز میں ایمرجنگ ٹیکنالوجیز، مائننگ، معدنیات اور کے پی کے، پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے نئے شعبے بھی سی پیک کے فریم ورک میں شامل کئے جانے تھے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ 700 میگا واٹ کے آزاد پتن پن بجلی منصوبے کو بھی سی پیک کے فریم ورک میں شامل کرنے سے متعلق باقاعدہ فیصلہ لیا جائیگا۔

اب تک 9 پاور پراجیکٹس 5320 میگا واٹ صلاحیت کے حامل ہیں جو 8.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ چل رہے ہیں۔ 1920 میگا واٹ صلاحیت کے حامل تین اور منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ پاکستان کو بجلی کی فراہمی کا ایک تہائی حصہ سی پیک منصوبوں سے ملتا ہے۔

تاہم چینی حکام نے ٹیکس اور محصولات کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو ان بجلی گھروں میں چینی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا نے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیکس اور محصولات کی پالیسیوں کو بدستور برقرار رکھنے کا وعدہ کریگا۔

کوہالا ہائیڈل پراجیکٹ، آزاد پتن ہائیڈرو پراجیکٹ، ایس ایس آر ایل تھر کول بلاک ون 7.8 ایم ٹی پی اے، ایس ای سی مائن ماؤتھ پاورپراجیکٹ اور گوادر پاور پلانٹ اگلے توانائی منصوبے ہیں جو سی پیک کا حصہ ہونگے۔

چینی حکومت کے ذریعے سی پیک پاور پلانٹس کو اپریل کے آخر تک 208 ارب روپے کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق چینی فریق بینک قرض کی ادائیگی اور سی پیک توانائی منصوبوں کے معمول کے مطابق عمل کو یقینی بنانے کیلئے ٹیرف تصفیہ تناسب میں مزید اضافہ کی توقع کر رہا ہے۔